راولپنڈی۔کرک اگین رپورٹ۔پہلا ون ڈے،سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کامیاب،سری لنکا کی شاندار فائٹ بیک۔پہلا ون ڈے،پاکستان نے سری لنکا کو ہرادیا،سلمان علی آغاکے بعد حارث رئوف ہیرو۔ہسرانگا بھی کسی بڑے ولن سے کم نہ رہے۔میچ کی خوبصورتی کا عالم یہ تھا کہ سری لنکا اننگ کی آخری 2 بالز تک میچ میں تھا۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 3 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کی سیریز کا پہلا میچ سخت مقابلہ کے بعد 6 رنز سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی ہے۔،بابر اعظم ہیرو تھے اور نہ ہی محمد رضوان بلکہ پہلے بیٹنگ میں سلمان علی آغا اور حسین طلعت،بعد میں بائولنگ میں نسیم شاہ مرکرزی کردار تھے۔
سری لنکا نے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں دوسرے بڑے ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں اننگ شروع کی تو 11.4 اوورز میں 85 رنزکا اوپننگ سٹینڈ ایک قسم کی جیت کا کی بنیاد ہوتا۔کپاں پاکستان کا سلو آغاز۔،کہاں سری لنکا کا شاندار آغاز۔پاکستان کو پہلی وکٹ ڈیبیو کرنے والے اوپنر کامل مشرا کی ملی جو 38 رنز بناکر حارث رئوف کی بال پر شاہین کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔حارث کو یہ موقع ملنا تھا کہ انہوں نے اگلی بال پر دوسرے اوپنر پتھم نشانکا کو 29 کے انفرادی سکور پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کروادیا۔ 5 رنزکے اضافہ سے وکٹ کیپر بیٹرکوشال مینڈس ان کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے تو پاکستان کی میچ میں واپسی تھی۔ سری لنکا س جھٹکے سے نکل کر 27 ویں اوور میں 147 تک پہنچ گیا۔یہاں ایک بار پھر حارث رئوف کام آئے سدھیرا سمارا وکراما 39 رنز بناکر کیچ ہوئے،بابر اعظم نے ایک ہاتھ سے شاندار کیچ لیا۔سری لنکا کی 5 ویں وکٹ 183 اور چھٹی 191 پر گری تو اس کی گرفت کمزور پڑگئی۔کپتان اسالنکا محمد نواز کی بال پر رضوان کے ہاتھوں سٹمپ ہوئے۔انہوں نے 32 رنزبنائے۔کوشال مینڈس 9 کرسکے۔ہسرانگا نے بیٹنگ میں بھی جوہر دکھائے اور فائٹ بیک کی۔سری لنکا 247 رنزپر 8 ویں وکٹ گنواچکا تھا۔پھر آخری 30 بالز پر 50 رنز درکار تھے۔ہسرانگا نے 45 بالز پر اپنی 5 ویں ونڈے ہاف سنچری مکل کی،ان کی فائٹ سے پاکستانی کیمپ پریشان تھا۔اب 18 بالز پر 31 رنز بنانے تھے اور 2 وکٹیں باقی تھیں۔آخری 12 بالز پر اب 23 رنز رہ گئے تھے۔49 واں اوور نسیم شاہ کروانے آئے۔ٹرننگ اوور تھا۔ہسرانگا نسیم شاہ کی بال پر 52 بالز پر 59 رنزبناکر بائونڈری لائن پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔نسیم نے اوور میں صرف 2 رنز دیئے،بڑی وکٹ لی۔اب سری لنکا کو 6 بالز پر 21 رنزکی ضرورت تھی۔
سری لنکا کی اننگ 50اوورز میں 9 وکٹ پر 293 رنز تک محدود رہی۔پاکستان نے6 رنز سے جیت نام کی۔اس کے بائولر شاہین آفریدی 10 اوورز میں 50 رنز دے کر کوئی وکٹ نہ لےسکے۔فہیم اشرف نے دس اوورز میں رنز دے کر وکٹیں لیں۔ نسیم شاہ کو 10 اوورز میں 55 رنز کے عوض 2 وکٹ ملیں۔ حارث رئوف نے 10 اوورز میں 61 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔محمد نواز کو رنز کے عوض ایک وکٹ ملی۔آخری اوور حسین طلعت نے کیا اور14 رنز بہرحال دے گئے۔
