بنگلہ دیش اخراج کے بعد سکون یا،پاکستان نے بم پھوڑدیا،بائیکاٹ کیا تو کون جگہ لے گا،عمران عثمانی کا کالم۔آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2026 کے آغاز میں اب صرف 13 روز باقی ہیں لیکن اس سے قبل ٹیموں کی لائن اپ ہونے اور دیگر معاملات کو دیکھیں تو ایک ہفتہ ہی باقی بچتا ہے ،توکیا بنگلہ دیش کے بحران سے بھرپور معاملات کی تکیمل اور اس کے اخراج کے بعد سکون ہوگیا؟بظاہر ایسا لگتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اب ٹی 20 ورلڈکپ میوزیکل چیئر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ہیڈ لائن آگئی ہے اور سب ہیڈ لائنز بن رہی ہیں۔متن کا انتظار ہے۔
سب سے پہلے تو یہ جائزہ لیتے ہیں کہ بنگلہ دیش کا فیصلہ اور ضد دونوں ٹھیک تھے یا غلط اور اب بنگلہ دیش میں کیا حالات ہیں۔سیدھی سی بت ہے کہ عام حالات میں بنگلہ دیش سے اتنے سخت سٹینڈ کی توقع نہیں تھی لیکن یہ تھوڑے عام نہیں خاص حالات ہیں۔بھارت بنگلہ دیش دوریاں اور پاکستان بنگلہ دیش قربتیں اس کی بنیاد بنی ہے۔بنگلہ دیش نے انجام جانتے ہوئے یہ سب کیسے کرلیا کہ آج آئی سی سی کو آفیشل یہ اعلان کرنا پڑا کہ بنگلہ دیش کی چھٹی اور اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کی انٹری۔بنگلہ دیش کی اس سوچ کے پیچھے کیا محرکات تھے؟مطالبہ جائز تھا؟وقت کی کمی آئی سی سی کیلئے کلین چٹ ہے؟یا کچھ اور۔سادہ سی بات ہے کہ پاکستان کی بنگلہ دیش کو بھرپور سپورٹ حاصل تھی۔ضد مناسب تھی یا نہیں۔یہ اب خارچ از بحث ہے۔اس وقت بنگلہ دیش میں ماتم ہے۔سکتہ ہے اور خاموشی ہے۔
بریکنگ نیوز،آئی سی سی فیصلہ آگیا،سکاٹ لینڈ کنفرم
ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں جو باتیں کی ہیں،اس سے کافی دنیا چونک گئی ہے۔نقوی نے آئی سی سی پر ڈکٹیر شپ کا الزام لگایا۔دہرے معیار کا طعنہ دیا۔ساتھ میں پاکستان کی شرکت کو حکومت پاکستان کی اجازت سے مشروط کیا ہے اور آئی سی سی کو 22 ویں ٹیم لانے کا طعنہ مارا ہے اور پلان اے،بی اور سی کے دعوے کئے ہیں۔کیا یہ درست طرز عمل ہے؟کیا یہ کرنا چاہئے اور کیا پاکستان اس سے بنگلہ دیش کو ایونٹ میں واپس لاسکتا ہے اور اگر نہیں تو کیا خود بھی باہر ہوناچاہتا ہے۔اگر ہاں تو کیوں اور اس کے کیا فوائد ہونگے۔کیا نقصانات ہونگے۔
آئی سی سی کا دہرا معیار
آئی سی سی کی جانب سے مقام کی تبدیلی کی بنگلہ دیش کی درخواست کو مسترد کرنے کے بعد سکاوٹ لینڈ نے 2026 کے مردوں کے ٹی 20ورلڈ کپ میں باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کی جگہ لے لی ہے۔ اس فیصلے سے بھارت کی گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں اپنے میچز پاکستان سے دور کھیلنے کی اسی طرح کی درخواست کے ساتھ موازنہ کیا گیا، جسے قبول کر لیا گیا۔ آیا یہ دہرے معیار”کے معاملے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی سے قبل، بھارت نے تقریباً تین ماہ قبل آئی سی سی کو مطلع کر کے سفر سے انکار کا اشارہ دیا تھا کہ وہ ملک کا دورہ نہیں کریں گے اور اس کے بجائے اپنے میچوں کے لیے غیر جانبدار مقام کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے کشیدہ سیاسی تعلقات کے درمیان آئی سی سی، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔آئی سی سی بورڈ کے ووٹ سے منظور ہونے والی حتمی قرارداد نے ایک ہائبرڈ ماڈل متعارف کرایا جس کے تحت پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مقابلوں میں بھارت کے میچز غیر جانبدار مقام پر کھیلے جاتے تھے، پاکستان کو بھارت کی میزبانی میں ہونے والے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھی یہی انتظام حاصل تھا۔ بھارت نے دبئی میں اپنے چیمپئنز ٹرافی کے میچز کھیلے، ایک ایسا اقدام جس نے ٹیم کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود 2023 ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر کرنے کی روشنی میں اسے بھارت کی زیادتی گردانا گیا۔ بھارت کے انکار نے بالآخر ہائبرڈ ماڈل کو اپنانے پر مجبور کیا، جس نے 2025 کے خواتین ورلڈ کپ کے لیے کولمبو میں مقیم پاکستان کے ساتھ باہمی فوائد کو بھی یقینی بنایا اور 2027 تک جاری رہنے والے انتظامات کے تحت آنے والے ورلڈ کپ کے لیے دوبارہ وہیں آباد ہو گئے۔
بھارت مرضی سے مقام پر کھیل سکتا،بنگلہ دیش کیوں نہیں
یہ دونوں واقعات آپ کو سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ کیا بین الاقوامی کرکٹ میں انصاف پسندی مشروط ہے۔ لیکن صورت حال کی کئی باریکیاں ہیں۔ بھارت کے پاس اپنے ارادے بتانے کے لیے تین ماہ کا وقت تھا۔ بنگلہ دیش کے پاس ٹورنامنٹ سے بمشکل ایک مہینہ باقی تھا کہ وہ اپنے تحفظات کا اظہار کرے، جب کہ شیڈول اور گروپس کا پہلے ہی اعلان ہو چکا تھا۔ کیا صرف وقت ہی اس طرح کے فرق کا جواز پیش کرتا ہے؟ اور کیا ہم بحران پیدا کرنے میں مستفیص الرحمان کو سیاسی اشارے کے طور پر استعمال کرنے کے بھارت کے کردار کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔رحمان کو ہٹانے کا بھارت کا فیصلہ ناقابل معافی تھا۔ بغیر وضاحت کے ایک کھلاڑی کو چھوڑ کر، بی سی سی آئی ایک پیغام بھیجتا ہے کہ کرکٹ سیاسی مقاصد کو پورا کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے ملک کے پس منظر میں سامنے آیا جس میں ہندو قوم پرست ایجنڈے پر تیزی سے زور دیا جا رہا ہے، جہاں سیاسی پیغام رسانی، عوامی جذبات اور مذہبی علامتوں کا وزن بہت زیادہ ہے۔ بھارت بنگلہ دیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں کیوں مداخلت کر رہا تھا اور کرکٹ کے فیصلے ان پر کیوں کر رہا تھا، اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔تو احتساب کہاں ہوتا ہے؟ بھارت نے کرکٹ کے ذریعے سیاسی پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی طاقت کا استعمال کیا۔ بنگلہ دیش نے اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے کام کیا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت، بشمول مالی طور پر، قوانین کو کس طرح کسی کے حق میں موڑ سکتی ہے۔دوسری طرف، بنگلہ دیش کے پاس آئی سی سی پر اثر انداز ہونے کی طاقت یا مالی وسائل نہیں تھے، اور آخر کار، اس فیصلے کا خمیازہ بھگتنے کے لیے چھوڑ دیا گیا جس کے بارے میں انہوں نے تین ہفتے قبل پہلے جگہ پر غور بھی نہیں کیا تھا۔
