ہیڈنگلے ۔لیڈز۔کرک اگین خصوصی رپورٹ ۔تجزیہ ۔عمران عثمانی
کامیابی کی توہین اور ہیڈنگلے کا عبرت ناک انجام۔کیا کرکٹ اب ہمیں ذلیل کر رہی ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کامیاب قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیں اور کھیل کی لاج رکھنا جانتی ہیں۔ جو معاشرے اپنے محسنوں، سابق کپتانوں اور عظیم کھلاڑیوں کو عزت نہیں دیتے، کھیل بھی ان سے منہ موڑ لیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی کامیاب ترین ہیروز کے ساتھ برا سلوک کریں گے، تو کرکٹ کے میدان ہمیں کبھی عزت نہیں بخشیں گے بلکہ وہاں سے صرف اور صرف ذلالت ہمارا مقدر بنے گی۔ اس مکافاتِ عمل کی تازہ ترین اور عبرت ناک مثال ہیڈنگلے، لیڈز کے میدان سے سامنے آئی ہے۔یہ وہی تاریخی میدان ہے جہاں 1987 میں عظیم سابق کپتان عمران خان کی جرات مندانہ قیادت میں پاکستان نے تاریخی ٹیسٹ فتح حاصل کی تھی، لیکن آج اسی سرزمین پر پاکستان میچ کے تیسرے ہی دن گھٹنے ٹیک کر شرمناک شکست سے دوچار ہو گیا ہے۔
ہیڈنگلے لیڈز ٹیسٹ میں دو دن کا کافی وقت بارش کی نذر ہونے کے باوجود پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے ہاتھوں ایک اننگز اور 103 رنز کی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 171 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی، جس کے جواب میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں قریب 90 اوورز بیٹنگ کی اور پوری ٹیم 409 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ انگلینڈ کی طرف سے جوفرا آرچر 23 اور جیمی سمتھ 25 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ پاکستان کی جانب سے بولنگ میں علی عثمان نے 95 رنز دے کر 5 اور خرم شہزاد نے 133 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
میچ کے تیسرے روز جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اپنی دوسری اننگز شروع کی تو اسے 238 رنز کے بھاری خسارے کا سامنا تھا، لیکن حسبِ سابق بیٹنگ لائن ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 37.3 اوورز میں صرف 135 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ دوسری اننگز میں محمد رضوان 41 رنز بنا کر آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی تھے، ان کے علاوہ شان مسعود نے 29، عبداللہ شفیق اور سعود شکیل نے 15، 14 رنز بنائے۔ کپتانی کے فرائض سرانجام دینے والے سلمان علی آغا صرف 4 رنز بنا سکے، اذان اویس نے 9 رنز کیے جبکہ امام الحق صفر پر ہی چلتے بنے۔ انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں اولی رابنسن، جوفرا آرچر اور جوش ٹنگے نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پورے میچ میں جوش ٹنگے اور اولی رابنسن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 8، 8 وکٹیں اپنے نام کیں۔ یوں انگلینڈ نے یہ میچ جیت کر تین میچز کی سیریز میں ایک صفر (1-0) کی برتری حاصل کر لی ہے اور دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے ہوم آف کرکٹ لارڈز میں شروع ہوگا۔
اس شرمناک کارکردگی پر انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ وہاں کے کرکٹ تجزیہ کاروں اور سابق کرکٹرز نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی یہ ٹیم انگلینڈ کا دورہ کرنے والی گزشتہ 50 سالہ تاریخ کی سب سے کمزور ترین ٹیم ہے، اور ان کا یہ دعویٰ آج سچ ثابت ہو کر ایک بڑی ہیڈ لائن بن چکا ہے۔ پاکستان کی ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے اندر نہ تو بولنگ کی صلاحیت ہے اور نہ ہی بیٹنگ کی۔ ٹیم کے کوچز اور منتظمین اسے تباہی و بربادی کے راستے پر لے جا رہے ہیں اور پاکستانی کرکٹ تنزلی کی آخری منزل پر پہنچ چکی ہے۔ یہ سب کیوں اور کس کی وجہ سے ہو رہا ہے، اب یہ دیکھنا اربابِ اختیار کا کام ہے۔
لیڈز ٹیسٹ،خراب فیلڈنگ،عثمان کی 5 وکٹیں،دوسرا دن بھی انگلینڈ کا
