حافظ محمد عمران عثمانی کا خصوصی تجزیہ
کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز،بریکنگ نیوز۔تازہ ترین اپ ڈیٹ ۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کو دشمنی سمجھنے کے بجائے ایک کڑوی سچائی کے طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہیڈنگلے ٹیسٹ کا احوال دیکھیں تو بارش کی وجہ سے تین دن کے اس کھیل میں سے تقریباً پونا دن ضائع ہو گیا، یعنی دونوں ٹیموں کو صرف دو دن کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے باوجود ہماری بیٹنگ لائن اس قدر ریت کی دیوار ثابت ہوئی کہ ایک ٹیسٹ میچ کے مقررہ 90 اوورز بھی دونوں اننگز ملا کر مکمل نہ کھیل سکی اور محض 85 اوورز میں پوری ٹیم دو بار آؤٹ ہو کر ایک اننگز اور 103 رنز سے ہار گئی۔جب ایک برطانوی صحافی نے اس عبرتناک شکست پر پاکستان کو پچھلے 50 سال کی بدترین ٹیم قرار دیا، تو ہمارے مقامی میڈیا نے اسے تعصب کا نام دے کر واویلا شروع کر دیا کہ گورا میڈیا ہمارے پیچھے پڑ گیا ہے۔
ہیڈنگلے کی ذلالت اور مکافاتِ عمل،ہیروز کی توہین کا عبرت ناک انجام
حقیقت یہ ہے کہ مائیکل وان اور رمیز راجہ جیسے سابق کپتان اب جو باتیں کر رہے ہیں، وہ ہمیں صرف آئینوں کی طرح ہماری اصل تصویر دکھا رہے ہیں۔ جب کوئی آپ کو آپ کی کمزوریاں بتائے تو آنکھیں دکھانے اور لڑنے کے بجائے شرم سے سر جھکا کر اپنی اصلاح کرنی چاہیے، کیونکہ اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔اس شرمناک زوال پر انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے گہرے دکھ اور خوف کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں پاکستان کی کئی مضبوط ٹیمیں دیکھیں، لیکن موجودہ ٹیم میں وہ روایتی جذبہ اور لڑنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ وان کے مطابق، میدان میں پاکستانی کھلاڑی انتہائی ڈرپوک دکھائی دیے اور ان کے کھیل میں نہ تو کوئی منصوبہ بندی نظر آئی اور نہ ہی وہ مہارت جو کبھی اس ملک کا خاصہ تھی۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ اس بدترین کارکردگی پر ٹیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانا بالکل درست اور جائز ہے۔یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کیونکہ یہ وہ ملک ہے جس نے ماضی میں عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے عظیم کھلاڑی پیدا کیے، جن کی بدولت پاکستان نے 80 اور 90 کی دہائی میں انگلینڈ کی دھرتی پر لگاتار تین ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور ایک دہائی قبل یہ ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم تھی۔ آج وہی پاکستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی رینکنگ میں سب سے آخری پوزیشن پر کھڑا ہے، جہاں دسمبر 2023 سے لے کر اب تک کے 19 ٹیسٹ میچوں میں سے اسے 14 میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل شکستوں کی وجہ سے اب کرکٹ شائقین کا اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب کوئی ٹیم اپنے آخری 20 میچوں میں سے 17 ہار جائے، تو کوئی بھی سچا مداح ایسی ٹیم کی پشت پناہی نہیں کر سکتا۔ پاکستانی کرکٹ کا پہلا اور سب سے بڑا ستون اس کے شائقین تھے، اور اب وہ بھی اس مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم سے دور ہو چکے ہیں۔ جب تک بورڈ، کپتان اور کھلاڑی اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر کے اصلاح کی طرف نہیں بڑھیں گے، یہ زوال تھمنے والا نہیں ہے۔
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تازہ ترین پوائنٹس ٹیبل نے پاکستانی کرکٹ کے زوال پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ پاکستان ایک بار پھر تنزلی کا شکار ہو کر نویں اور سب سے آخری نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں پوائنٹس کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کیریبین ٹیم آٹھویں نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ گرین شرٹس کو آخری پوزیشن کا داغ اٹھانا پڑا ہے۔ اس بدترین ریکارڈ کے بعد سب سے بڑا المیہ تو تب سامنے آتا ہے جب پریس کانفرنسوں میں کپتانوں اور مینیجمنٹ سے اس ناکامی پر سوال کیے جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے بجائے صحافیوں سے الجھ پڑتے ہیں، غصہ دکھاتے ہیں اور لڑنے پر اتر آتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت کھو چکے ہیں۔
Related Posts
Add A Comment
