لیڈز۔کرک اگین رپورٹ ۔تجزیہ حافظ محمد عمران عثمانی
کرکٹ بریکنگ نیوز اور تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک
لیڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز بھی مکمل طور پر انگلینڈ کے نام رہا، جہاں میزبان بیٹرز نے پاکستانی بولرز کی بے بسی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پہلے دن انگلش بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہونے والی پاکستانی ٹیم دوسرے دن بھی کسی محاذ پر حریف کھلاڑیوں کے لیے کوئی بڑی مشکل کھڑی نہ کر سکی۔ ناقص فیلڈنگ، ڈراپ کیچز اور بارش کے بعد پاکستانی گیند بازوں کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انگلینڈ نے دوسری اننگز میں کھیل کے دوسرے دن کے اختتام تک 8 وکٹوں کے نقصان پر 366 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 195 رنز کی ایک مضبوط اور بھاری سبقت حاصل کر لی ہے، جبکہ اس کی اب صرف 2 وکٹیں باقی ہیں۔ انگلش اننگز کی خاص بات اب تک بننے والی چار شاندار ہاف سنچریاں تھیں جنہوں نے ٹیم کو اس مضبوط پوزیشن پر پہنچایا۔
خراب موسم اور مسلسل بارش کے باعث میچ مقامی وقت کے مطابق دوپہر پونے تین بجے شروع ہوا, جس کا مطلب یہ تھا کہ پہلا سیشن مکمل طور پر ضائع ہو گیا جبکہ دوسرے سیشن کا بھی ایک گھنٹہ پانچ منٹ کا کھیل متاثر ہوا۔ منتظمین نے وقت کی تلافی کے لیے دن بھر میں 58 اوورز کا کھیل ممکن بنانے کی پوری کوشش کی۔ میدان میں اترتے ہی انگلینڈ کے ناٹ آؤٹ بیٹرز، جو روٹ اور جارڈن کاکس نے موسم کی سختیوں اور پچ کی نمی کو یکسر فراموش کرتے ہوئے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا۔ دونوں نے کھل کر اسٹروکس کھیلے اور تیزی سے رنز بٹورتے ہوئے انگلش اسکور کو 198 رنز تک پہنچا دیا، جو پاکستان کے پہلی اننگز کے اسکور سے کہیں زیادہ تھا۔ اس موقع پر علی عثمان نے 150 رنز کی طویل شراکت داری کو توڑ کر پاکستان کو تیسری کامیابی دلائی، جب جارڈن کاکس 100 گیندوں پر 73 رنز بنا کر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے فوراً بعد خرم شہزاد نے انگلش کپتان جو روٹ کو 66 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو چوتھی بڑی کامیابی دلائی۔
اوپر تلے دو وکٹیں گرنے سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستانی باؤلرز میچ پر تھوڑا قابو پا لیں گے، کیونکہ اس وقت انگلینڈ کی برتری صرف 31 رنز کی تھی، لیکن فیلڈرز کی روایتی سستی اور بار بار کیچز چھوڑنے کی عادت نے ہیری بروک اور ڈان لارنس کو سنبھلنے کا سنہری موقع دے دیا۔ دونوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 120 رنز کی ایک اور مضبوط شراکت قائم کر کے میچ پاکستان کی گرفت سے دور کر دیا۔ پاکستان کو دن کی تیسری اور مجموعی طور پر پانچویں کامیابی اس وقت ملی جب علی عثمان کی گیند پر 51 رنز بنانے والے ڈان لارنس رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور انگلینڈ کا مجموعی اسکور 322 رنز تک جا پہنچا۔ دوسرے اینڈ پر میزبان بیٹر ہیری بروک کا بلا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور وہ پاکستانی بولرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہے تھے۔ یہ جہاں ہیری بروک کا کمال تھا، وہیں پاکستانی کپتان اور بولرز کی واضح ناکامی بھی تھی، کیونکہ وہ اتنے جارحانہ اور پرخطر انداز میں کھیلنے والے بیٹر کو قابو کرنے یا ان کا درست وقت پر شکار کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ تاہم، دن کے آخری لمحات میں پاکستانی ٹیم کو بڑی کامیابی اس وقت ملی جب ہیری بروک 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد بالاخر علی عثمان کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 366 رنز بنا لیے تھے اور کریز پر جیمی سمتھ 16 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔
اس اننگز میں پاکستان کے گیند بازوں نے خوب مار کھائی اور حریف بیٹرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔ خرم شہزاد نے 19 اوورز میں 111 رنز کے عوض صرف ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ محمد علی نے بھی 19 اوورز ہی پھینکے اور 89 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ تاہم، علی عثمان وکٹوں کے لحاظ سے سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے اپنے 23 اوورز میں 92 رنز پر 5 انتہائی اہم وکٹیں حاصل کر کے اپنی فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب، اپنی نپی تلی لائن اور لینتھ کے لیے مشہور محمد عباس نے بھی انگلش بیٹرز کو باندھے رکھا اور انہوں نے اپنے 21 اوورز میں صرف 61 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
