کراچی۔کرک اگین رپورٹ۔ایک جیت کی تلاش میں چوتھی شکست،حیدر آباد کنگز پشاور زلمی کے سامنے جیت کے قریب آکر بھی بے بس۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے کراچی سے شروع ہوتے ہی نئی سنسنی خیزی دیکھنے کو ملی۔پہلے سپنرز چمک اٹھےپھر پیسرز کی بال ہوا میں موو کرنے لگی۔حیدر آباد کنگز کو پشاور زلمی کے 2 سپنرز نے ایسا گھمایا کہ ٹیم بری طرح فلاپ ہوگئی اور پورے اوورز کھیلنے میں ناکام رہی۔پھر پشاور زلمی کو چھوٹے ہدف کے باوجود ناکوں پسینے بہانے پڑے،کیونکہ ناکام ٹیم کے پیسرز نے میچ کو سنسنی خیز ہی نہیں بنایا بلکہ اپنی جیب میں ڈالا۔انن کے آخری اوور میں درکار 14 رنز مشکل تھے لیکن افتخار احمد آل رائونڈر بن گئے۔انہوں نے میچ واپس لے لیا۔حیدر آباد کی یہ پی ایس ایل 11 میں مسلسل چوتھی شکست ہے۔افتخار احمد مرکزی کردار تھے۔
پی ایس ایل 11 ایک دن کے وقفہ کے بعد نیشنل بنک ایرینا میں پہلی بار شروع ہوئی۔یہ اس سیزن کا کراچی میں پہلا اور پی ایس ایل 11 کا 15 واں میچ تھا۔پشاور زلمی اور حیدر آباد کنگز کے کپتانوں بابر اعظم اور مارنس لبوشین نے ٹاس سے قبل علاقائی امن کی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے امن کی علامت کبوتر کو پچ سے اڑایا۔کبوتر تو اڑ گیا۔امن کی امیدیں باقی ہیں۔بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے حیدر آباد کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔
کنگزمین کا آغاز تباہ کن تھا،جب اولڈ ایج سپنرز افتخاراحمد ان کیلئے ینگ ہتھیار ثابت ہوئے۔ابتدائی 4 وکٹیں 5 اوورز میں 34 کے قلیل سکور پر گرچکی تھیں۔معاذ صداقت 17،صائم ایوب 14،شرجیل خان 2،عثمان خان صفر کے ساتھ پویلین میں بیٹھ گئے اور یہ چاروں وکٹیں افتخار احمد نے لیں،ان میں سے 3 وکٹیں انہوں نے ایک ہی اوور میں لیں۔یہ اننگ کا 5 واں اوور تھا،جب حیدر آباد نے 1 رن میں 3 وکٹیں گنوادیں۔کپتان مارنس لبوشین اور کوشال پریرا نے اس تباہ کن صورتحال سے اپنی ٹیم کو ریسکیو کر ہی لیا تھا،جب دونوں اگلے 9 اوورز میں 9 کی اوسط سے 81 رنز بٹور کر مجموعہ 14 اوورز میں 4 وکٹ پر 114 تک لے گئے۔یہاں امید تھی کہ آخری 6 اوورز میں کم سے کم 60 رنز بن جائیں گے لیکن یہاں سے ایک اور ساپنر سفیان مقیم کا جادو چلا۔انہوں نے لبوشین کو27 پر کیچ کروایا۔عرفان خان کو 9 پر اور سیٹ بیٹر کوشال پریرا کو 58 پر باپر بھجوادیا۔آخری 5 وکٹیں 9 رنز کا اضافہ کرسکیں۔ٹیم پورے اوورز بھی نہ کھیلی اور 18.2 اوورز میں 145 رنز پر ہتھیار پھینک گئی۔افتخار احمد نے 21 اور سفیان مقیم نے 32 رنز دے کر 4،4 وکٹیں لیں۔ایک وکٹ عامر جمال نے اڑائی اور ایک کھلاڑی رن آئوٹ ہوگیا۔
جواب میں پشاور زلمی کیلئے ہدف معمولی مگر پچ کی پر پراسراریت بھی سامنے تھی۔اسی وجہ سے محتاط آغاز رہا۔اوپنر محمد حارث اگر چہ 11 کرسکے لیکن بابر اعظم کو کوشال مینڈس نے سٹینڈ دیا۔دودنوں سکور کو 66 تک لے گئے یہاں مینڈس23 بالز پر 27 کرکے گئے۔مچل بریسویل آئے اور آرام سے کھیلے۔زلمی کا سکور 12 اوورز میں 86 پوگیا تھا۔
حیدر آباد کنگز مین نے پہلے مچل بریسویل کو104 کے ٹوٹل پر شکار کیا اور پھر116 کے سکور پر کپتان بابر اعظم کی وکٹ بھی لے لی تو کچھ جان پیدا کی لیکن ہدف بہت قریب آگیا تھا۔بریسویل 25 کرگئے تھے اور بابر اعظم 37 بالز پر 43 کرکے گئے۔انہوں نے6 چوکے لگائےزلمی کو 5 واں نقصان 125 پر اس وقت ہوا جب فرحان یوسف 15 کرکے گئے۔سنسنی اس وقت پھیلی جب زلمی کی چھٹی وکٹ 125 پر ہی گری،عبد الصمد 1 کر کے کیپر کو کیچ دے گئےاب 17 بالز پر 21 رنز باقی تھےحنین شاہ نے اننگ کا 81 واں اوور ایسا کروایا کہ وکٹ بھی لی اور صرف 2 رنز دیئے۔یوں پشاور زلمی کو اب 12 بالز پر 19 رنز درکار تھےاگلا اوور محمد علی کا بھی اچھا رہا۔آخری اوور میں 14 رنز تھے اور حنین شاہ بائولرز تھے پچ پر افتخار احمد اورعامر جمال تھے۔ابتدائی 3 گیندوں پر 6 رنز بنے۔اب 8 رنز باقی تھے۔یہاں افتخار احمد نے چھکا لگاکر بتایا کہ اولڈ از گولڈ۔اب 2 بالز پر 2 رنز باقی تھے۔پھر آخری ابال پر 1 رن باقی رہ گیا۔میچ ٹائی،سپر اوور یا پھر کنگز کی چوتھی شکست۔عامر جمال نے سنگل لے کر پشاور زلمی کو 4 وکٹ سے جوادیا۔ہدف آخری بال پر 6 وکٹ پر مکمل ہواافتخار 15 اور عامر جمال 6 پر ناقابل شکست لوٹے۔صائم ایوب نے 19 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔یہ پشاور کی تیسرے میچ میں دوسری جیت ہے۔ایک میچ بے نتیجہ بھی تھا۔یوں اس کے 5 پوائنٹس ہوگئے ہیں اور ٹیبل پر چوتھی پوزیشن ہے۔ناکام ٹیم 4 میچز میں صفر پوائنٹ کے ساتھ 8 ویں اور آخری نمبر پر ہے۔
