دبئی۔کرک اگین رپورٹ۔ایشیا کپ کی 41 ہسٹری بدل گئی،پاکستان بنگلہ دیش کو ہراکر فائنل میں،پہلی بار بھارت سے فائنل ہوگا۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پاکستان نے ایشیا کپ ہسٹری،تاریخ،مسٹری بدل دی۔بنگلہ دیش کو لوسکورنگ شو میں سخت مقابلہ کے بعد 11رنز سے ہراکر فائنل میں قدم رکھ دیئے،جہاں اتوار 28 ستمبر کو روایتی حریف بھارت سے سپر فائنل ہوگا۔ایسا ایشیا کپ ہسٹری میں پہلی بار ہوگا کہ پاکستان بمقابلہ بھارت فائنل کھیلیں گے۔
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کے سپر فور کے اس اہم ترین میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم جب بنگلہ دیش کے خلاف میدان میں اتری تو اس کے سامنے چار حریف تھے ۔
پہلا حریف بنگلہ دیش
دوسرا حریف ایشیا کپ کی 41 سالہ ہسٹری
تیسرا حریف ایشیا کپ ٹی ٹونٹی کی 9 سالہ تاریخ
چوتھا حریف فائنل میں موجود بھارت کے سامنے آنا
ان سب کو شکست دے کر فائنل میں جانے کا مطلب تھا بھارت کے مقابل آنا اور یہ سب آسان نہیں تھا ۔کہتے ہیں ہسٹری نیور چینج ۔ہسٹری کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ تاریخ بدلنا کبھی آسان نہیں ہوتا لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم نے آج تاریخ بدل دی اور بنگلہ دیش کو ہرایا۔ 41 سالہ ہسٹری کو شکست دی۔ ایشیا کپ ٹی20 کی 9 سالہ تاریخ کو پلٹ کر رکھ دیا ۔یوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم اب ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کے فائنل میں پہنچ گئی۔ اس نے بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد نو رن سے شکست دی ۔ اب اس اتوار کو اس کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہوگا اور مسلسل تیسرا اتوار تیسرا میچ سپر فائنل کی شکل اختیار کرے گا۔
ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت فائنل میں ٹکرائیں گے ۔17 واں ایونٹ ہے۔ اس سے قبل کبھی بھی دونوں روایتی حریف فائنل میں نہیں پہنچے تھے۔ایشیا کپ ٹی 20 تاریخ 2016 سے 2025 تک پاکستان اس سے قبل کبھی بھارت سے فائنل نہیں کھیلا تھا۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں اہم ترین میچ میں جو کہ ڈو آر ڈائی یا سیمی فائنل کی شکل اختیار کر گیا تھا ۔بنگلہ دیش نے ایک میجک ٹاس جیتا اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور پاکستان کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے۔ٹیم کا 50 سکور نہیں ہوا تھا ،پانچ وکٹیں پہلے سے میدان بدر ہو چکی تھیں۔ اور یہ ایک عجیب بات تھی۔ اوپنر صائم ایوب ایونٹ میں چوتھی بار صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ یہ کمال ریکارڈ بنایا۔ صاحبزادہ فرحان جنہوں نے پچھلے میچ میں کچھ اچھی بیٹنگ کی تھی وہ آج چار رنز بنا سکے۔ فخر زمان 20 گیندیں کھیلنے کے بعد 13 رنز بنا کر چلتے بنے اور یوں پاکستان کی ٹیم اس وقت شدید دبائو میں آئی، جب حسین طلت بھی صرف تین رنز کر سکے انہوں نے سات گیندوں کا سامنا کیا ۔تھوڑی سی مزاحمت کپتان سلمان علی آغا نے محمد حارث کے ساتھ مل کر کی لیکن سلمان علی آغا بھی 71 کے سکور پر پویلین لوٹے ۔وہ 23 گیندوں پر 19 رنز کر سکے۔ یوں پاکستان کی چھٹی وکٹ گر گئی۔ ساتویں وکٹ کچھ دیر سے گری ۔109 سکور ہوا تھا اور محمد حارث جو آج اچھا کھیل رہے تھے۔ 23 گیندوں پر 31 رنز بنا کر پویلین لوٹے ۔