دبئی۔کرک اگین رپورٹ ۔لیڈز اور لارڈز کے بعد اب دبئی سے بھی پاکستان کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بہت بڑے سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں۔ کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ ایشیا ویمنز ٹی 20 کپ مقابلے میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 7 وکٹوں سے ہرا دیا ہے۔
اس شکست کے بعد پھر یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ آخر پاکستان اور بھارت کے مقابلے کی اب کیا اہمیت باقی بچی ہے؟ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے ٹاس جیت کر دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم محض 55 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ہے نا کمال کی بات۔ بھارت نے یہ ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر بڑے اطمینان سے ہنستے کھیلتے پورا کر لیا۔ بھارتی ٹیم پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہے اور پاکستان سیمی فائنل کی دوڑ سے تقریباً باہر ہو چکا ہے۔
اب یہ سب کیا ہے؟ یہاں وہاب ریاض جیسے ہونہار سابق کرکٹر ان کی کوچنگ کر رہے ہیں اور وہاں اب مائیک ہیسن پہنچ گئے ہیں، جبکہ انگلینڈ میں اس سے پہلے سرفراز احمد اور عمر گل موجود تھے۔اب پاکستان ویمنز ٹیم کی شکست کی کیا بات کریں اور اس کی کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا کیا ذکر کریں؟ جو ٹیم صرف 55 رنز بنا کر ڈھیر ہو جائے اور روایتی حریف بھارت سے 7 وکٹوں سے ہار جائے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے پاکستان کرکٹ یہ بتا رہی ہو کہ اس کے اندر اب سکت ہی نہیں بچی۔ اس کے کھلاڑیوں میں وہ ہمت ہی نہیں رہی کہ وہ گراؤنڈ میں جم کر کھڑے ہو سکیں۔ اس مسلسل ناکامی سے ہو کیا رہا ہے؟ کیا اس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چہرہ روشن ہو رہا ہے؟ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے لیے شاید تعریفیں بڑھ رہی ہیں۔ہم تو یہی سمجھیں گے کیونکہ وہ تنقید سے تو نہیں گھبراتے لیکن تعریفوں سے ضرور خوش ہوتے ہیں۔
چنانچہ، مردوں کی ٹیم کے بعد اب پاکستان ویمنز ٹیم کی طرف سے بھی پی سی بی کو یہ بھاری سلامی پیش کی گئی ہے۔ ایک طرف یہ عبرت ناک شکست ہوئی تو دوسری طرف میچ میں روایتی کشیدگی بھی برقرار رہی۔دونوں کپتانوں نے حسبِ سابق، بھارتی بورڈ کی ہٹ دھرمی کے باعث نہ تو ٹاس کے موقع پر ہاتھ ملایا اور نہ ہی میچ کے اختتام پر۔ لہٰذا کھیل اپنی جگہ جاری ہے اور پاکستان کی شکستوں کا یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔
