ہملٹن،کرک اگین رپورٹ۔تو چل میں آیا نہیں،بلکہ آئو ایک ساتھ چلیں،فہیم اشرف کے علاوہ سب کا ایکا،پاکستان ون ڈے سیریز بھی ہارگیا،کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ تو چل میں آیا ،پرانا محاورہ ہوا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے کرکٹ میں نئی اصطلاح ،آؤ ایک ساتھ چلیں، استعمال کر دی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف 293 رنز کے تعاقب اور تین ایک روزہ میچز کی سیریز بچانے کے لیے جب پاکستان کی اننگ شروع ہوئی تو بیٹرز کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ ہوا میں گھومتی اور اچھلتی گیندیں رضوان اور بابر کو زمین بوس کرتی رہیں ۔متعدد بیٹسمینوں کے ہاتھوں سے بیٹ زمین پر گرے اور بیٹرز بھی زمین بوس ہوئے اور پھر کیا تھا۔ جونہی زبردستی کھیلنے کی کوشش کی تو ایک کے بعد ایک کیچ وہ بھی سلپ میں ۔سلپ میں کیچ در کیچ کی برسات کر دی اور اس کے بعد اگلے باؤنڈری لائن اور پھر وکٹ کیپر، اس طرح پاکستان کے اکثر کھلاڑی کیچ آؤٹ ہوتے گئے اور ایک موقع پر 72 رنز پر اس کے سات کھلاڑی اؤٹ ہو گئے۔
جس ٹیم کے 32 پر پانچ کھلاڑی اؤٹ ہوں، اس کا انجام پاکستان جیسا ہوتا ہے لیکن جس ٹیم کے 132 پر پانچ آؤٹ ہوں وہ ٹیم 292 سکور کر لیتی ہ۔ے اس کا اختتام نیوزی لینڈ جیسا ہوتا ہے ۔پاکستان کے کھلاڑیوں میں عبداللہ شفیق ایک امام الحق3، بابراعظم ایک ،محمد رضوان پانچ، سلمان علی آغا 9، طیب طاہر 13 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ محمد وسیم جونیئر بھی ایک رن سے آگے نہ بڑھے ۔حارث رئوف تین رنز پر تھے کہ بال لگی۔ فزیو نے انہیں اچھی خاصی ٹریٹمنٹ دی ۔اب معاملہ یہ ہوا کہ انہیں کہا گیا کہ ہیلمٹ تبدیل کریں ،کیونکہ ان کا ہیلمٹ خراب تھا ۔اب فزیو نے ڈریسنگ روم کی طرف اشارہ بھی کیا کہ نئے ہیلمٹ لے کے أئیں۔ متعدد اشارے کیے، ٹائم ضائع ہو رہا تھا۔ امپائرز نے کہا کہ اس طرح نہیں ہوگا۔آپ کو باہر جانا ہوگا۔ وقت ضائع ہو رہا ہے اور پاکستانی ٹیم انہیں ہیلمٹ پرووائڈ نہ کر سکی جس کی وجہ سے حارث رؤف کو پچ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔اب لگتا ہے ہیلمٹ نیوزی لینڈ کے اس گراؤنڈ میں تھا ہی نہیں جو ان کے سائز کا ہوتا لہذا پی سی بی نے فوری اعلان کیا کہ کنکشن رول کے تحت حارث رؤف کو ٹیم سے نکالا جا رہا ہے اور نسیم شاہ ان کی جگہ بیٹنگ کرنے گئے اور وہ پھر بعد میں بیٹنگ کرنے آئے پاکستان کے سات کھلاڑی 72 پرآؤٹ ہوئے تھے تو آٹھویں وکٹ 114 پر عاکف جاوید کی صورت میں گری۔عاکف جاوید بھی 8 رنز بنا سکے ۔طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے اور اس دوران زبردست تنقید کا سامنا کرنے والے آل راؤنڈت فہیم اشرف چھا گئے ۔انہوں نے ہاف سنچری مکمل کی اور وہ نیوزی لینڈ کے خلاف بہت سیٹ ہو کر بیٹنگ کرتے پائے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے بتایا کہ مجھے ڈراپ کرنا غلط تھا تو پاکستان کے جب 8 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو طیب طاہر کے 13 رنز کے علاوہ اور فہیم اشرف کے علاوہ کوئی ڈبل فگر میں داخل نہیں ہو سکا تھا۔