اسلام آباد: پاکستان ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ پرو لیگ میں بھرپور شرکت کر رہی ہے اور ایونٹ کا پہلا مرحلہ مکمل بھی کر چکی ہے، مگر اس بین الاقوامی مہم کے دوران قومی اسکواڈ کو بار بار انتظامی اور لاجسٹک مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سڈنی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اسی سوال کو جنم دے رہا ہے کہ ان مشکلات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ، پاکستان ہاکی فیڈریشن پر یا اُس سرکاری ادارے پر جس کے سپرد تمام انتظامی امور کیے گئے تھے؟
دستیاب معلومات کے مطابق پرو لیگ سے متعلق سفری، ویزا اور رہائشی انتظامات کی بنیادی ذمہ داری ایک سرکاری ادارے کے سپرد تھی، جبکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایونٹ کے لیے موصول ہونے والے تمام فنڈز بھی اسی ادارے کو منتقل کر دیے تھے۔ حکومتی سطح پر وزیراعظم پاکستان کی خصوصی منظوری سے تقریباً 25 کروڑ روپے جاری کیے گئے تاکہ قومی ٹیم کو عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے مکمل سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف نے اس رقم میں سے ایک روپیہ بھی اپنے پاس نہیں رکھا بلکہ مکمل فنڈ لاجسٹک اور انتظامی اخراجات کے لیے متعلقہ ادارے کو دے دیا۔
پرو لیگ کے پہلے فیز میں ارجنٹینا کے ویزا معاملات تاخیر کا شکار ہوئے۔ ابتدائی مرحلے میں ویزا اجراء اس لیے رکا رہا کہ مطلوبہ سفری اور ہوٹل دستاویزات بروقت فراہم نہیں ہو سکیں۔ بعد ازاں کاغذی کارروائی مکمل ہونے پر ویزے جاری ہوئے۔۔
دوسرے مرحلے، یعنی آسٹریلیا ٹور میں بھی یہی تصویر دہرائی گئی۔ قومی ٹیم کی روانگی 2 فروری کو شیڈول تھی، تاہم ویزا تاخیر کے باعث ٹیم 5 فروری کو روانہ ہوئی۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کو سڈنی پہنچنے پر ایک اور مسئلہ سامنے آیا جب ہوٹل بکنگ میں خرابی کے باعث کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیشگی بکنگ اور کوآرڈی نیشن میں واضح خلا موجود تھا۔
اس صورتحال پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا میں موجود قومی کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلنے والی منفی خبروں کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ اعلامیے کے مطابق فیڈریشن کی قیادت مسلسل ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہے اور سہولیات کی فراہمی کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ منفی پروپیگنڈا کھلاڑیوں کا مورال گرانے کے مترادف ہے۔
ادھر پرو لیگ کے تیسرے مرحلے کے میزبان انگلینڈ نے بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن سے پیشگی رابطہ کرتے ہوئے ای میل کے ذریعے واضح کیا ہے کہ ہوٹل بکنگ اور دیگر لاجسٹک تفصیلات بروقت مکمل کی جائیں تاکہ ویزا پراسیس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی ایونٹس کے لیے یہ تمام انتظامات کئی ہفتے بلکہ مہینے پہلے مکمل کرنا معمول کی بات ہے۔
ہاکی لورز کا کہنا ہے کہ جب فنڈز، انتظامی اختیار اور لاجسٹک کنٹرول ایک سرکاری ادارے کے پاس ہو تو پھر ذمہ داری بھی وہیں پر عائد ہوتی ہے کہ معاملات بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کیے جائیں۔ قومی ٹیم نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ملک کی نمائندگی یقینی بنائی، مگر اب ضروری ہے کہ آئندہ مراحل میں انتظامی خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ سوالات نہیں بلکہ نتائج اور کارکردگی موضوعِ بحث رہے۔۔