پنڈی کرکٹ سٹیڈیم راولپنڈی میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان نے اس پچ پر پیس اٹیک کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا،کیونکہ شاہین،حارث کے ساتھ نسیم شاہ اور فہیم اشرف تھے۔سری لنکا نے کامل مشرا کو ون ڈے کیپ دی۔سلمان آغا کی سنچری اور حسین طلعت کی پہلی ون ڈے ففٹی نے پاکستانی اننگز کو تباہی سے بچالیا۔پانچویں وکٹ پر ان کے 138 رنز کے اسٹینڈ ن کی وجہ سے پاکستان نے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں پہلے ون ڈے میں 5 وکٹوں پر 299 رنز بنائے۔یہ جوڑی 24ویں اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 95 رنز پر اکٹھی ہوئی لیکن جب تک ان کی شراکت ختم ہوئی تو وہ 44ویں اوور کے وسط میں پاکستان کو 5 وکٹ پر 233 تک لے جا چکے تھے۔
اس کے بعد آغا نے محمد نواز کے ساتھ مل کر سکور کیا، پاکستان نے سری لنکا کو 300 رنز کا ہدف دینے کے لیے آخری 10 اوورز میں 104 رنز بنا ئے۔سری لنکا کیلئے یہ ہدف بڑا چیلنج تھا جو اگر حاصل کر لیا جاتا تو یہ راولپنڈی اسٹیڈیم میں دوسرا سب سے زیادہ کامیاب تعاقب ہوتا۔
آغا نے اپنی دوسری ون ڈے سنچری 83 ویں بال پر مکمل کی۔وہ 87 بالز پر 105 رنزکے ساتھ ناٹ آئوٹ لوٹے۔حسین طلعت 63 بالز پر 62 رنز کرگئے۔محمد نواز 23 بالز پر 36 رنزکے ساتھ ناقابل شکست رہے۔
اس سے قبل سری لنکا نے پاکستان کی اننگز کو ابتدا میں دبا دیا تھا۔ اسیتھا فرنینڈو اور چمیرا کے سپیل نے ابتدائی پاور پلے کے اندر صرف 28 رنز بننے دیئے اور اس عرصے میں صرف ایک وکٹ لی۔صائم ایوب 6 کرسکے تھے۔ہسرنگا اپنی پہلی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ فخر زمان اپنے ابتدائی خول سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن وہ وائیڈ سے چھوٹ گئے اور 55 گیندوں پر 32 رنز بنا کر سٹمپڈہوگئے۔نئے بلے باز محمد رضوان ہسرنگا کا اگلا شکار تھے، جو گوگلی کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔5ہی کر سکے۔ چند اوورز کے بعد ہسرنگا کو بابر اعظم کا پرائز ملا۔ یہ اس کا ٹریڈ مارک گوگلی تھا جو نقصان پہنچا رہا تھا، کیونکہ بابر نے اپنے بلے اور پیڈ میں گیپ چھوڑا۔51 بالز پر 29 رنز بناکر بولڈ ہوگئے۔یہاں حسین طلعت امپائر کی مدد سے اس وقت بچے جب ہسارنگا کی بال پر کلیئر ایل بی تھے لیکن سری لنکا کے پاس ریویو کوئی نہ بچاتھا۔یہ ایک اوپن دروازے کا لمحہ ثابت ہوا کیونکہ پاکستان کی قسمت بتدریج بدلنا شروع ہوئی، اور یہ خاص طور پر طلعت کے لیے بہت ضروری قسمت تھی، جس کی ٹیم میں جگہ دیر سے آئی تھی لیکن پاکستان کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت کے ساتھ، وہ اور آغا نے تعمیر نو کا آغاز کیا۔ باؤنڈریز کا مقصد نہیں تھا، بلکہ وکٹوں کے درمیان دوڑنے پر توجہ دی گئی تھی۔ طلعت کے 62 رنز میں سے بتیس ایک یا دو میں آئے۔ آغا ان کے ساتھ لاک سٹیپ میں تھے جنہوں نے اننگز کے اختتام پر 40 سنگلز اور 13 دو رنز بنائے۔وینندو ہاسرنگا 54 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔
