لاہور ۔کرک اگین رپورٹ ۔۔ لاہور ہائیکورٹ،محمد رضوان کی درخواست مسترد،عدالت میں کیا ہوا
لاہور ہائی کورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو ابتدائی سماعت کے بعد ہی خارج کر دیا ہے۔ کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ یہ فیصلہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے بعد سنایا۔
لاہور کی عدالت سے آنے والی یہ اپڈیٹ اس وقت کرکٹ کی تازہ ترین خبریں میں سب سے اہم ہے۔ محمد رضوان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ملنے والے شوکاز نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جسے عدالت نے برقرار رکھا ہے۔
کھلاڑی کا موقف اور موبائل فون کا تنازع
محمد رضوان آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جگہ ان کے وکیل نے یہ معاونت کی۔
عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ہونے والی یہ کارروائی بلاجواز ہے۔ ان کے موقف کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
موبائل فون کی ضبطگی۔لارڈز ٹیسٹ میچ کے فوراً بعد تحقیقاتی حکام نے ان کا موبائل فون یہ کہہ کر اپنے پاس رکھا کہ اسے صرف 3 گھنٹے بعد واپس کر دیا جائے گا، لیکن وہ فون انہیں آج تک نہیں ملا۔
تحقیقات میں مکمل تعاون
پاکستان واپسی پر جیسے ہی انہیں معلوم ہوا، وہ خود این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے اور تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ اس کے بعد انہیں ایک اور سوالنامہ دیا گیا، جس کا جواب بھی انہوں نے جمع کرا دیا۔
شوکاز نوٹس کی وجہ
رضوان کے وکیل عمیر قاضی نے عدالت کو بتایا کہ سابق کپتان کے تعاون کے باوجود ایجنسی نے ان کا جواب مسترد کر دیا اور دوبارہ طلبی کے نوٹس بھیج دیے۔ وکیل کے مطابق کھیل میں اچھا یا برا وقت آنا گیم کا حصہ ہے۔این سی سی آئی اے کے پاس اس طرح بار بار نوٹس بھیجنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
آئی سی سی کے قوانین
درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر یہ معاملہ کرکٹ بورڈ یا اینٹی کرپشن کے قوانین کا ہے، تو اس کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اپنا ایک خود مختار ادارہ موجود ہے۔ وہاں ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا، اس لیے یہاں کی مقامی ایجنسی کی کارروائی سمجھ سے باہر ہے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس اور عدالتی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ان تمام دلائل کو سننے کے بعد سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کو عدالت کے سامنے حقائق چھپانے پر بھاری جرمانہ ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ طلبی اور شوکاز نوٹسز کو اس طرح چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے محمد رضوان کو حکم دیا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوں اور وہاں اپنے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے ان کی اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔
