ڈھاکا۔کرک اگین رپورٹ۔بنگلہ دیش یوٹرن لے گیا،ٹی 20 ورلڈکپ بھارت میں کھیلنے کا فیصلہ،بریکنگ نیوز۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش حکومت نے بھارت میں اپنی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کیلئے آئی سی سی سے نئی سکیورٹی شرائط کی لسٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈکپ 2026 کی محرومی سے بچایا جائے۔اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اپنے موقف کے اعادہ کیلئے اپنے بیانیہ کو نئے انداز میں ترتیب دے دیا ہے۔دوسری جانب اس ساری صورتحال کیلئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک چمتکار ہونے کی امدیں دلائی ہیں۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو اب بھی آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2026 میں اپنی شرکت کی جادوئی امید ہے اور اس کیلئے نہایت ذومعنی بات کی گئی ہے۔
سب سے پہلے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ(بی سی بی) کا موقف
بی سی بی کے صدر امین الاسلام آئی سی سی سے کسی معجزے کی امید کر رہے ہیں کیونکہ وہ 2026 کے ٹی 20ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدھ کو آئی سی سی بورڈ کی میٹنگ کے بعد، جس میں بی سی بی کو بتایا گیا کہ اگر بنگلہ دیش نے بھارت کا سفر نہیں کیا تو اس کی جگہ دوسری ٹیم لے جائے گی، امینول نے کہا کہ اس نے بنگلہ دیش حکومت سے بات کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔امینول نے کہا کہ میں نے آئی سی سی بورڈ سے آخری بار اپنی حکومت سے بات کرنے کا وقت مانگا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک درست نقطہ ہے، اور مجھے ان کے پاس واپس جانے کے لیے 24 یا 48 گھنٹے کا وقت دیا، میں حکومت پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان ہمارے لیے محفوظ نہیں ہے۔ ہم اس موقف پر قائم ہیں کہ ہم سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آئی سی سی نے ہمیں انکار کیا لیکن ہم حکومت سے ایک بار پھر بات کریں گے۔ میں آئی سی سی کے تاثرات سے حکومت کو آگاہ کروں گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صرف ایک دن میں کچھ حاصل کر سکتے ہیں، امینول نے کہا: “میں آئی سی سی سے کسی معجزے کی امید کر رہا ہوں، کون ورلڈ کپ نہیں کھیلنا چاہتا۔بنگلہ دیش کے کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت چاہتی ہے کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلے۔ لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ ہندوستان ہمارے کھلاڑیوں کے لیے محفوظ ہے۔ ایک حکومت صرف کھلاڑیوں کا خیال نہیں رکھتی بلکہ جب وہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ سب پر غور کرتی ہے۔
بنگلہ دیش حکومت کا موقف
بنگلہ دیش حکومت اب اپنے موقف کو مزید جامع بنانے کی جانب جارہا ہے۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت اپنے بیانیہ میں یہ بات سامنے لانا چاہتی ہے کہ آئی سی سی کا ہمارے معاملہ میں دہرا معیار عیاں کردیا ہے۔ہمارے سٹینڈ نے بھارت اور آئی سی سی کو ایک ثابت کیا ہے اور باقی ممالک کیلئے اور رولز سیٹ لگتے ہیں۔ایک عرصہ سے بھارت اسی سکیورٹی کی بنیاد پر آئی سی سی ایونٹ سمیت متعدد مقابوں اور باہمی سیریز میں مقام تبدیل کرواچکا ہے۔آخری بڑی مثال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 ہے۔بھارت کو اجازت ہوسکتی ہے لیکن کسی اور کو کیوں نہیں۔دوسرا حکومت کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جائے گا کہ ہم جانتے تھے کہ مقام کی تبدیلی کا ہمارا مطالبہ نہیں مانا جائے گا لیکن ہم آخری وقت تک دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ ایک رخ یہ بھی ہے لیکن یہ سب حکومتی سطح پر ہوگا۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ یہ موقف نہیں اپنائے گا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کیا کرے گا
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ حکومت سے ممکنہ مگر مشروط اجازت ملنے کو جواز بنائے اور حکومت کی مقرر کی گئیں نئی شرائط سے آئی سی سی اور میڈیا کو آگاہ کرے گا،جس میں میچز کے وینیوز سمیت سکیورٹی،ہوٹلنگ اور ٹریولنگ سمیت متعدد باتیں شامل ہونگی۔
حتمی اعلان جمعرات 22 جنوری 2025 کی شام 5 سے پہلے ممکن ہے۔