نویں وکٹ پر حارث رئوف کی جگہ آنے والے نسیم شاہ نے فہیم کے ساتھ60 رنزکا اضافہ کیا۔174 کے اسکور پر پاکستان کی 9 ویں وکٹ گری اور فہیم اشرف 80 بالز پر 73 رنزبناکر وکٹ کیپر کو کیچ دے گئے۔انہوں نے 3 چھکے اور 6 چوکے لگائے۔نسیم شاہ دوسرے بڑے اسکورر تھے،انہوں نے 51رنز کئے۔27 ویں ون ڈے میں کیریئر کی پہلی ہاف سنچری کی۔4 چھکے اور 4 چوکے تھے۔سفیان 13 پر ناقابل شکست لوٹے۔پاکستانی اننگ میں تیسرا بڑا اسکور27 ایکسٹراز کا تھا۔پاکستانی ٹیم 41.2 اوورز میں208 رنزبناکر آئوٹ ہوگئی۔یوں اسے84 رنزکی بڑی شکست ہوئی۔ پاکستان کی اننگز کی تباہی میں مرکزی کردار بین سیرز کا تھا،انہوں نے 9.2 اوورز میں 59 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں۔، جیکب ڈفی نے35 رنز دے کر 3کھلاڑی آئوٹ کئے۔
ہیلمٹ نہ ہونے پر امپائرز نے حارث رؤف کو میدان سے باہر نکال دیا
اس سے پہلے پاکستان نے ایک بار پھر ٹاس جیتا اور ٹیم میں چار بڑی تبدیلیاں کیں۔ پچھلے میچ میں تین کھلاڑیوں کو ون ڈے کیپ پہنا دی تھی ،اس مرتبہ چار کھلاڑی نکال کے نئے ڈالے گئے اور اس کے باوجود بھی یہ ٹاس جیتنا بھی اور پاکستان کے بولرز کا ابتدائی اچھا اغاز بھی ٹیم کے کام نہ آیا ۔ سوئنگ پچ پر پاکستانی باؤلرز کو اگرچہ ابتدائی کامیابی دیر سے ملی جب 54 کے سکور پر پہلی اور 71 کے سکور پر دوسری وکٹ، تیسری کامیابی حاصل کرتے نیوزی لینڈ کے سکور 100 ہوگئے تھے۔وہاں ڈیرل مچل اؤٹ ہوئے اور چوتھی وکٹ فورا ملی اور 102 کے سکور پر ہنری نکولس آؤٹ ہوئے اور پانچویں اہم وکٹ ملی جب مچل بریس ویل بھی آؤٹ ہوئے تو اس وقت نیوزی لینڈ کا سکور 26.3 اوورز میں پانچ وکٹوں پر 132 تھا اور ایسا لگتا تھا کہ ٹیم چھا جائے گی لیکن پاکستانی نژاد محمد عباس نے ساتھی کھلاڑی کے مل کر چھٹی وکٹ پر 77 رنز کا اضافہ کر کے نیوزی لینڈ کو بھنورسے نکال دیا اور یوں اس کی ٹیم آہستہ آہستہ 50 اوورز میں 8 وکٹ پر 292 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ماریونے 18 اور نک کیلی نے 31 ،ہنری نکولس نے 22 رنز کیے۔ ڈیرل مچل 18 کر سکے۔ کپتان مچل بریسول 17 رنز بنا کر گئے۔ محمد عباس جنہوں نے پہلے میچ میں تیز ترین 50 رنز بنائے تھے۔ حالات کو سمجھتے ہوئے بڑی سمجھداری سے بیٹنگ کی اور 66 گیندیں گزار گئے اور 41 رن بناکر اپنا حصہ ڈالنے میں مہان ہوئے ۔سب سے بدقسمت کھلاڑی مچل ہائے رہے جو بڑی شاندار اننگز کھیل گئے اور وہ بدقسمتی سے سنچری مکمل نہ کر سکے ۔78 گیندوں پر 99 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔سات چھکے اور سات چوکے ان کی اننگز کا حصہ تھے۔ پاکستان کی جانب سے محمد وسیم نے 78 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور سفیان مقیم جو کہ سپنر تھے ان کو کھلانے کا بڑا دباؤ تھا۔ انہوں نے اپنی سلیکشن درست ثابت کی اور 10 اوورز میں صرف 33 رنز دے کے دو وکٹیں حاصل کیں۔.
حارث روف کو ایک وکٹ کے لیے 75 رنز کی مار پڑی۔ عاکف جاوید کو 48 رنز دینے پڑے اکلوتی وکٹ کے لیے اور فہیم اشرف کو بھی ایک وکٹ کے لیے 46 رنز کی مار سہنی پڑی