عمران عثمانی کا تجزیہ۔ایشیا کپ 2025،پاکستان بھارت جنگ اتوار 14 ستمبر کو،حیرت انگیز دبائو منتقل،اہم تفصیلات وپیشگوئی۔ایشیا کپ 2025 پر تازہ ترین مضمون یہ ہے کہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 میں پاکستان کا بھارت سے بہت بڑا مقابلہ اتوار کا ہوگا ۔یہ ایشیا کپ کے پہلے راؤنڈ کا سب سے بڑا اور اہم مقابلہ ہے ۔
اتوار 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں روایتی حریفوں کے درمیان مقابلہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پہلگام واقعے کے بعد الزام تراشیاں اور ایک دوسرے پر اٹیک اور پھر جنگ شروع کرنے اور جنگ بند ہونے کے بعد بھارتی شرمندگی، وہاں سے ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی آوازیں اور بھارتی بورڈ کی بے بسی اور حکومت کی خاموشی اور پھر نیم رضامندی اور ایونٹ میں بھارتی ٹیم کی انٹری کے بعد بھارت تقسیم ہے اور پاکستان کے خلاف کھیلنے پر مختلف اراء ہیں۔پہلی بار بھارتی سپریم کورٹ میں کیس درج ہوا کہ پاکستان کے خلاف کھیلنے سے روکا جائے لیکن سپریم کورٹ بھی پاکستان کے خلاف اس میچ کو نہ روک سکی۔ سابق کرکٹرز کی بھی مختلف آراء ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور بھارت کا یہ میچ ماضی کے مقابلے میں نئی جہت اختیار کر چکا ہے۔
پاک بھارت ٹی 20،ایشیا کپ ریکارڈ
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان نے 2022 کے ایشیا کپ میں بھارت کو 10 وکٹوں کی سنسنی خیز شکست دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈالا تھا ۔یہ بابرعظم اور محمد رضوان کا دور تھا ۔اس کے بعد اسے اگلا ایشیا کپ 2023 کا ون ڈے کپ کا تھا۔ پاکستان بھارت سے ایک میچ ہارا اور ایک میچ بارش کی نظر ہوا ۔ایشیا کپ ٹی 20 فارمیٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 3 میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ بھارت کو برتری حاصل ہے۔ اس نے دو جیتے ہیں پاکستان ایک میچ جیت سکتا ہے۔ اوور ال ٹی 20 ہسٹری میں پاکستان اور بھارت کے 10 میچز ہوئے ہیں۔ بھارت کو واضح سبقت حاصل ہے ۔اس نے 9 میچز جیتے ہیں ۔پاکستان کو تین میں فتح ملی۔ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔
پاکستان بھارت پلینگ الیون
بھارتی ٹیم یقینی طور پر اب ابھیشک شرما، تلک ورما ،سوریہ کمار یادو ،سنجو سمسن ،ہاردک پانڈیا ،شیوم ڈوبے، اکثر پٹیل، ورن چکروتی،کلدیپ یادیو اور جسپریت بمراہ کے ساتھ آئے گی اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم یقینی طور پر سفیان مقیم، ابرار احمد اور محمد نواز کے حوالے سے سپن پر بھروسہ کرے گی۔ شاہین آفریدی ان کے مرکزی پیسر ہوں گے اور ان کے ساتھ فہیم اشرف موجود ہوں گے ۔باقی وہی ٹیم ہوگی جو کھیلتی آ رہی ہے۔
دبائو کس پر اور کیوں
بھارت اس بار تھوڑا اپنے میڈیا، اپنی حکومت کی پالیسی اور تھوڑی بے بسی اور شرمندگی کے حوالے سے شاید دباؤ میں ہو۔ جنگ کے بعد گرنے والے 6 طیاروں کے بعد جتنی شرمندگی انہیں ہوئی ،اس کا ان پر دباؤ ہے۔ اپنی عوام کا دباؤ ہے۔ اس بات کا دباؤ ہے کہ اس بار اگر ہارے تو آپریشن سندور پر کاری ضرب لگے گی ۔یہ دباؤ پاکستان کو فائدہ دے سکتا ہے ۔اگر دیکھا جائے تو پاکستان پر سرے سے کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے ہی بڑے ایونٹس میں اکثر بھارت سے ہار جاتے ہیں۔ اگر یہ سوچ لیں کہ ایک میچ اور ہار گئے تو کیا فرق پڑے گا، لیکن اگر یہ سوچ لیں کہ اس بار جیت گئے تو پچھلے چار چھ ماہ کی جو کہانی چل رہی تھی ،اس کو چار چاند لگ جائیں گے۔ پیپرز پر بھارت کی ٹیم مضبوط اور پاکستان کی ٹیم کمزور ہے ۔پاکستان کو سپر سٹار کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں ہیں۔ بھارت کے پاس کمال سپن اٹیک، پیس اٹیک اور بیٹنگ سسٹم موجود ہے ۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم مسلسل بیٹنگ کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔
دبئی کی پچ اور موسم
ڈبل سپن ٹریک ہوگی۔خوفناک سپن جنگ ہوگی۔ٹاس اہم ہوگا۔پہلے بیٹنگ والی سائیڈ کو فوقیت ملے گی۔موسم گرم ہوگا۔
تین گھنٹے کی تباہی 3 ماہ کی تیاری کو اڑادے گی،دبئی میں پاکستان آخری 5 میں سے 4 میچز میں ناکام
