تحریر ۔حافظ محمد عمران عثمانی
دورہ انگلینڈ کا پہلا محاذ لیڈز اور پاکستان کی اکلوتی یاد،حال کا پچھتاوا
دورہِ انگلینڈ کا پہلا محاذ۔ہیڈنگلے (لیڈز) اور پاکستان کی اکلوتی یاد۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز اور کرکٹ بریکنگ نیوز میں سے ایک۔
انگلینڈ کی سرزمیں پر اس بار گرین کیپس کا پہلا معرکہ ہیڈنگلے (لیڈز) کے میدان میں سجنے جا رہا ہے۔ کرکٹ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو لیڈز کے اس گراؤنڈ کے ساتھ پاکستان کی ٹیسٹ ہسٹری کی ایک انتہائی حسین اور اکلوتی فتح کی یاد وابستہ ہے، اور جب بھی اس معرکے کا ذکر ہوگا، سابق کپتان عمران خان کا نام آنا ناگزیر ہے۔ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان نے برٹش دھرتی پر کبھی بھی اپنی ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہیڈنگلے سے نہیں کیا، لیکن اس بار میزبان انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ECB) نے پہلا ہی ٹیسٹ میچ اس روایتی پچ پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے، جو اپنے اندر کئی سنسنی خیز پہلو چھپائے ہوئے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہیڈنگلے لیڈز کا یہ میدان پاکستان کے لیے مجموعی طور پر کیسا ٹیسٹ سینٹر ثابت ہوا ہے اور یہاں کے ریکارڈز کیا کہتے ہیں۔
1987 کا لیڈز معرکہ: ایک اننگز، 18 رنز اور کپتان کا تاریخی سپیل
برٹش سرزمیں پر آخری بار ٹیسٹ سیریز جیتے ہوئے پورے 30 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور بالکل اسی چیلنج کے ساتھ آج بابر اعظم بھی ایک بھاری بوجھ کندھوں پر اٹھائے انگلینڈ کی دھرتی پر اتر رہے ہیں۔ تاریخ کے پتے پلٹیں تو آج سے ٹھیک 39 برس قبل، یعنی سال 1987 میں، جب پاکستان کی ٹیم ہیڈنگلے کے میدان میں اتری تو پانچ میچوں کی وہ سیریز اس موڑ تک بالکل برابری پر ڈرا کھڑی تھی اور پاکستان اس سے پہلے انگلینڈ میں کبھی کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا تھا۔
مگر پھر تاریخ نے لیڈز کی پچ پر ایک ایسا معجزہ دیکھا جس نے برٹش غرور کو خاک میں ملا دیا۔ عمران خان کی قیادت میں کھیلنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کو اسی کے گراؤنڈ پر حیران کن طور پر ایک اننگز اور 18 رنز سے شکست دے دی۔ اس معرکے کے سب سے بڑے ہیرو خود کپتان عمران خان تھے، جنہوں نے پہلی اننگز میں 3 وکٹیں لیں اور پھر دوسری اننگز میں صرف 40 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کرنے پر عمران خان کو اس تاریخی فتح کا “مین آف دی میچ” قرار دیا گیا، اور یہی وہ معرکہ تھا جس نے پاکستان کو انگلینڈ میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز کا فاتح بنایا۔
برٹش سرزمیں پر فتوحات کی سنہری ہیٹ ٹرک اور عزمِ نو کی پکار
ہیڈنگلے کے میدان پر اس فتح کو رقم کرنے کے بعد، پاکستان نے سیریز کے اگلے دو ٹیسٹ میچز ڈرا کھیلے۔ کیا کلاسک زمانہ تھا اور کیا وہ اعصاب شکن سیریز تھی! یوں پانچ میچوں کا وہ طویل معرکہ پاکستان نے ایک صفر سے اپنے نام کر کے تاریخ میں پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ برٹش سرزمیں پر فتوحات کے اس قلعے کی بنیاد سابق کپتان عمران خان نے جس شاندار انداز میں رکھی تھی، اس کا تسلسل اگلے دوروں میں بھی جاری رہا۔ ٹھیک پانچ سال بعد، یعنی 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کے فوری بعد، پاکستان جب دوبارہ انگلینڈ پہنچا تو اس بار جاوید میانداد کی قیادت میں گرین کیپس نے دو ایک سے فتح سمیٹ کر دوسری بار مسلسل ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی۔
