لندن۔کرک اگین رپورٹ۔بھارت اوول ٹیسٹ کیسے جیت گیا۔انگلینڈ نے 301 رنزکے بعد 66 رنزمیں 7 وکٹیں،317 رنزکے بعد 51 رنزمیں 6 وکٹیں،347 رنزکے بعد 20 رنزکے اندر آخری 4 وکٹیں کیسے گنوادیں۔اپنا ہوم گرائونڈ تھا۔پچ پر رولر پھرچکا تھا۔جسپریت بمراہ جیسی دہشت بھی نہیں تھی تو پھر صرف 6 رنزکے فرق سے کیسے ہارگئے۔دونوں امپائرز نے ایک ایک مشکوک فیصلے کیوں کئے۔ایک فیصلہ ریویو پر امپائر کال کی وجہ سے باقی رہا جو کہ نہایت کمزور ترین فیصلہ تھا۔دوسرا فیصلہ تو ریویو پر مکمل غلط ثابت ہوا۔کیا یہ سب اتفاقات تھے۔
پہلا اتفاق یہ کہ انگلینڈ کے کھلاڑی 20 رنزکے اندر 4 وکٹیں دے گئے۔
دوسرا اتفاق یہ کہ بمراہ جیسے بائولرز بھی نہیں تھے
تیسرا اتفاق یہ کہ بال بھی نئی نہیں،پرانی چل رہی تھی
چوتھا اتفاق یہ کہ ایسے محاذ پر بیٹرز کراس شاٹ کھیل رہے تھے
پانچواں اتفاق یہ کہ دونوں امپائر ز کے 2 فیصلے ایک ساتھ انگلینڈ کے خلاف تھے
چھٹا اتفاق یہ کہ انگینڈ نے اوول ٹیسٹ اس طرح ہارنا تھا
ساتواں اتفاق یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ کی سنسنی خیزی ایسے ہی نمایاں ہونی تھی
آٹھواں اتفاق یہ کہ سیریز نے ڈرا ہونا تھا
نواں اتفاق یہ کہ یہ وسیم،وقار جیسے لیجنڈری گیند بازوں کا زمانہ نہیں تھا
دسواں اتفاق یہ کہ انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ اتنی بدتر ہونی تھی
اور 11 واں اتفاق یہ کہ 5 ٹیسٹ میچز کی سیریز کی اہمیت یوں ہی ہونی تھی
اگر یہ سب اتفاقات بیک وقت ہوئے ہیں تو کمال اتفاق ہے۔ایسا اتفاق پوری دنیا میں ہوجائے تو ہر جانب امن ہو۔خوشحالی ہو۔
سوال بنتا ہے کہ جو بھارت کی بائولنگ لائن اور کپتان کی پالیسی ہیری بروک جیسے انتہائی رسکی ٹیسٹ پلیئر سے سنچری کرواجائے وہ،ایسے سنسنی خیز موقع پر وسی،وقار جیسی بائولنگ کرجائے۔یقین نہیں ہوتا۔
اوول ٹیسٹ بھارت 6 رنز سے جیت گیا۔ٹیسٹ سیریز ڈرا ہوگئی۔تمام 5 ٹیسٹ میچز 5 ویں روز میں گئے۔25 روزہ ٹیسٹ کرکٹ ہوگئی۔سب راضی ہوگئے۔
سب سے بڑا اتفاق،گزشتہ 4 سال میں بھارت کے خلاف انگلینڈ نے اسی مارجن کے ہدف 370 سے 380 کے درمیان 3 بار یہ عبور کیا،اسے کوئی پرابلم نہیں ہوئی۔باز بال کرکٹ میں یہ ان کے گھر کی پریکٹس تھیاس بار کسیے خوف پیدا ہوا۔
