لارڈز ۔لندن۔کرک۔اگین رپورٹ ۔تجزیہ۔عمران عثمانی
لارڈز ٹیسٹ کا پہلا دن، کس کا پلڑا بھاری رہاکرکٹ کے تاریخی میدان لارڈز میں میچ کا پہلا دن بہت شاندار رہا۔کرکٹ بریکنگ نیوز میں سب سے اچھی بات یہ تھی کہ لارڈز کے منتظمین اور ایم سی سی کے عہدیداران پچ کو دیکھ کر مطمئن ہوں گے، کیونکہ پچ کے حوالے سے کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ تازہ ترین کرکٹ آرٹیکل کو لیں تو پچ پر بولرز کے لیے سوئنگ اور سیم کی شکل میں مدد موجود تھی، تو دوسری طرف بیٹرز کے لیے بھی موقع تھا کہ وہ جم کر کھیلیں اور اچھی پرفارمنس دکھائیں۔ اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ بارش سے متاثرہ یہ پہلا دن آخر کس کے نام رہا؟ کیا پاکستان نے بازی ماری یا انگلینڈ آگے رہا؟ اس کا جواب ہم اس تازہ ترین آرٹیکل کے آخر میں دیں گے۔
پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ دن بھر میدان میں کیا کچھ ہوا۔میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک غیر متوقع فیصلہ دیکھنے کو ملا۔ پاکستان نے اپنے ایک اور کپتان سلمان علی آغا کو الیون کی سائیڈ سے باہر کر دیا، جنہوں نے بابر اعظم کی غیر موجودگی میں لیڈز ٹیسٹ میں کپتانی کی تھی۔ اب بابر اعظم بطور کپتان واپس آ چکے تھے۔ لارڈز کے ابر آلود موسم اور گہرے بادلوں کو دیکھ کر پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا بالکل درست فیصلہ کیا۔ بارش کی وجہ سے کھیل شروع سے ہی تاخیر کا شکار تھا، جس کی وجہ سے ٹاس بھی دیر سے ہوا اور میچ بھی تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہو سکا۔جب کھیل شروع ہوا تو وہی ہوا جس کی امید تھی۔
انگلینڈ کے اوپنرز کو شروع میں ہی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستانی بولرز نے لنچ سے پہلے پہلے صرف 80 رنز پر انگلینڈ کے چار بڑے کھلاڑی آؤٹ کر دیے۔ بین ڈکٹ 17 اور ایمیلیو گے 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ جو روٹ 4 اور ہیری بروک صرف 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس زبردست پرفارمنس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ کو 200 رنز کے اندر ہی روک لے گی۔اس کے بعد ڈین لارنس بھی 17 رنز بنا کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، جن کا کیچ متبادل فیلڈر کے طور پر آئے ہوئے سلمان علی آغا نے پکڑا۔ اس وقت انگلینڈ کی ٹیم سخت مشکل میں تھی اور 120 رنز پر اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ میدان میں صرف جارج کاکس مزاحمت کر رہے تھے، جنہیں بعد میں جیمی سمتھ کا ساتھ ملا۔ انگلینڈ کی چھٹی وکٹ 187 رنز پر گری جب جارج کاکس 55 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد جب جیمی سمتھ بھی 61 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو لگا کہ اب پوزیشن بہتر ہو جائے گی۔ جلد ہی 222 رنز پر آٹھویں وکٹ اولی رابنسن کی بھی گر گئی۔ لیکن لوئر آرڈر میں گس اٹکنشن نے اچھی مزاحمت کی اور وہ 34 رنز پر کھیل رہے ہیں، جبکہ جوفرا آرچر نے 14 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا۔ جب خراب روشنی کی وجہ سے کھیل روکا گیا، تو انگلینڈ نے نو وکٹوں پر 248 رنز بنا لیے تھے اور بعد میں پہلے دن کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان کی طرف سے محمد عباس نے بہترین بولنگ کی اور 56 رنز دے کر چار وکٹیں لیں، جبکہ محمد علی نے 67 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس دوران عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 900 وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔
اب آتے ہیں اپنے اس سوال پر کہ لارڈز کا پہلا دن کس کے نام رہا؟ تو اس کا سیدھا اور سادہ سا جواب یہ ہے کہ دن بھر میں صرف 56 اوورز کا کھیل ہو سکا۔ اس کھیل میں انگلینڈ کی نو وکٹیں تو گر گئیں، لیکن اسکور بورڈ پر 248 رنز بھی بن چکے تھے۔ کیا کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں یہ کوئی بہت بڑا اسکور ہے؟ بالکل ہرگز نہیں! لیکن اگر ہم پاکستانی ٹیم کی حالیہ پرفارمنس کو دیکھیں، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انگلینڈ نے شروع میں جلدی وکٹیں گنوانے کے باوجود پاکستان کی جلد کامیابی کی امیدوں کو لپیٹ دیا ہے اور ایک متوازن پرفارمنس دے کر یہ دن اپنے نام کر لیا ہے۔ اس وقت پاکستانی کیمپ یہ سوچ رہا ہوگا کہ نو وکٹیں لینے کی وجہ سے دن ہمارا رہا، جبکہ انگلش کیمپ کا خیال ہوگا کہ مشکل سے نکل کر اتنے رنز بنانے کے بعد دن ان کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دن دونوں کے لیے برابر رہا ہے۔
