راولپنڈی۔ کرک اگین رپورٹ۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی اہم ترین سیریز کے باقاعدہ اغاز سے قبل ہی راولپنڈی میں کرکٹ کا درجہ حرارت ہائی ہو گیا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی موجودگی میں چمکتی دمکتی ٹیسٹ ٹرافی کی رونمائی تو کر دی گئی، لیکن اس تقریب کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس نے پاکستانی کرکٹ کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان کے کپتان بابر اعظم اس روایتی خود اعتمادی میں نظر نہیں آئے جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔
ٹیسٹ سیریز کے اغاز سے قبل جب میڈیا نمائندوں نے قومی کپتان کو گھیرا اور ان کی حالیہ پرفارمنس، پاکستان کی مجموعی کارکردگی، نئی سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں اور ٹیم میں ہونے والی یکمشت 8 بڑی تبدیلیوں پر تیکھے سوالات داغے، تو کپتان بابر اعظم واضح طور پر گھبراہٹ کا شکار نظر آئے۔ اتنے سارے سوالات ایک ساتھ سامنے آنے پر وہ بوکھلا گئے اور بولے، میں کس کس بات کا جواب دوں؟اس کے بعد وہ پریس کانفرنس کے دوران دفاعی پوزیشن پر چلے گئے اور اپنی فارم کی بحالی اور حالیہ ناکامیوں پر مسلسل صفائیاں پیش کرتے دکھائی دیے۔
قومی ٹیم کے کپتان نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور ان سے بھی غلطیاں ہو رہی ہیں، تاہم وہ مختلف جگہوں اور مختلف حالات سے سیکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم کی بحالی کے لیے وہ نیٹ پر دن رات پسینہ بہا رہے ہیں۔ بابر اعظم نے فینز کے جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مداح مجھ سے بے پناہ پیار کرتے ہیں اور مجھے اس بات کا پورا احساس ہے کہ میں اس وقت ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہا، لیکن میری کوششیں جاری ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران یہ منظر نامہ خاصا پریشان کن تھا کیونکہ یہ وہ بابر اعظم بالکل نہیں تھے جو آج سے چند برس قبل میڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے، اور جو سوال پسند نہ آئے اسے نظر انداز کر دیا کرتے تھے۔ راولپنڈی میں میڈیا کا سامنا کرتے ہوئے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کپتان شدید ذہنی دباؤ، پریشانی اور عدم اعتماد کا شکار ہیں، جس کا اثر اگلے چند دنوں میں شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز پر بھی پڑ سکتا ہے۔مجھے جو ٹیم ملی ہے میرا کام ہے ان میں سے 11 کھلاڑیوں کو سلیکٹ کر کے ان کو کھلانا ۔یہ جواب بتاتا ہے کہ سلیکشن ان کی مرضی کی نہیں ہے۔بابر اعظم نے کہا میرا کام جو ہے بس بتا دیا ہر ہر بات بتانا ۔یہاں پہ ضروری بھی نہیں ہے۔ صاف نظر س رہا تھا کہ سلیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 9 ستمبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہا ہے اور شائقین امید کر رہے ہیں کہ کپتان میدان میں پرفارم کر کے اس دباؤ کا جواب دیں گے۔
