لاہور،دبئی۔کرک اگین رپورٹ۔ لاہور میں آئی سی سی بیٹھک،پاکستان کچھ مان گیا،کچھ منوانے کی کوششیں،نقوی وزیر اعظم سے دوبارہ ملیں گے۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پاکستان ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت کے میچ کے بائیکاٹ کے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے۔ آئی سی سی نے پاکستان کو 2 سے 3 معاملات میں تعاون کی پیشکش کردی لیکن ضروری نہیں کہ وہ پورا کرسکے،اس میں ہینڈ شیک،مالیات،بنگلہ دیش کیلئے فوائد جیسے ایشوز ہیں۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی بھی اب نہیں ڈٹے ہوئے، کچھ بورڈ آفیشلز میچ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ نقوی حتمی فیصلہ آنے سے قبل اس معاملے پر ایک بار پھر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کریں گے۔
اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں نقوی سے ملاقات کے دوران آئی سی سی حکام نے پی سی بی کو بائیکاٹ کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔نقوی، جو پاکستان کے وزیر داخلہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ایک بار پھر اس معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف سے مشورہ کریں گے۔آئی سی سی کے وفد سے ملاقات کے علاوہ نقوی اور پی سی بی کے دیگر حکام نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ امین الاسلام بلبل کے ساتھ جاری تعطل کے حوالے سے بات چیت کی۔لہجے کی یہ اچانک تبدیلی آئی سی سی کی جانب سے پاکستان سے وضاحت طلب کرنے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ٹیم کے بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے سے انکار کو جواز فراہم کرنے کے لیے کس طرح فورس میجر کی شق کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سری لنکا کرکٹ نے بھی پی سی بی کو خط لکھا ہے کہ مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے ان کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔ اپنے خط میں سری لنکا نے پاکستان کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ 2009 کے لاہور حملوں کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے بڑے ممالک میں سے ایک ہیں۔
متحدہ عرب امارات کرکٹ حکام نے بھی پی سی بی کو فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
آئی سی سی نے کہا ہے کہ وہ بھارتی بورڈ سے بات کرے گا کہ کھیل کی روح کے منافی اقدامات سے گریز کرے اور ہینڈ شیک جیسے ایشوز کو بڑھاوا مت دے۔
