نشین۔کرک اگین رپورٹ ۔ پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست،نواز بھی نہ بچا سکے،اب کتنے معطل۔
ایشین گیمز کرکٹ فائنل۔ روایتی حریف سے سنسنی خیز معرکہ، پاکستان کو 19 رنز سے شکست، بھارت نے گولڈ میڈل جیت لیا
بریکنگ نیوز۔
ایشین گیمز کے ہائی وولٹیج اور اعصاب شکن کرکٹ فائنل میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو 19 رنز سے ہرا کر گولڈ میڈل پر قبضہ جما لیا ہے۔ گرین کیپس نے ہدف کے تعاقب میں آخری گیند تک مقابلہ تو خوب کیا، خاص طور پر حسن نواز کی دلیرانہ اور سنسنی خیز اننگز نے میچ میں جان ڈال دی، لیکن مڈل آرڈر کی سست روی کی وجہ سے ان کی یہ مزاحمت رائیگاں چلی گئی۔
پاکستان کی اس فائنل میں ناکامی کی سب سے بنیادی اور حیران کن وجہ کیا بنی؟ یہ ہم آپ کو اس اسٹوری کے بالکل آخر میں بتائیں گے۔
میچ کا احوال دیکھیں تو بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 211 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کر دیا۔ بھارتی اننگز کا آغاز انتہائی جارحانہ تھا جہاں اوپنر ابھیشیک شرما نے پاکستانی بولرز پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے محض 28 گیندوں پر 61 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔ اگرچہ نویں سے پندرہویں اوور کے دوران پاکستان نے رنز کی رفتار کو کچھ لگام دی، لیکن اختتامی لمحات میں تلک ورما نے 22 گیندوں پر 51 رنز اور شیوم دوبے نے 15 گیندوں پر 27 رنز بنا کر آخری 4 سے 5 اوورز میں اسکور بورڈ کو ایک بڑا دھکا دیا۔ یہی ڈیتھ اوورز کا دباؤ پاکستان کے لیے بعد میں بڑا امتحان بن گیا۔ پاکستان کی جانب سے بولنگ میں احمد دانیال نے 43 رنز دے کر 2 وکٹیں اور عرفات منہاس نے 25 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ تاہم صائم ایوب کافی مہنگے ثابت ہوئے، انہوں نے 4 اوورز میں 47 رنز لٹائے اور صرف 1 وکٹ حاصل کی۔ اپنا ڈیبیو کرنے والے سعد مسعود بھی بے اثر رہے، جنہوں نے اپنے 3 اوورز میں 33 رنز دیے اور انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔
مشکل ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا۔ ابتدائی وکٹیں جلدی گرنے سے ٹیم شدید دباؤ میں آ گئی، جس میں کپتان صاحبزادہ فرحان صرف 10 رنز، معاذ صداقت 23 رنز اور عثمان خان محض 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس نازک موڑ پر حسن نواز اور صائم ایوب نے چوتھی وکٹ کے لیے بہترین مزاحمت کی اور اننگز کو سنبھالا۔ لیکن ایوب بھی 22 گیندوں پر 29 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، جبکہ عبدالصمد بھی ایسے سخت موقع پر صرف 9 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ جہاں باقی سب بیٹرز ناکام ہو رہے تھے، وہاں حسن نواز اکیلے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ آخری لمحات میں سعد مسعود (12 رنز) نے ان کا ساتھ دیا، لیکن بھارتی ٹیم کے پاس اسکور اتنا زیادہ تھا کہ انہیں شکست کا کوئی خوف یا خطرہ نہیں تھا۔ آخری اوور میں پاکستان کو جیت کے لیے 33 رنز درکار تھے، جو کہ کرکٹ میں ایک ناممکن بات تھی اور یہاں سے امید کرنا بے کار تھا، لیکن پاکستان کو اس قابلِ عزت پوزیشن تک پہنچانے کا سہرا بھی حسن نواز کی دلیرانہ بیٹنگ کے سر جاتا ہے۔
پاکستان کی اننگز مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 192 رنز تک ہی پہنچ سکی۔ حسن نواز نے میدان کے چاروں اطراف شاندار ہٹنگ کرتے ہوئے 51 گیندوں پر 96 رنز کی دھماکے دار اننگز کھیلی، لیکن وہ بدقسمتی سے میچ کی آخری گیند پر آؤٹ ہو کر اپنی سنچری سے محض 4 رنز دُور رہ گئے۔ ان کی اس یادگار اننگز میں 7 فلک شگاف چھکے اور 5 دلکش چوکے شامل تھے۔ بھارت کی جانب سے اکشر پٹیل نے 4 اوورز میں 29 رنز دے کر 2 اور واشنگٹن سندر نے بھی 4 اوورز میں 29 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی ناکامی کی بنیادی وجہ
اس بڑے میچ میں پاکستان کی ناکامی کی سب سے بنیادی وجہ مڈل آرڈر بیٹرز کی سست روی اور بولنگ میں ڈیتھ اوورز (آخری اوورز) کے دوران پلاننگ کا نہ ہونا نکلی۔ جب بھارتی بیٹرز نویں سے پندرہویں اوور تک دباؤ میں تھے، اس وقت پاکستانی بولرز فائدہ نہ اٹھا سکے اور آخری اوورز میں حد سے زیادہ رنز لٹا دیے۔ رہی سہی کسر شروع کے تین اہم بیٹرز کے سست اور غیر ذمہ دارانہ شاٹس نے پوری کر دی، جس کی وجہ سے حسن نواز کی اتنی بڑی اور تاریخی اننگز بھی پاکستان کو سونا نہ جتوا سکی۔
