اسلام آباد۔ کرک اگین رپورٹ۔ سیاسی ہلچل میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی
سیاسی ہلچل کے سائے میں سری لنکا کا طویل دورۂ پاکستان۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ
پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہو چکی ہیں اور اس بار مہمان کوئی عام ٹیم نہیں، بلکہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ہے جو ایک طویل اور تاریخی دورے پر پاکستان پہنچ چکی ہے۔ 4 اکتوبر کو مہمان کھلاڑیوں نے پاکستان کی سرزمیں پر قدم رکھا، جہاں ان کا پرتپاک اور روایتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ یہ دورہ محض چند ٹی ٹوئنٹی میچز تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بھرپور کرکٹ سیزن کا پیش خیمہ ہے جو نومبر کے دوسرے عشرے کے اختتام تک پورے جوش و خروش سے جاری رہے گا۔
دورے کا شیڈول اور منفرد فارمیٹ
کرکٹ شائقین کے لیے یہ دورہ اس لحاظ سے انتہائی دلچسپ ہے کہ سری لنکن ٹیم مختلف مراحل میں پاکستان کا مقابلہ کرے گی۔ پہلے مرحلے میں راولپنڈی کی پچز پر دونوں ٹیمیں مدمقابل ہوں گی جہاں ٹی 20 سکواڈز ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ اس کے بعد ون ڈے ٹیم کے کھلاڑی اور پھرسری لنکا کے ٹیسٹ کے ماہر کھلاڑی پاکستان پہنچیں گے تاکہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اہم میچز کھیلے جا سکیں۔
صرف یہی نہیں، بلکہ اس طویل دورے کے درمیان ایک اور شاندار موڑ آئے گا جب پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ایک سنسنی خیز تین ملکی ون ڈے کپ کھیلا جائے گا۔ اس سہ ملکی ٹورنامنٹ کا پہلا مرحلہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سجے گا اور دوسرے مرحلے کے اعصاب شکن مقابلے لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں دوبارہ ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے پنڈی میں اکٹھی ہوں گی۔
جوشیلے کھلاڑی اور سیکیورٹی کے خدشات
سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کی پچز کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مضبوط ترین ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سکواڈز کا اعلان پہلے ہی کر دیا ہے۔ مہمان کھلاڑی پاکستان آمد پر انتہائی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں اور انہوں نے یہاں کی مہمان نوازی اور کرکٹ کے ماحول کی تعریف کی ہے۔اس بڑی سیریز پر سیاست کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔
راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت شدید سیاسی گہما گہمی ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کی صورتحال اور روزمرہ کے معمولات میں ایک غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سڑکوں کی بندش اور سیاسی افر تفری کے اس ماحول نے کرکٹ انتظامیہ اور شائقین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
کیا کرکٹ سیاست پر غالب آ سکے گی
ان مشکل اور غیر یقینی حالات میں اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی انتظامیہ اس طویل سیریز کو کس طرح کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ کیا راولپنڈی کے میدانوں میں چوکوں اور چھکوں کی گونج سیاسی نعروں پر بھاری پڑ جائے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اس وقت پاکستانی شائقینِ کرکٹ پرامید ہیں کہ کھیل ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ملک میں خوشیاں بکھیرنے کا سبب بنے گا اور یہ طویل دورہ خیر و عافیت سے اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
