دبئی،کرک اگین رپورٹ۔پاکستان کرکٹ تباہی سے آگے،خود جائیں گے یا،یہ سوال اب کپتان سے نہیں کسی اور سے بنتا ہے،کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہپاکستان کی شکست کا ذمہ دار کون۔ٹیسٹ کرکٹ میں شان مسعود اور ون ڈے کرکٹ میں محمد رضوان کی ناکامی کے بعد اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ اپنا فیصلہ خود کریں گے یا کسی اور کا انتظار کریں گے۔یہ سوال اب کپتانوں سے کہیں آگے جاچکا ہے اور یہ اصل ذمہ داران سے بنتا ہے۔
چیمپئنز ٹرافی کے آغاز سے 2 ہفتے قبل تک ملتان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سپن پچز اور سپپنرز کا دفاع کرنے والے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید ون ڈے سکواڈ میں اسپنرز کی شمولیت کے خلاف دکھائی دیئے اور یہی نہیں بلکہ بھارت کے خلاف میچ سے ایک روز قبل تک پیسرز کے دفاع میں تھے۔ان سے کوئی پوچھے کہ ایک ماہ مسلسل بیٹرز کو سپن پچز کی پریکٹس کروائی۔بائولرزجو تیار کئے،اس کے الٹ چلے۔اسپیشلسٹ سپنر ابرار احمد نے 10 اوورز میں صرف 28 رنز دیئے،یہ ایک طمانچہ تھا سلیکٹرز کے منہ پر لیکن کوئی محسوس کرےنا۔
دوسرا شاداب خان جیسے آل رائونڈرز کو سائیڈ لائن کرنے والوں کو اندازا ہوا ہوگا کہ شاداب خان کی کتنی ضرورت تھی۔پاکستان کے اسکواڈ کا انتخاب ہارنے کیلئے ہی کیا گیا تھا،اب اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔دنیا کی ہر ٹیم سپنرز پر انحصار کررہی تھی لیکن یہاں اپنے ملک کی سپن پچز پر،دبئی کی سپن سطح پر متوقع پچز کیلئے ویسا اسکواڈ نہیں بنایا گیا۔
پاکستان کی چیمپئنز ٹرافی 5 ویں روز ہی ختم،ملک میں جاری،بھارت سے پھر شکست
پہلے چورن بیچا گیا کہ بابر اعظم کا گروپ بنا ہے،پھر چورن تیار کیا گیا کہ رضوان کا بھی گروپ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کے کمبی نیشن کی تباہی کے مرکزی کردار پی سی بی کے سابق اور موجدہ چیئرمین بنے ہیں۔نجم سیٹھی،ذکا اشرف اور اب محسن نقوی جیسے کریکترز نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔بیماری یہاں ہے۔ان سے سوال بنتا ہے کہ ٰخود جائیں گے یا کسی دھکے کا انتظار کریں گے۔