نئی دہلی۔ کرک اگین خصوصی رپورٹ۔ ٹرافی سے محروم بھارتی ٹیم وطن واپس،راجیو شکلا کا انکشاف،بی سی سی آئی پڑا کمزور ۔
ویمنز ایشیا کپ کی فاتح بننے کے باوجود بھارتی خواتین ٹیم ٹرافی کے بغیر خالی ہاتھ وطن واپس پہنچ گئی ہے، جس نے بھارت میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔کرکٹ بریکنگ نیوز۔فاتح بھارتی ٹیم ٹرافی کے بغیر وطن واپس پہنچ گئی۔ایشیا کپ ویمنز ٹرافی کو لے کر اس وقت بھارت میں شدید شور شرابہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ فائنل جیتنے والی بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اب سے تھوڑی دیر قبل ہی بھارت واپس پہنچی ہے، لیکن حیران کن طور پر وہ اپنے ساتھ ایشیا کپ کی ٹرافی نہیں لائیں۔ ٹرافی کے بغیر واپسی کی وجہ سے بھارتی کھلاڑیوں کے چہروں پر ایک عجیب احساسِ محرومی واضح نظر آ رہا ہے اور انہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ چیمپئن بننے کے باوجود بالکل خالی ہاتھ لوٹی ہیں۔ اب اس سارے ڈرامے اور کھلاڑیوں کی محرومی کا اصل ذمہ دار کون ہے، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
راجیو شکلا کا انکشاف۔محسن نقوی کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔اسی دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پی سی بی اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی کے ہاتھوں سے ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔ راجیو شکلا کے مطابق، انہوں نے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں میچ کے دوران ہی محسن نقوی کو اس فیصلے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ بی سی سی آئی کے سیکریٹری بھی موجود تھے اور ہم نے محسن نقوی کو صاف بتا دیا تھا کہ ہماری گورنمنٹ کی پالیسی برقرار ہے، اس لیے ہماری ٹیم آپ کے ہاتھوں سے ٹرافی وصول نہیں کرے گی۔ ہم نے انہیں موقع دیا تھا کہ وہ ٹرافی کی تقسیم کے لیے کوئی دوسرا بہتر فیصلہ کر لیتے، لیکن انہوں نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ہمارے فیصلے سے راضی ہیں۔ راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ہم نے فیلڈ میں موجود اپنی ٹیم کو بھی گائیڈ کر دیا تھا، لیکن جب تقریبِ تقسیمِ انعامات ہوئی تو محسن نقوی بدستور وہاں اسٹیج پر موجود رہے، جس کے بعد ہمارا فیصلہ لاگو ہوا اور بھارتی ٹیم ٹرافی وہیں چھوڑ کر واپس آگئی۔
کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز میں سے یہ کہ بی سی سی آئی کا پھس پھسا اور نرم ردِعمل ۔راجیو شکلا نے اس معاملے پر اس سے زیادہ اور کوئی بات نہیں کی، لیکن اگر دیکھا جائے تو اس بار بی سی سی آئی کا ردِعمل ماضی کے مقابلے میں انتہائی نرم اور پھس پھسا ہے۔ گزشتہ سال مردوں کے ایشیا کپ کے موقع پر بھارت کی طرف سے بڑا شور شرابہ مچایا گیا تھا کہ ہم آئی سی سی میں جائیں گے اور پاکستان کی شکایت کریں گے، لیکن اس بار ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ بی سی سی آئی کی ایک شکست خوردگی ہے اور انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان اور محسن نقوی کی طاقتور انٹری کو تسلیم کر لیا ہے۔ جو بی سی سی آئی خود کو دنیا کا سب سے طاقتور بورڈ کہتا ہے، وہ یہاں بالکل بے بس نظر آ رہا ہے کیونکہ اے سی سی کا ایک قانونی ادارہ موجود ہے اور ساتھ ہی مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس سمیت پاک بھارت میچز سے اربوں روپے کے مالیاتی مفادات وابستہ ہیں۔ اس سارے تناظر میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارتی بورڈ کا ردِعمل گزشتہ سال کی نسبت بالکل ٹھنڈا ہے اور پاکستان کے حوالے سے ان کی کوئی بات بن نہیں پا رہی۔