مگر پاکستان کرکٹ کی یہ لہر یہیں نہیں رکی۔ سال 1996 میں وسیم اکرم کی کپتانی میں کھیلنے والی ٹیم نے ایک بار پھر برٹش سرزمیں پر فتح کا جھنڈا گاڑا اور یوں پاکستان نے انگلینڈ کے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تاریخی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ مگر آج یہ سوال ذہنوں کو جھنجھوڑتا ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ کا وہ سنہری دور صرف انہی 10 سالوں (1987 سے 1996) پر محیط تھا؟ کیا ہم صرف تاریخ کے جھروکوں سے ہی پرانی یادیں تازہ کراتے رہیں گے؟ کیا پاکستان کو اب دوبارہ نہیں جیتنا چاہیے؟ جس دورے کی اتنی مضبوط بنیادیں رکھی گئی تھیں، وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ قیادت میں سے کوئی کپتان آگے بڑھے اور اس بار ایسی جیت کا اسکرپٹ لکھے کہ پاکستان ایک بار پھر اگلی تین سیریز مسلسل جیت کر اس پرانی ہیٹ ٹرک کی یادوں کو تازہ کر دے۔
ہیڈنگلے کا کچا چٹھا: لارڈز اور اوول کے مقابلے مایوس کن ریکارڈ کا سچ
اگرچہ ہم اپنے گزشتہ مضمون میں برٹش دھرتی پر پاکستان کے مجموعی ٹیسٹ ریکارڈز اور میچوں کا احاطہ کر چکے ہیں، لیکن جب بات خاص طور پر ہیڈنگلے (لیڈز) کے اس مخصوص میدان کی آتی ہے تو گرین کیپس کا ریکارڈ کافی مایوس کن نظر آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ پچ پاکستان کے لیے کبھی زیادہ سازگار ثابت نہیں ہو سکی۔ پاکستان نے اس گراؤنڈ پر اب تک مجموعی طور پر 10 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، لیکن حیران کن طور پر ان 10 معرکوں میں پاکستان کے حصے میں وہی صرف ایک اکلوتی فتح آئی ہے جو 1987 میں عمران خان نے حاصل کی تھی۔
اس ایک تاریخی فتح کے برعکس، پاکستان کو ہیڈنگلے کے اس میدان پر 6 ٹیسٹ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ دونوں ٹیموں کے مابین یہاں کھیلے گئے صرف 3 ٹیسٹ میچز ہی ڈرا ہو سکے۔ اعداد و شمار کا یہ موازنہ یہ صاف ثابت کرتا ہے کہ اوول اور لارڈز جیسے روایتی کرکٹ سینٹرز کے مقابلے میں، ہیڈنگلے لیڈز کی تیز اور سوئنگ ہوتی ہوئی پچ پاکستان کے لیے کبھی زیادہ بہتر ثابت نہیں ہو سکی۔ اس بار بھی سیریز کا پہلا ہی معرکہ اس کٹھن پچ پر ہونا بابر الیون کے اعصاب کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
نرسری میں ہو کا عالم: بنجر پیس اٹیک اور پچھتاوے کی تپتی دھوپ
وہ سال 1987 کا سنگِ میل تھا یا پھر 1996 کا معرکہ، مگر جو کچھ بھی تھا، وہ پاکستان کی کرکٹ کا ایک ایسا سنہری دور تھا جہاں دنیا میں ہماری اصل پہچان ہی تیز ترین فاسٹ بالنگ مانی جاتی تھی۔ مگر آج جب ہم پاکستان کے موجودہ پیس اٹیک پر نظر دوڑاتے ہیں تو دل شدید پچھتاوے سے بھر جاتا ہے۔ آج کا یہ حملہ بین الاقوامی تجربے سے عاری، وکٹوں سے بالکل خالی اور حالیہ پرفارمنس کے لحاظ سے بالکل سوکھا نظر آتا ہے۔ کہاں وہ عروج کا دور جس میں جاوید میانداد، انضمام الحق اور یونس خان جیسے چٹان بلے باز برٹش سرزمیں پر فولاد بن جاتے تھے یا ان سے قبل ظہیر عباس کی تکنیک بولتی تھی، اور کہاں آج کا یہ دور—دونوں زمانوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
اگرچہ سامنے موجود میزبان برطانوی ٹیم بھی اب وہ پرانی خطرناک ٹیم نہیں رہی، بین اسٹوکس کے بعد وہ ابھی حال ہی میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہارے ہیں اور پورے طریقے سے زخم خوردہ ہیں، مگر اس کے باوجود اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو پاکستان کا بالنگ اٹیک تجربے سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ برٹش وکٹوں پر اب محمد عباس کے تجربے اور لائن و لینتھ کے سوا پاکستان کے پاس بالرز کو معاونت دینے کا اور کوئی متبادل موجود ہی نہیں ہے۔ یہ بات طے ہے کہ انگلینڈ کی ان پچوں پر ہم نعمان علی یا ساجد خان کے اسپن وار کے بھروسے کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
آج ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جو پاکستان ایک طویل عرصے تک فاسٹ بالرز کے لیے زرخیز نرسری مانا جاتا تھا، آج اس کا بالنگ اٹیک بالکل ایسے ہو چکا ہے جیسے کسی علاقے میں کئی سال سے بارش نہ ہوئی ہو اور وہ خطہ بالکل بنجر اور صحرا بن چکا ہو۔ اب وقت آ چکا ہے کہ گرین کیپس ماضی کے جھروکوں سے نکل کر اس بنجر حال کی تلخ حقیقت کا سامنا کرے۔
دورہ انگلینڈ،ٹیسٹ کرکٹ کا تاریخی سنگ میل اور پاکستان کرکٹ کے وجود کی بڑی جنگ