شاہین شاہ آفریدی 13 گیندوں پر 19 رنز کی اچھی ہیٹنگ کی اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑی ہزیمت سے بچایا ۔یوں فہیم اشرف نے 9 گیندوں پر 14 رنز بنا گئے۔ پاکستان کا سکور 8 وکٹ پر 135 کر دیا۔ 20 اوورز پورے کھیل لئے۔ وکٹ کی کنڈیشن دیکھتے ہوئے یہ ایک فائٹنگ سکور تھا ۔ہارنے والا سکور نہیں تھا ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کو یہ آگاہی ہو چکی تھی کہ پچ مشکل ہے اور یہاں پر یہ سلسلہ دوسری اننگ میں بھی جاری رہے گا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے تسکین احمد نے 28 رنز دے کر تین وکٹیں لیں۔ مہدی حسن نے 28 رنز دے کے دو کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا ۔ارشاد حسین نے 18 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔ سب نے کفایتی بولنگ کا کا مظاہرہ کیا ۔
جواب میں بنگلہ دیشی اننگز کا آغاز بھی تباہ کن تھا۔ اوپنر پرویز حسین شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر محمد نواز کو جب کیچ دے گئے تو ان کا سکور صفر اور بنگلہ دیش کا ایک تھا۔ پاکستان کو دوسری کامیابی 23 کے قلیل سکور پر ملی جب ان فارم بیٹر توحید پانچ رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے۔ اس بار کیچ صائن ایوب نے لیا۔ بنگلہ دیش کی تیسری وکٹ 29 کے سکور پر گری ،جب ان فارم بیٹر اوپنر سیف حسن 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی وکٹ حارث روؤف نے لی ۔کیچ صائم ایوب نے پکڑا ۔پاکستان کو چوتھی کامیابی بھی جلد مل گئی جب آٹھویں اوور کی آخری بال پر 44 کے مجموعی سکور پر مہدی حسن مرزا بھی پویلین لوٹے ۔اس بار بائولر محمد نواز تھے اور حسین طلعت کیچ پکڑنے والے تھے۔ یوں 8 اوورز میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے 44 پر چار آؤٹ کیے، تو پاکستان نے ایک جیسی صورت حال کر لی تھی، کیونکہ اس کی چوتھی وکٹ 33 کے سکور پر گری تھی لیکن 44 تک اس کے بھی چار ہی آؤٹ تھے۔
پاکستان کو 5 ویں کامیابی 63 کے سکور پر اسوقت مل جب نور الحسن16 رنزبنا کر محمد نواز کی بال پر کیچ دے گئے۔فیلڈر ایک بار پھر صائم ایوب تھے۔بنگلہ دیش کا اب آخری 48 بالز پر 72 رنزبنانے تھے۔10 رنز کے اضافہ کے بعد کپتان جاکر علی5 رنزبناکر محمد نواز کو کیچ دے گئے۔بائولر صائم ایوب تھے۔یہ 73 کے سکور پر بنگلہ دیش کی چھٹی وکٹ تھی۔پاکستانی کپتان 17 ویں اوور کیلئے جب شاہین آفریدی کو لائے تو بنگلہ دیش 46 رنزکی دوری پر تھا۔اس اوور میں سیٹ بیٹر شمیم حسین شاہین کی بال پر30 رنزبناکر حسین طلعت کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔بنگلہ دیش کو اب 18 بالز پر 39 رنز درکار تھے۔حارث رئوف نے اپنے اوور میں پاکستان کو 2 کامیابیاں دلوادیں۔یوں بنگلہ دیش 101 پر 9 آئوٹ ہوگیا۔پاکستان کی جیت قریب کنفرم کردی۔بنگلہ دیش کی۔ٹیم 20 اوورز میں 9 وکٹ پر 124 رنز تک رہی۔پاکستان 11 رنز سے جیت کر ایشیا کپ 2025 فائنل میں پہنچ گیا۔جہاں اس کا مقابلہ اتوار 28 ستمبر کو بھارت سے ہوگا۔جمعہ 26 ستمبر کو بھارت اور سری لنکا کا سپر 4 کا آخری میچ رسمی کارروائی ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے 17 رنز دے کر 3 اور صائم ایوب نے16 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔حارث رئوف نے33 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔
