کرک اگین رپورٹ ۔
ابوظہبی ٹیسٹ۔قیس احمد کی انجری پر ہنگامہ، افغان ٹیم نے بنگلہ دیش کے منہ سے فتح چھین کر تاریخ رقم کر دی۔
ابوظہبی میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ کے آخری لمحات میں سنسنی خیزی اور ڈرامے کی ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی۔ افغانستان نے اپنی شاندار محنت اور ڈٹ جانے کے سبب جذبے سے ایک ہارا ہوا میچ ڈرا کر دیا، جس پر دنیا بھر میں ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی اور معیار کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ میچ کے اختتامی لمحات میں جب بنگلہ دیش کو تاریخی جیت کے لیے صرف 2 وکٹیں درکار تھیں اور کھیل ختم ہونے میں محض 10 منٹ باقی تھے، تو پچ پر ایک ایسا ڈرامائی واقعہ پیش آیا جس نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا۔
ناقابلِ شکست افغان بیٹر اور اسپنر قیس احمد ایک گیند کو روکنے کے بعد اچانک پچ پر گر گئے۔ وہ شدید تکلیف کے انداز میں اپنی ٹانگ کو پکڑ کر نیچے بیٹھتے چلے گئے، جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ان کا مسل پل (کھنچاؤ) ہو گیا ہے۔ وہ کھڑے ہوئے، درد کی حالت میں دائیں سے بائیں گھومے اور پھر میدان میں ہی لیٹ گئے۔ اس نازک وقت میں جہاں ایک ایک منٹ قیمتی تھا اور اوورز ضائع ہو سکتے تھے، میڈیکل ٹیم اور فزیو نے گراؤنڈ میں آ کر تقریباً 4 منٹ تک ان کا معائنہ کیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم نے اس پر کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا اور کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد قیس احمد نے دوبارہ کوئی تکلیف ظاہر نہیں کی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر قیس احمد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے “ڈراما باز” اور “بہترین اداکار” کہا جا رہا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آخری اوورز کو کم کرنے اور وقت ضائع کرنے کے لیے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا۔ کرکٹ میں عام طور پر ایسی حکمتِ عملی دیکھی جاتی ہے جب دن کا کھیل ختم ہونے والا ہو تاکہ اہم اوورز سے بچا جا سکے۔
افغانستان کرکٹ کیمپ نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قیس احمد کو واقعی شدید تکلیف تھی، انہیں فوری طبی امداد دی گئی جس کے بعد انہوں نے دوبارہ بہادری سے بیٹنگ جاری رکھی اور 80 گیندوں پر 49 رنز بنا کر ملک کے لیے میچ بچایا۔
