پاکستان کے ٹی 20 ورلڈکپ 2026 سے ممکنہ بائیکاٹ کی خبروں اور پھر حتمی فیصلے کو جمعہ یا پیر تک لٹکائے جانے پر بھارتی میڈیا کو عمران خان کی یاد آگئی۔ساتھ میں رمیز راجہ اور دیگر ایڈمنسٹریٹرز کو بھی یاد کیا۔
معروف بھارتی صحافی وکرانت گپتا کہتے ہیں کہ اگر عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہوتے تو یہ کبھی نہ ہوتا۔ایسے ہی رمیز راجہ،ذکا اشرف یا نجم سیٹھی جیسے پی سی بی چیئرمین ہوتے تو بھی یہ نہ ہوتا۔پاکستان کے لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ عمران خان اگر پاکستانی پرائم منسٹر ہوتے تو یہ کبھی ایسا نہ کرتے،کیونکہ وہ کرکٹ کی فنکشن کو سمجھتے ہیں۔عمران خان اگر وزیر اعظم ہوتے تو کوئی چوں بھی نہ کرتا۔عمران خان ان کو سیدھا سیدھا کہتے کہ جائو اور ورلڈکپ جیت کر آئو۔پاکستان کرکٹ بورڈ چھوڑے گا تو اس کا نام نہیں ہوگا ،جیتو گے تو دنیا یاد کرے گی۔ بنگلہ دیش میں اب خاموشی ہے۔انہوں نے یہ مان لیا کہ اب ہم کچھ نہیں کریں گے۔بنگلہ دیش کے ہاتھ سے کرکٹ نکل گئی۔
آئی سی سی نے پی سی بی کو کیا بتایا کہ بیان بازی بند اور ٹی 20 ورلڈکپ اوپن
پی سی بی کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی کے بیانات پر بھارت میں آگ تو ہے لیکن اب ان کو یہاں عمران خان کی یاد آئی ہے،کیونکہ وہ عمران خان کو بہترین فیصلہ ساز قرار دیتے ہیں۔
