رانچی۔کرک اگین رپورٹ ۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ بھارت کو ہوم گراؤنڈ پر 1 ہی ہفتے کے اندر دوسرا بڑا جھٹکا لگ گیا ہے۔
ون ڈے میں ریکارڈ ہدف حاصل کرنے کے بعد، ویسٹ انڈیز نے دوسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میچ میں بھی بھارت کے 249 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کو پاش پاش کر دیا۔امپائرنگ کے بدترین فیصلے اس میچ میں بھی جاری رہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ، بھارتی امپائرز کا مذاق بن گیا سوشل میڈیا پر طوفان۔
مہمان ٹیم نے صرف 18.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 252 رنز بنا کر 6 وکٹوں سے تاریخی فتح سمیٹی، جس کے ساتھ ہی 5 میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہو گئی ہے۔ یہ ویسٹ انڈیز کی ٹی 20 انٹرنیشنل تاریخ کا سب سے بڑا اور مجموعی طور پر کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا کامیاب رن چیز ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں کے مطابق بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 249 رنز بنائے تھے۔ بھارت کی جانب سے سنجو سیمسن نے 41 گیندوں پر 82 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جبکہ آخری اوورز میں تلک ورما نے محض 18 گیندوں پر 44 رنز کی جارحانہ اننگز جوڑی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے روسٹن چیز نے رنز کے اس سیلاب میں بھی کمال بولنگ کی اور 4 اوورز میں صرف 24 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز اچھا نہ تھا، اوپنر کامل پورن 4، شمرون ہیٹمائر 0 اور رومن پاول 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس کے باعث 58 رنز پر 3 وکٹیں گر گئیں۔ اس نازک موقع پر چوتھی وکٹ کے لیے کپتان شائی ہوپ اور شرفین ردرفورڈ نے بھارتی بولرز کی جم کر دھلائی کی اور 120 رنز کی ریکارڈ شراکت داری قائم کی، جو ویسٹ انڈیز کی ٹی 20 تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔ کپتان شائی ہوپ نے چھکوں کی برسات کرتے ہوئے صرف 45 گیندوں پر 102 رنز کی ناقابلِ شکست سنچری بنائی، جس میں 9 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ دوسری طرف شرفین ردرفورڈ نے 37 گیندوں پر 84 رنز کی زبردست اننگز کھیلی، جس میں 7 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔ بھارت کے مینک یادو نے 36 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں لیکن وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
اس ہائی وولٹیج میچ میں امپائرنگ کا معیار انتہائی ناقص رہا، جہاں بھارتی امپائرز نے مقامی بیٹرز کے حق میں واضح طور پر نرمی دکھائی، جو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
میچ کے دوران بھارتی بولرز خاص طور پر آخری اوورز میں جب ویسٹ انڈیز تیزی سے رنز بنا رہا تھا، کی چند گیندیں جو واضح طور پر مارجنل لائن سے باہر تھیں، آن فیلڈ امپائرز (روہن پنڈت اور جے رامن مدنا گوپال) نے انہیں وائیڈ قرار نہیں دیا۔ اس پر کمنٹیٹرز نے بھی حیرانی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر مداحوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہوم امپائرز کی نرمی قرار دیا۔
کمر سے اوپر کی نو بال کا تنازع۔ بھارتی بیٹنگ کے دوران ایک تیز گیند پر ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے ہائی فل ٹاس ( پر نو بال کی اپیل کی، لیکن امپائر نے اسے نارمل گیند قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ویسٹ انڈین مداحوں کا کہنا ہے کہ رانچی کی پچ پر بھارتی بیٹرز کو امپائرز کی طرف سے ریلیف مل رہا تھ۔
تھرڈ امپائر نتن مینن پر تنقید
کچھ قریبی رن آؤٹ اور اسٹمپنگ کی اپیلوں کو چیک کرنے کے دوران تھرڈ امپائر نتن مینن نے بہت تیزی سے فیصلے دیے۔ سوشل میڈیا پر فینز کا کہنا ہے کہ کچھ فریمز کو مزید تفصیل سے دیکھنا چاہیے تھا، حالانکہ میچ ویسٹ انڈیز کے حق میں گیا لیکن امپائرنگ کے مجموعی معیار پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
