تحریر ۔حافظ محمد عمران عثمانی
ٹیسٹ کرکٹ کا تاریخی سنگِ میل اور پاکستان کے وجود کی سب سے بڑی جنگ۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان آئندہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز جہاں دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کے لیے سنسنی کا باعث ہے، وہاں یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا ریکارڈ ساز باب رقم کرنے جا رہی ہے جو دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا جوں جوں وقت قریب آ رہا ہے، کرکٹ پنڈت اعداد و شمار کے ترازو ہلا رہے ہیں۔ جی ہاں، جب برطانوی ٹیم پاکستان کے خلاف اس سیریز کا اختتام کرے گی، تو ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں اس کے 1100 ٹیسٹ میچز مکمل ہو چکے ہوں گے۔ سیریز کا آخری اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ انگلینڈ کی کرکٹ تاریخ کا 1100واں آفیشل معرکہ ہوگا۔ اب تک کھیلے گئے 1097 میچز میں سے انگلش ٹیم نے 405 میں فتح سمیٹی، 336 میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ باقی مقابلے ڈرا کی نذر ہوئے۔
دوسری جانب، روایتی طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیشہ اپنی فتوحات کا غلبہ اور رعب قائم رکھنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت تاریخ کے شدید ترین اسٹریٹجک خطرے سے دوچار ہے۔ پاکستان نے اب تک اپنے طویل کرکٹ سفر میں مجموعی طور پر 471 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، جن میں سے 152 مقابلوں میں گرین شرٹس سرخرو ہوئے جبکہ 151 میچز میں انہیں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اعداد و شمار کا یہ باریک توازن یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ فتوحات اور ناکامیوں کا یہ ہندسہ اب بالکل دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے۔ اگر انگلینڈ کی تیز و تند پچوں پر پاکستان کو شکستوں کا سامنا زیادہ کرنا پڑ گیا، تو کرکٹ ہسٹری میں پہلی بار یہ داغ لگے گا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں فتوحات سے زیادہ ناکامیوں کی دلدل کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
باہمی معرکوں کی سنچری اور انگلش غلبے کا تاریخی کچا چٹھا
دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں انگلینڈ اپنے 1100ویں ٹیسٹ کی دہلیز پر کھڑا ہے، وہاں پاکستان اور انگلینڈ کے باہمی ٹیسٹ میچوں کی سنچری (100 میچز) کا تاریخی ہندسہ بھی اب زیادہ دور نہیں رہا، تاہم اس سنگِ میل کو چھونے کے لیے اب بھی کم از کم دو مزید ٹیسٹ سیریز درکار ہوں گی۔ اگر دونوں ممالک کے باہمی کرکٹ ریکارڈز کا پوسٹ مارٹم کیا جائے، تو اب تک کھیلے گئے 92 آفیشل ٹیسٹ میچوں میں برطانوی ٹیم کا غلبہ واضح نظر آتا ہے۔ انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف 30 معرکوں میں فتح کا جھنڈا گاڑا ہے، جبکہ گرین شرٹس کے حصے میں صرف 23 فتوحات آئی ہیں۔ روایتی حریفوں کے مابین کھیلے گئے 39 ٹیسٹ میچز بغیر کسی نتیجے کے ڈرا کی نذر ہوئے۔
صرف میچز ہی نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اب تک کھیلی گئی 28 تاریخی ٹیسٹ سیریز کے نتائج بھی انگلش ٹیم کی برتری کی گواہی دیتے ہیں۔ انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف 11 ٹیسٹ سیریز اپنے نام کر رکھی ہیں، جبکہ پاکستان کے حصے میں صرف 9 سیریز کی فتوحات آئی ہیں، اور دونوں ٹیموں کے مابین 8 ٹیسٹ سیریز برابری کی بنیاد پر ڈرا ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اس بار انگلینڈ کی پچوں پر قدم رکھتے ہی پاکستانی الیون پر ماضی کی اس برتری کا ایک شدید نفسیاتی دباؤ بھی سوار ہوگا۔
برٹش دھرتی پر گرین شرٹس کی تاریخی مزاحمت اور ریکارڈز کا سچ
اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کی سرزمیں پر انفرادی کارکردگی کا مروجہ ریکارڈز کی روشنی میں گہرا جائزہ لیا جائے، تو تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ کی پچوں پر اب تک مجموعی طور پر 56 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔ ان 56 کڑے معرکوں میں سے گرین شرٹس نے 12 میچوں میں برطانوی شیروں کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر چٹائی لہرائی، جبکہ 24 میچوں میں پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس ریکارڈ کا سب سے مضبوط اور جاندار پہلو پاکستان کی وہ تاریخی مزاحمت ہے جس کے تحت اس نے 20 ٹیسٹ میچز انگلینڈ کی ہوم پچوں پر ڈرا کھیلے۔
برٹش ہوم کنڈیشنز کے خلاف اتنے بڑے مارجن پر میچز کو ڈرا کر لے جانا گرین شرٹس کی اعصابی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ موجودہ صدی کے دوران پاکستان نے انگلینڈ میں مسلسل 3 ٹیسٹ سیریز برابری کی بنیاد پر ڈرا کھیلیں، جو کہ دنیا کی بڑی سے بڑی کرکٹ الیون کے لیے برطانوی میدانوں پر ایک انتہائی کٹھن اور قابلِ فخر کارنامہ مانا جاتا ہے۔
تین عشروں کا طویل انتظار اور برٹش سرزمیں پر تاریخی ہیٹ ٹرک کا سچ
اب ایک ایسا سوال سامنے آتا ہے جو موجودہ نسل کے کرکٹ شائقین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دے گا کہ پاکستان نے انگلینڈ کی سرزمیں پر آخری بار کب کوئی ٹیسٹ سیریز جیتی تھی؟ ریکارڈز کا کواڑ کھولیں تو معلوم ہوگا کہ پورے تین عشرے—یعنی 30 سال طویل عرصہ قبل—پاکستان نے آخری بار انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی تھی۔ یہ 1996 کا وہ یادگار سال تھا جب وسیم اکرم کی جادوئی قیادت میں گرین شرٹس نے برٹش سرزمیں پر فتح کا پرچم لہرایا تھا۔ یہ پاکستان کرکٹ کا وہ شاندار اور مائی ناز دور تھا جب پاکستان نے انگلینڈ کو اسی کے ہوم گراؤنڈ پر مسلسل تین ٹیسٹ سیریز ہرا کر فتوحات کی تاریخی ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔ اس بے مثال سفر کا آغاز 1987 میں کپتانِ اعظم عمران خان کی قیادت میں ہوا، جس کا دوسرا پڑاؤ 1992 میں جاوید میانداد کی عاقلانہ کپتانی میں دیکھا گیا، اور حتمی مہر 1996 میں وسیم اکرم نے ثبت کی۔
مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس سنہری ہیٹ ٹرک سے نہ تو پہلے کبھی پاکستان انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ سیریز جیت سکا تھا، اور نہ ہی اس کے بعد سے اب تک کوئی تاریخ بدلی جا سکی ہے۔ ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، پاکستان وہاں یا تو سیریز ہارا ہے یا پھر بمشکل ڈرا کھیلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اگر انگلینڈ کی دھرتی پر کھیلی گئی تمام 16 ٹیسٹ سیریز کا مجموعی جائزہ لیا جائے، تو تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان صرف 3 سیریز جیت سکا ہے، جبکہ انگلینڈ نے 8 سیریز میں فتح کا جشن منایا، اور 5 ٹیسٹ سیریز برابری کی بنیاد پر ڈرا کی نذر ہوئیں۔
رینکنگ کی جنگ، بدلی ہوئی قیادتیں اور ہیڈنگلے لیڈز کا معرکہ
موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو بابر اعظم کی قیادت میں کھیلنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر کھیلی ہے۔ گرین شرٹس کے اس حالیہ سفر کو اگر ہم کوئی بڑی کامیابی قرار نہیں دے سکتے، تو یہ کوئی بدترین ناکامی بھی نہیں ہے۔ اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے رواں سائیکل میں پاکستان آٹھویں پوزیشن پر براجمان ہے، جبکہ روایتی حریف انگلینڈ انتہائی معمولی پوائنٹس کے فرق کے ساتھ ٹھیک اس سے اوپر ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ اعداد و شمار کا یہ اکھاڑا صاف بتا رہا ہے کہ اگر پاکستان اس آئندہ معرکے میں دو صفر سے فتح حاصل کر لیتا ہے یا صرف ایک میچ کا پلس مارجن بھی نکال لیتا ہے، تو وہ رینکنگ میں اپنی پوزیشن کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
دونوں ممالک کے مابین 19 جون سے ہیڈنگلے (لیڈز) کے تاریخی میدان میں تین میچوں پر مشتمل اس سیریز کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، جو کئی معنوں میں ایک بالکل نئی اور تاریخی سیریز ثابت ہوگی۔ انگلینڈ کا کیمپ اس وقت بڑے بدلاؤ سے گزر رہا ہے جہاں بین اسٹوکس ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور سابق کپتان جو روٹ ایک بار پھر برطانوی ٹیم کی کمان سنبھال کر میدان میں اتر رہے ہیں۔ برطانوی کیمپ نئے تھنک ٹینک اور بالکل نئی مینجمنٹ کے ساتھ میدان سجائے گا۔ دوسری جانب، پاکستان کی ٹیم بھی جب انگلینڈ کی سرزمیں پر قدم رکھ رہی ہے، تو بابر اعظم بھی طویل بریک کے بعد ایک بالکل نئے روپ اور نئے عزم کے ساتھ ٹیسٹ کپتان کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان نے آخری بار سال 2020 میں انگلینڈ کا جو دورہ کیا تھا، اس میں گرین شرٹس کو شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تھا، اور اس وقت ٹیم کے کپتان اظہر علی تھے۔ اب تاریخ خود کو دہراتی ہے یا بابر اعظم لارڈز اور لیڈز کی پچوں پر کوئی نیا معجزہ رقم کرتے ہیں، اس کا فیصلہ وقت کی کوکھ میں چھپا ہے۔
