ویلنگٹن۔کرک اگین رپورٹ ۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ون ڈے سیریز کا دوسرا معرکہ کسی سنسنی خیز فلم کے کلائمیکس میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ویلنگٹن کی مشکل پچ پر ون ڈے کرکٹ کا رنگ ایسا بدلا کہ روایتی 50 اوورز کا کھیل ٹی-20 بلکہ ٹی-10 کی طرح تیز رفتار اور ڈرامائی نظر آنے لگا۔ وکٹوں کی گرتی ہوئی لائن، رنز بنانے کی جدوجہد اور پھر عین نازک موقع پر بارش کی انٹری نے میچ کو انتہائی دلچسپ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
کیوی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت
میچ کا آغاز ہی بارش کی آنکھ مچولی سے ہوا، جس کے باعث امپائرز نے کھیل کو 47 اوورز فی اننگز تک محدود کر دیا۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن بھارتی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے کیوی بلے باز بے بس نظر آئے۔ پوری ہوم ٹیم 41 اوورز میں محض 134 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ مچل نے سب سے زیادہ 55 رنز تو بنائے لیکن اس کے لیے انہوں نے 104 گیندوں کا طویل سامنا کیا، جو پچ کی مشکل صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ کپتان مچل سینٹنر نے 31 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ بھارت کی جانب سے گرنور نےشاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 30 رنز کے عوض 4 قیمتی وکٹیں اڑائیں۔
بھارتی جواب اور مڈل آرڈر کا امتحان
135 رنز کا آسان ہدف بظاہر سیدھا نظر آ رہا تھا، لیکن بھارتی اننگز کا آغاز بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ روہت شرما جلد ہمت ہار گئے جبکہ ویرات کوہلی بھی صرف 7 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ نیوزی لینڈ کے فیلڈرز نے میدان میں چیتے جیسی پھرتی دکھائی اور چند کمال کے کیچز پکڑ کر بھارتی بلے بازوں کو دباؤ میں لائے، جن میں سے ایک شاندار کیچ سوشل
میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے۔
جب بارش نے دوبارہ میچ میں خلل ڈالا، تو بھارت نے 26 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 113 رنز بنا لیے تھے اور اسے جیت کے لیے مزید 22 رنز درکار تھے۔
بارش نہ رکی تو کون جیتے گا؟
اگر ویلنگٹن میں بارش نہیں رکتی اور کھیل دوبارہ ممکن نہیں ہو پاتا، تو بھارت اس میچ کا فاتح قرار پائے گا۔ ڈک ورتھ لوئس قانون کے مطابق، اس مرحلے پر بھارت کو 109 رنز بنانے تھے لیکن وہ پار اسکور سے 4 رنز آگے یعنی 113 رنز بنا چکا ہے۔ اس طرح بارش کھیل ختم ہونے کی صورت میں بھارت کو 4 رنز سے کامیابی مل جائے گی اور وہ سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لے گا۔
اگر میچ دوبارہ شروع ہوا تو کیا ہوگا؟
اگر امپائرز کھیل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وقت کے ضیاع کے باعث اوورز کی کٹوتی کی جائے گی۔ قوانین کے مطابق ہر سوا چار (4.25) منٹ کے بعد میچ سے ایک اوور کم کر دیا جائے گا، جس سے ہدف اور مساوات مزید دلچسپ ہو جائے گی۔
