کراچی ۔کرک اگین رپورٹ ۔ صاحب زادہ فرحان نے ٹی 20 کپتانی کیلئے سلمان علی آغا پر بم ماردیا ۔
پاکستان کرکٹ کے حلقوں سے اس وقت ایک بڑی کرکٹ بریکنگ نیوز سامنے آ رہی ہے، جہاں صاحبزادہ فرحان کو سلمان علی آغا کی جگہ مستقل طور پر قومی ٹی 20 ٹیم کا کپتان بنائے جانے کی افواہیں گرم ہیں۔ ان تمام قیاس آرائیوں کے درمیان، ایشین گیمز 2026 کے لیے حال ہی میں کپتان مقرر ہونے والے صاحبزادہ فرحان نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں جاننے والے شائقین کے لیے یہ پریس کانفرنس انتہائی دلچسپ رہی، جس میں انہوں نے کھل کر اپنے مستقبل اور ٹیم کے عزائم پر بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی مستقل ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا ہے، جس نے ان کے کھیل کو نکھارا۔ اس موقع پر انہوں نے ماضی کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیش کے دورے کے دوران نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے ان کی ایک بڑی تکنیکی غلطی کو ٹھیک کروایا تھا، جس سے انہیں سیکھنے کا بڑا موقع ملا۔
مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ اگر آنے والے وقت میں انہیں مستقل کپتانی کی پیشکش ہوئی تو وہ اسے ضرور قبول کریں گے، تاہم اس وقت ان کا پورا فوکس موجودہ ذمہ داری پر ہے اور بطور کپتان انہیں اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے سلیکشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ کے لیے صرف انہی کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے جو ڈومیسٹک میں بہترین پرفارمنس دے کر آئے ہیں۔ کپتان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے ہیں، اور اس اسکواڈ میں بھی کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہمراہ جونیئرز کی تعداد زیادہ ہے، جو ٹیم میں ایک بہترین توازن پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ گولڈ میڈل جیتنے کے لیے سامنے کوئی بھی ٹیم آئے، ہمارا واحد مقصد صرف اور صرف جیت ہے اور وہ خود بھی پاکستان کی اس کامیابی میں اپنا بھرپور کردار نبھانے کے لیے بے تاب ہیں۔ایشین گیمز 2026 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان نے بتایا کہ یہ ایونٹ جاپان میں منعقد ہو رہا ہے، اور وہاں کے موسم اور پچز کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی یہاں کیمپس میں خاص ماحول بنایا گیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جاپان کی کنڈیشنز اور موسم ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، اور ممکن ہے کہ وہاں پہنچ کر ہمیں پریکٹس کا زیادہ موقع نہ مل سکے، اسی لیے روانگی سے قبل یہاں مقامی گراؤنڈز پر سخت محنت کی گئی ہے اور خصوصاً اسپنرز کو کھیلنے کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کی گئی ہے۔
روایتی حریف کے خلاف میچ پر بات کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان نے سنسنی خیز رخ اختیار کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ موقف اپنایا اور کہا کہ ہمیں بھارت سے پہلے بھی دیگر میچز کھیلنے ہیں، اس لیے ہماری ساری توجہ صرف بھارت کے میچ پر مرکوز نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سمیت دیگر ایونٹس کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہے اور تمام لڑکے جاپان کی سرزمین پر پاکستان کا پرچم بلند کرنے اور اچھا کھیل پیش کرنے کا پکا عزم رکھتے ہیں۔
