دبئی۔کرک اگین رپورٹ۔بریکنگ نیوز،پاکستان نے آئی سی سی سے بھارت کی 9 شکایات کردیں،ایک بڑا مطالبہ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی سی آئی اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے خلاف 7 سے 9 بڑی شکایات کا ایک بڑا کرکٹ شیل تیار کرکے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کو ارسال کردیا ہے اور ساتھ ہی ایشیا کپ فائنل کے ریفری ودیگر آئی سی سی آفیشلز کی بجائے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر فوری تحقیق اور کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں گزشتہ رات بھارت نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے ہراکر ایشیا چیمپئن کا تاج اپنے سر سجالیا۔اس کے بعد ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی جو کہ انعامات تقسیم کرنے اور ٹرافی دینے کیلئے موجود تھے۔ان سے بھارتی کپتان اور کھلاڑیوں نے وصول کرنے سے انکار کیا۔جس کی وجہ سے تقریب 90 منٹ کی تاخیر کا شکار ہوئی اور اس کے بعد ادھوری رہی،کیونکہ بھارتی کھلاڑیوں کو میڈالز اور ٹرافی لینے کیلئے نہیں بلایا گیا۔
اس سلسلہ میں بھارت کا موقف یہ تھا کہ وہ محسن نقوی سے ٹرافی نہیں لےسکتے۔ایشین کرکٹ کونسل کے صدر ہونے کی حیثیت سے محسن نقوی اپنی جگہ ٹھیک تھے۔ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے آفس پہنچادی گئی ہے۔
اب آج 29 ستمبر کو کرک اگین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات سے ہی بھارت کے خلاف کیس کی تیاری کی تھی اور اسے آئی سی سی کو ارسال کیا گیا ہے۔
پاکستان کی تازہ ترین شکایت میں 9 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے تمام تنازعات کا شق وار ذکر کیا گیا ہے۔
ان میں بھارتی کھلاڑیوں کا ہینڈ شیک نہ کرنا
میڈیا میں متنازعہ تقریر کرنا
پریس ٹاک میں سیاست کو کرکٹ میں لانا
فیلڈ کے دوران نازیبا زبان کا استعمال
فیلڈ کے دوران کھلاڑیوں کے غلط اشارے اور بحث
منچ ریفری کا متنازعہ کردار
ایشیا کپ فائنل کے بعد کھیل کی روح مجروح کرنا
انعامی تقریب میں بلاوجہ تاخیر کرنا
اے سی سی کے صدر سے ٹرافی نہ لینا
بداخلاقیکی بڑی مثال،کرکٹ کو سیاست زدہ کرنا
بھارتی حکومت کا براہ راست کرکٹ کو خراب کرنا
جیسے الزامات شامل ہیں۔
بھارت کی جانب سے بھی اپنی حافظت کیلئے آئی سی سی کو ایک ای میل کی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ ایشیا کپ فائنل کے بعد ان کی ٹیم کو ٹرافی سے محروم کیا گیا ور محسن نقوی ایک سیاسی آدمی اور ملک کی حکومت کے وزیر داخلہ ہیں،اس لئے انہوں نے کھیل کو سیاست زدہ کیا ہے۔
آئی سی سی کی ٹاپ 2 پوسٹس پر بھارتی حکام پہلے سے موجود ہیں،اس لئے منصفانہ فیصلہ ایسے ہی ممکن ہے کہ جیسے پاکستان کی عدالتوں سے انصاف کی مشکل توقع ہوتی ہے لیکن کیا کریں کہ ملک میں جو دوسروں کے ساتھ یہاں کررہے ہیں،وہ ملک سے باہر شایدان کے ساتھ ہونے والا ہے۔
آئی سی سی اجلاس 5 ہفتے بعد نومبر میں ہونا ہے،اس سے قبل پاکستان اور بھارت کی ویمنز ٹیمیں ویمنز ورلڈکپ کیلئے کولمبو میں ٹکرائیں گی،اس کے بھی نتائج ہونگے۔آئی سی سی اجلاس میں اگر پاکستان کو دیگ ممالک کی سپورٹ ملی تو ایک کمیشن بن سکتا ہے۔
ایشیا کپ تاریخ کا بد ترین انجام،بھارت ٹرافی کے بغیر چلا گیا،تقریب میں کیا ہوا
