کرک اگین رپورٹ رضوان کے دوسرے خط نے ہوا نکال دی،یہ ڈرامہ کیوں ہوا اور کیوں چل رہا۔
محمد رضوان کا دوسرا خط۔ میڈیا کے من گھڑت بیانیے کی ہوا نکل گئی۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ محمد رضوان کے دوسرے خط میں سب کچھ سچ واضح کر دیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ایک اور باضابطہ خط لکھ کر اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا ہے۔ آج 29 ستمبر کو بھیجے گئے اس دوسرے خط میں انہوں نے انتہائی واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے۔ رضوان کا کہنا ہے کہ تفتیشی ادارے کے پاس ان کے گھر کا پتہ موجود ہے، لہذا ان سے کسی بھی قسم کا رابطہ سرکاری اور تحریری طریقے سے کیا جائے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ کب اور کہاں آنا ہے، وہ پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے خط میں سوال اٹھایا ہے کہ ان سے اصل میں کیا پوچھا جانا ہے اور ان کا موبائل فون، جو پہلے ہی ایجنسی کے پاس موجود
ہے، کب واپس کیا جائے گا؟
اپنے فون کے حوالے سے رضوان نے اہم تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ 31 اگست کو انگلینڈ میں جب ان سے موبائل فون لیا گیا، تو انہوں نے خود اس کا پاس ورڈ فراہم کیا تھا۔ اس موقع پر ان کی اپنی موجودگی میں فون کا تفصیلی معائنہ بھی کیا گیا۔ یہی نہیں، بلکہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیشی کے دوران بھی حکام کو ان کے اَن لاک موبائل فون تک مکمل رسائی حاصل تھی، اور انہوں نے رضوان کی موجودگی میں فون کے پیغامات اور دیگر تمام مواد کا جائزہ لیا تھا۔
ان تمام حقائق کے باوجود محض دو دن قبل پاکستانی میڈیا کے ایک مخصوص حصے پر شدومد کے ساتھ یہ خبریں چلائی جا رہی تھیں کہ محمد رضوان انکوائری کمیٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے اور نوٹسز کا جواب دینے سے گریزاں ہیں۔
ہم نے دو روز قبل بھی اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ اس طرح کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں لگتے اور آج رضوان کے اس اقدام نے اس موقف کی سچائی پر مہر لگا دی ہے کہ کھلاڑی کے خلاف جان بوجھ کر ایک خاص بیانیہ تیار کیا گیا تھا۔ اب یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ منفی بیانیہ کس کے اشارے پر اور کیوں چلایا گیا؟ ان خبروں کو ہوا دینے والوں کے اصل مقاصد کیا ہیں اور محمد رضوان جیسے سینیئر کھلاڑی کو اس طرح کے حالات کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا فیصلہ اور تجزیہ ہم کرکٹ کے سمجھدار مداحوں پر چھوڑتے ہیں کہ وہ صورتحال کو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔
