کیپ ٹاؤن ۔کرک اگین رپورٹ۔
کیپ ٹاؤن میں کینگروز کا شکار، جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو عبرتناک شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔کرکٹ کی بریکنگ نیوز اور کرکٹ کی ترین نیوز ہے کیپ ٹاؤن سے۔
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے کیپ ٹاؤن کا نیولینڈز گراؤنڈ ایک بار پھر ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، جہاں 8 سال قبل بال ٹیمپرنگ کا بدنام زمانہ اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ اگرچہ اس اسکینڈل کے مرکزی کردار اسٹیون اسمتھ گردن کی تکلیف کے باعث اس میچ کا حصہ نہیں تھے، لیکن آسٹریلیا کے کئی دیگر پرانے کھلاڑی میدان میں موجود تھے جنہیں جنوبی افریقہ نے دن میں تارےبدکھادیئے۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ جنوبی افریقہ نے میچ کے آخری دن مہمان ٹیم کو 176 رنز کے بھاری مارجن سے ہراکر کر تین میچوں کی یہ تاریخی ٹیسٹ سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی ہے۔
کھیل کے آخری دن آسٹریلیا کو جیت کے لیے 288 رنز کا ہدف ملا تھا اور کرکٹ پنڈت امید کر رہے تھے کہ کینگروز مزاحمت دکھائیں گے، لیکن جنوبی افریقی بولرز کے سامنے کینگروز کا غرور خاک میں مل گیا۔ میچ کے آغاز میں ہی آسٹریلوی بیٹنگ لائن تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ صرف 50 سے 60 رنز کے اندر آسٹریلیا کی 6، پھر 7 اور دیکھتے ہی دیکھتے 8 وکٹیں گر گئیں۔ آخری لمحات میں کپتان پیٹ کمنز نے گیندوں کے حساب سے 11 رنز کی ایک طویل اور مزاحمتی اننگز کھیلی، جبکہ نیتھن لائن نے کچھ ہاتھ دکھاتے ہوئے 33 رنز بنائے، جس کی بدولت آسٹریلیا کا اسکور بمشکل 100 کا ہندسہ عبور کر سکا۔ پوری آسٹریلوی ٹیم محض 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
آسٹریلیا کی اس بھیانک تباہی کے سب سے بڑے جلاد میزبان اسپنر سیمن ہارمر ثابت ہوئے۔ ہارمر نے ایسی جادوئی بولنگ کی کہ آسٹریلوی بلے بازوں کو گیند کھیلنا تو دور، سمجھنا بھی مشکل ہو گیا۔ انہوں نے 21 اوورز سے زائد کی بولنگ میں ریکارڈ 14 اوورز میڈن پھینکے اور صرف 16 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ پورے میچ میں انہوں نے 120 رنز کے عوض 10 آسٹریلوی شکار کیے۔
آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کی یہ عبرتناک ہار اس وقت کرکٹ بریکنگ نیوز بنی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا موجودہ چیمپئن ہے، جس نے گزشتہ سال فائنل میں اسی آسٹریلیا کو دھول چٹائی تھی۔ اس سیریز میں کینگروز کو پچھاڑ کر پروٹیز نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی وہ عالمی فتح کوئی تکا نہیں تھی۔ اس شاندار جیت کے بعد اب جاری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر ایک سنسنی خیز ہلچل مچ گئی ہے، جہاں آسٹریلیا کے لیے اب فائنل کی دوڑ میں بنے رہنے کے لیے بقا کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اس وقت آسٹریلوی کیمپ میں صفِ ماتم بچھی ہے جبکہ جنوبی افریقہ فخر سے اپنی جیت کا جشن منا رہا ہے۔
