عمران عثمانی ۔چیمپئنز ٹرافی تاریخ،2004 میں جاکر پہلا پاک بھارت مقابلہ،انگلینڈ میں براہ راست کوریج۔کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ پھر 2004 آیا۔آئی سی سی اپنے ایونٹ چیمپئنز ٹرافی کو ترقی پذیر ممالک سے گھماتا آخرکار بڑے اہم ملک انگلینڈ لے گیا۔بنگلہ دیش،کینیا سےسری لنکا کے بعد اب انگلینڈ میزبان بناتھا۔یہی نہیں آئی سی سی کو احساس ہوچکا تھا کہ 3 ایونٹس پاکستان بمقابلہ بھارت میچ کے بنا گزرا تو شدید نقصان ہوا،چننچہ 2004 میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کو ایک گروپ مین رکھ کرکم سے کم ایک میچ لازمی کیا گیا۔
مابدولت کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2004 کی کوریج کرنے کیلئے انگلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔نیٹ ویسٹ سیریز 2001 اور کامن ویلتھ گیمز مانچسٹر 2002 کی کوریج کی وجہ سے اب انگلینڈ دیکھنے اور گھومنے کا شوق پورا ہوچکا تھا لیکن پاکستان بمقابلہ بھارت میچ کی پہلی بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں کنفرمیشن کے شوق نے یہ سفر کرنے پر اکسایا۔
ایج باسٹن برمنگھم،روز بول سائوتھپٹن اور اوو لندن یہ 3 مقامات چیمپئنز ٹرافی 2004 کے میزبان تھے۔ایونٹ 10 سے 25 ستمبر تک کھیلا گیا،12 ٹیمیں تھیں۔4 گروپس تھے۔ہرگروپ کی ٹاپ ٹیم نے سیمی فائنل کھیلنا تھا۔امریکا کوالیفائر سے ہوتا انگلینڈ پہنچ گیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ آسٹریلیا کے گروپ میں موجود امریکا کو بڑی خفت کاسامنا رہا۔3 گھنٹے میں ون ڈے میچ تمام ہوا۔گروپ اے سے آسٹریلیا نیوزی لینڈ اور امریکا کو ہراکر سیمی فائنل میں پہنچا۔گروپ بی سے ویسٹ انڈیز جنوبی افریقااور بنگلہ دیش کو ہراکرپہنچا۔گروپ سی سے پاکستان بھارت اور کینیا کو ہراکر سیمی فائنل میں آیا۔گروپ ڈی سے انگللینڈسری لنکا اور زمبابوے کو شکست دے کر سیمی فائنل میں آگیا۔
آئی سی سی کو آخر کار عالمی ایونٹ میں بھارت بمقابلہ پاکستان میچ کی اہمیت کا احساس کرنے میں چھ سال لگے۔ جنوبی ایشیائی حریفوں کو گروپ سی میں اکٹھا کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ کم از کم ایک بار ایک دوسرے سے کھیلیں۔ یہ میچ اپنے عروج پر رہا اور آخری اوور تک چلا گیا۔
پاکستان بمقابلہ بھارت 19 ستمبر کو ایج باسٹن میں آمنے سامنے تھے۔میں بھی وہاں موجود تھا۔پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی جذبات سے پر تھی۔تحنڈی ہوائیں اور اس میں خنکی،ہلکی سے بارش کی پھوار ٹائپ گیلے پن میں یہ میچ تھا۔چنانچہ اسکور بنانا مشکل تھا۔پاکستان نے ایک بال قبل بھارت کو صرف 200 رنزپر آئوٹ کردیا۔نوید الحسن نے 25 رنز دے کر 4 آئوٹ کئے۔راہول ڈریوڈ کے 67 رنز نمایاں تھے،پاکستان نے 49.4 اوورز میں 7 وکٹ پر201 رنزبناکر 3 وکٹ سے جیتا۔محمد یوسف 81 رنزکے ساتھ ناقابل شکست تھے۔کپتان انضمام الحق (41) اور محمد یوسف (81) نے ہدف کی طرف پاکستان کی رہنمائی کی۔ شاہد آفریدی کے 12 گیندوں پر 25 رنز نے چار گیندیں باقی رہ کر جیت پر مہر ثبت کر دی۔یہ فتح 20 برس سے کچھ زائد قبل ممکن ہوئی تھی۔میچ کے بعد جو کچھ دیکھا،پہلی بار نہیں تھا،ایشیا کپ 2000 میں ڈھاکا میں پاکستان کی بھارت کے خلاف جیت اور جشن،عوام کی خوشی،کھلاڑیوں کی ٹینشن،بعد کی بات چیت سب کچھ پہلے دیکھ چکا تھا۔کچھ نیا نہیں تھا،اس فتح سے پاکستان کے سیمی فائنل کی ٹکٹ کنفرم ہوئی۔بھارت کا سفر تمام ہوا۔
میزبان: انگلینڈ
ٹیمیں: 12
فائنل: انگلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز
فاتح: ویسٹ انڈیز ۔ دو وکٹوں سے
پلیئر آف دی ٹورنامنٹ: رامنریش سروان (ویسٹ انڈیز)
اب اگلی منزل روبول تھی،اس وقت یہ چھوٹا سا گرائونڈ تھا،جیسے ملتان کا ایم سی سی یا لاہور کا ایل سی سی۔6 ہزار فینز کی گنجائش تھی۔میدان کے باہر پاکستانی بسیں دیکھیں۔پاکستانی ثقافت کی کئی چیزیں دکھائی دیں۔میرے ساتھ پاکستان سے چند نامی گرامی صحافی وہاں موجود تھے۔ویسٹ انڈیز کو ہم کسی کھاتے میں نہیں گن رہے تھے۔آخرکار بھارت کو ہراکر آئے تھے۔اس روز پاکستان کےکپتان انضمام الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا غلط فیصلہ کیا،ناقابل یقین تھا۔38.2 اوورز میں ٹیم 131 رنزبناکر آئوٹ ہوگئی۔یاسرحمید 39 رنزکے ساتھ نمایاں تھے۔ہم کھانے کا وقفہ شکست کے اعتراف کے ساتھ کیا،اس وقت رمیز راجہ بطور کمنٹیٹر وہاں موجود تھے اور پی سی بی کے سی ای او بھی تھے۔ان سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔پاکستان28.1 اوورز میں 7 وکٹ سے ہارکر باہر ہوگیا۔ہم بھی ع،ملی طور پر چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوگئے۔یہ وہ وقت تھا جب میں ایگریڈیشن کارڈ کے ساتھ ہر میچ ہر سنٹر میں کور کرسکتا تھا اورہر ایک صحافی یہ کرسکتا تھا لیکن آج حالات بدل گئے۔آج ایسی آپشنز نہیں ہیں اور ایسے مواقع نہیں ہیں۔اس حوالہ سے کئی یادیں ہٰں،کئی واقعات ہیں اور کئی دلچسپ باتیں بھی۔کوشش ہوگی کہ اسے الگ سے ایک بہترین اور منفرد عنوان کے ساتھ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے آغاز سے ایک دو روز قبل الگ سے لکھوں،یہاں اگر چہ موضوع کی مناسبت سے میرے پاس گنجائش موجود ہے لیکن چونکہ کرک اگین پر ہر چیمپئنز ٹرافی کا جائزہ میچز،ریکارڈز سے مزین ہوا کرتا ہے،اس لئے اسے یہاں تک ہی محدود کرتے ہیں۔
مارکس ٹریسکوتھک کی سنچری انگلینڈ کو اپنا پہلا آئی سی سی ٹائٹل دلانے کے لیے کافی نہیں تھی کیونکہ ویسٹ انڈیز نے دو وکٹوں سے فائنل اور ٹائٹل جیت لیا۔
چیمپئنز ٹرافی کا نام تیسرے ایونٹ 2002 میں سامنے آیا،بیک وقت 2 ممالک چیمپئن قرار
ایک دن میں 2 ممالک میں میچ،سری لنکا کرکٹ کا اپنے ہی کھلاڑی کیخلاف کارروائی کا حکم
آئی سی سی ناک آئوٹ 2000،نیوزی لینڈ پہلی بار چیمپئن بنا،پاکستان کے ناکام کپتان کو جانیئے
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی،پہلا ایونٹ 1998،نام کچھ اور،9 ٹیموں میں صرف 8 میچز،8 ایونٹس کے 7 چیمپئن