کیپ ٹاؤن۔ کرک اگین رپورٹ۔
کیپ ٹاؤن ٹیسٹ ڈراما، سسپنس
اور اعصاب شکن معرکہ، آسٹریلیا کو جیت کے لیے 288 رنز کا ہدف۔
ٹیسٹ کرکٹ اسی کا نام ہے اور اس کے رنگ ایسے ہی بل کھا کر لہراتے ہیں۔سسپنس اور سنسنی سے بھرپور کھیل کا یہ وہ روپ ہے جہاں کل تک جو جنوبی افریقہ شکست کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا تھا، آج وہی پروٹیز ٹیم میچ کو بچانے کے بعد اب سیریز فتح کی دہلیز کے قریب پہنچ چکی ہے۔
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے اس فیصلہ کن معرکے کے چوتھے روز کیپ ٹاؤن کے میدان پر وہ سب کچھ دیکھنے کو ملا جو کسی فلمی ڈرامے سے کم نہیں تھا۔ چوتھے دن کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے سامنے جیت کے لیے 288 رنز کا ایک مشکل ہدف رکھ دیا ہے، اور اب میچ کے آخری دن کینگروز کو مکمل کھیل کی صورت میں 98 اعصاب شکن اوورز کا سامنا کرنا ہوگا۔
کھیل کے چوتھے روز جب جنوبی افریقہ نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو اس کا اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز تھا۔ آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی 100 رنز کی برتری کو نکالنے کے بعد ہوم ٹیم کے پاس محض 40 رنز کا معمولی اثاثہ باقی تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہاں سے میچ کیا رخ اختیار کرے گا۔ لیکن پروٹیز بلے بازوں نے دن کے آغاز سے ہی جم کر بیٹنگ کی اور کینگروز کے باؤلرز کو تگنی کا ناچ نچایا۔ آسٹریلیا کو دن کی پہلی اور مجموعی طور پر پانچویں کامیابی 181 کے اسکور پر حاصل ہوئی، جب میتھیو بریٹزکے 43 رنز بنا کر پیٹ کمنز کا شکار بنے۔
اس کے بعد کریز پر ریان ریکلٹن اور ویان ملڈر اکٹھے ہوئے اور پھر جو منظر نامہ سامنے آیا، وہی ٹیسٹ کرکٹ کی اصل خوبصورتی اور روح ہے۔ مچل اسٹارک سمیت آسٹریلیا کا نامور اور خطرناک پیس اٹیک اور نیتھن لائن جیسے تجربہ کار اسپنر، ان دونوں بلے بازوں کے سامنے بے بس نظر آئے۔ ریکلٹن اور ملڈر نے کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرا سیشن بغیر کوئی وکٹ گنوائے گزار دیا اور آخری سیشن میں بھی آسٹریلوی باؤلرز کی لائن اور لینتھ بگاڑ کر رکھ دی۔ جس آسٹریلیا نے 181 پر 5 کھلاڑی آؤٹ کر دیے تھے، اسے چھٹی کامیابی کے لیے خون پسینہ ایک کرنا پڑا۔ بالآخر 335 کے مجموعی اسکور پر ریان ریکلٹن 101 رنز کی شاندار سنچری اننگز کھیل کر پارٹ ٹائم باؤلر مارنس لبوشین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ اس اہم وکٹ پر آسٹریلوی فیلڈرز نے سکھ کا سانس لیا۔
ریکلٹن کے آؤٹ ہوتے ہی کھیل کا رخ ایک بار پھر بدلا اور وکٹیں گرنے کی لائن لگ گئی۔ اگلی ہی گیند پر مارکو جانسن صفر پر پویلین لوٹ گئے، جس سے جنوبی افریقہ کا اسکور 343 رنز ہو گیا۔ ابھی کینگروز اس خوشی سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ 344 کے اسکور پر سائمن ہارمر بھی محض 1 رن بنا کر چلتے بنے۔ نویں وکٹ مزید 7 رنز کے اضافے کے ساتھ 351 رنز پر گری۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جنوبی افریقہ کی بساط اب چند لمحوں میں لپٹ جائے گی، لیکن دوسرے اینڈ پر چٹان کی طرح جمے ویان ملڈر نے ہمت نہ ہاری۔ انہیں آخری بلے باز کاگیسو رباڈا کا بہترین ساتھ میسر آیا۔ ویان ملڈر نے یہاں نہ صرف اپنی شاندار سنچری مکمل کی بلکہ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی چوتھی یادگار سنچری ثابت ہوئی۔
ملڈر اور رباڈا نے آخری وکٹ کی شراکت میں 36 قیمتی اور میچ وننگ رنز کا اضافہ کر کے آسٹریلیا کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ دن کے آخری لمحات میں ویان ملڈر 115 رنز کی دلیرانہ اننگز کھیل کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم تقریباً 135 اوورز کی طویل مزاحمت کے بعد 387 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی 100 رنز کی سبقت کو منہا کرنے کے بعد اب جنوبی افریقہ کو 287 رنز کی مجموعی لیڈ حاصل ہے، جس کے باعث کینگروز کو اب سیریز اور میچ جیتنے کے لیے چوتھی اننگز میں 288 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف عبور کرنا ہوگا جو اس پچ پر خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، ان کے علاوہ کوئی بھی باؤلر تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ اب اپنے حتمی اور دلچسپ ترین موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں آخری دن کا کھیل تاریخ رقم کرے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کیپ ٹاؤن میں ہفتہ کو کھیل کے پانچویں دن بارش کے امکانات صرف 10 فیصد ہیں۔
