لندن۔کرک اگین نیوز۔کرکٹ کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز،تازہ ترین خبر ہے کہ کھیل کے میدان میں سیاسی ہلچل، لارڈز ٹیسٹ کے دوران پی سی بی اور اسکائی اسپورٹس کا پسِ پردہ ٹکراؤ،اصل سٹوری
لندن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ لارڈ میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کھیل کے میدان سے نکل کر عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی۔
یہ معاملہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں کے ایک ٹی وی انٹرویو اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق ہے۔ برٹش میڈیا اور بین الاقوامی کھیلوں کی معتبر ویب سائٹس نے اس حوالے سے جو تفصیلات نشر کی ہیں، ان کا ایک غیر جانبدارانہ جائزہ سامنے آیا ہے۔کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو، انگلش ادارے دی گارڈین’ اور ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹس کے مطابق، لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن کھانے کے وقفے (لنچ بریک) کے دوران اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے دونوں بیٹوں، سلیمان خان اور قاسم خان کا ایک تفصیلی انٹرویو نشر کیا گیا۔ یہ انٹرویو انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن نے لیا۔بین الاقوامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس انٹرویو کی نشریات کو رکوانے کے لیے انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور اسکائی اسپورٹس سے سخت رابطہ کیا تھا۔ رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ پی سی بی کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ اگر یہ انٹرویو آن ائیر گیا تو شاید پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد اسٹیڈیم میں نہ اتریں۔ تاہم، اسکائی اسپورٹس نے چند منٹ کی تاخیر کے بعد یہ انٹرویو پوری دنیا میں لائیو نشر کر دیا۔ اسکائی نیوز نے بعد میں تصدیق کی کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی، مگر انتظامیہ نے اس پر مزید کوئی باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب، پی سی بی نے بھی تاحال عالمی میڈیا کے خطوط اور تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
انٹرویو کا حقیقی پس منظر اور عالمی کپتانوں کی مہم
یہاں یہ بات واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ عالمی میڈیا کے مطابق یہ پروگرام کسی سیاسی ایجنڈے، پاکستان کی اندرونی سیاست یا عمران خان کی جیل سے رہائی کی کسی مہم کا حصہ نہیں تھا۔ اس پروگرام کا تمام تر فوکس خالصتاً انسانی ہمدردی اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے تھا۔عمران خان، جو کہ 1992 کے ورلڈ کپ فاتح کپتان اور آئی سی سی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، ان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حکم جاری کیا تھا جس کے تحت انہیں ۱۶ ستمبر تک علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس حکم پر عملدرآمد نہ ہونے اور سابق کپتان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبریں باہر آنے پر دنیا بھر کے نامور کرکٹرز نے آواز اٹھائی۔حال ہی میں دنیا کے 21 مایہ ناز کرکٹ کپتانوں نے حکومت پاکستان کو ایک مشترکہ خط لکھا جس میں عمران خان کو بنیادی انسانی حقوق اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مائیکل ایتھرٹن خود ان کپتانوں میں شامل ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے اس انسانی مہم کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل نے ایک ویڈیو انٹرویو میں، بھارت کے سابق کپتان کپل دیو، اور پاکستان کے سابق کرکٹر رمیز راجہ نے بھی عمران خان کی صحت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسکائی اسپورٹس کا یہ پروگرام اسی عالمی تشویش کا تسلسل تھا۔
پاکستانی میڈیا پر اثرات اور زمینی حقائق
اگرچہ یہ انٹرویو پوری دنیا میں لائیو دکھایا جا رہا تھا، پاکستان میں پی ٹی وی اسپورٹس نے بھی اس کے ابتدائی چند سیکنڈ نشر کیے، تاہم فوری طور پر نشریات روک کر اشتہارات چلا دیے گئے۔ مبصرین کے مطابق انٹرویو میں بیٹوں سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات متوقع نوعیت کے تھے اور ان میں کوئی نئی بات نہیں تھی، کیونکہ وہ صرف اپنے والد کی خیریت اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے فکرمند تھے۔پی سی بی کی تمام تر کوششوں کے باوجود، جہاں ایک طرف یہ انٹرویو کامیابی سے نشر ہوا، وہیں دوسری طرف تمام تر افواہوں کے برعکس پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی مقررہ وقت پر لنچ کے بعد میدان میں اترے اور میچ کا انعقاد بغیر کسی تعطل کے جاری رہا۔
حاصل نکتہ
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں عمران خان کا احترام آج بھی بحیثیت ایک عظیم کھلاڑی اور کپتان برقرار ہے۔ عالمی سطح پر اٹھنے والی یہ آوازیں خالصتاً ایک کھلاڑی کی صحت اور انسانی حقوق کے گرد گھومتی ہیں، جسے عالمی میڈیا نے نمایاں کوریج دی، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ خاموشی برقرار ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کا پہلا دن،9 وکٹیں گر گئیں، 248 رنز بن گئے، دن آخر کس کے نام
