عمران عثمانی کی تحریر۔چیمپئنز ٹرافی بڑا مقابلہ،مشکلات تو بھارت کے حق میں زیادہ ہیں،پاکستان کو سبقت۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 پر تازہ مضمون اور کرکٹ بریکنگ نیوز کی اہم کہانی ۔اہم سوال کہ کون جیتے گا۔پاکستان بمقابلہ بھارت۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کرکٹ میچ۔مقام دبئی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دونوں کا سامنا ہوگا۔صحرائی میدانوں میں دونوں ممالک کے درمیان 28 ایک روزہ میچز ہوئے ہیں۔پاکستان کو 19 فتوحات کے ساتھ برتری حاصل ہے۔یہ زیادہ تر 1980 اور 1990 کی دہائی کی باتیں اور سنٹر شارجہ ہوا کرتا تھاجہاں پاکستان نے 24 میچز میں سے 18 میچزجیتے تھے لیکن 2006 سے 2018 کے درمیان ہوئے دبئی میں4 میچز میں سے 3 ہارا۔ایک جیتا۔کیا کوئی مقابلہ ہے؟جو ٹیم 28 میں سے 19 میچز ہار چکی ہو،کیا ایسا ریکارڈ رکھنے والی ٹیم فیورٹ ہوسکتی ہے۔یہ سوال تو بنے گا۔اس سے بھی آگے چلتے ہیں۔دبئی میں اگر محدود ون ڈے میچز میں بھارت کا ریکارڈ تھوڑ اچھا ہے تو 2021 زیادہ دور نہیں جب پاکستان ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف فتحیاب ہوا تھا تو پھر معمولی سی وینیو سبقت بھی کھو کھاتے گئی۔سوال کے ساتھ یہاں تو بیلنس بنے گا۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی تاریخ میں پاکستان بمقابلہ بھارت کے جو 5 میچز ہوئے،ان میں بھی پاکستان کو سبقت ہے۔3 میچز پاکستان کے نام ہوئے اور 2 میچز بھارت جیت سکا۔کیا اب بھی آپ بھارت کو فیورٹ کہہ سکتے ہیں؟سوال تو ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 135 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں سے پاکستان نے 73 ون ڈے جیت رکھے ہیں اور بھارت 57 میں کامیاب ہوا،5 میچز بے نتیجہ رہے۔تو پاکستان کو یہاں بھی سبقت ہے۔سوال تو پھر ہوگا کہ کیا بھارت کا پاکستان سے کوئی مقابلہ بنتا ہے؟پوچھا تو جائے گا۔خاص کر بھارتی میڈیا کو بھی دکھایا جائے گا۔باور کروایا جائے گا۔
آگے بڑھنے سے قبل میں نے گزشتہ 12 گھنٹوں میں سابق کرکٹرز وسیم اکرم کو سنا،انہوں نے مانا کہ بھارت 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میچ کیلئے فیورٹ ہے۔وقار یونس بھی اتفاق کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔سنیل گاواسکر کہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کا کوئی بھی میچ نیا ہوتا ہے،بہرحال مقابلہ ہے۔چانسز دونوں کیلئے ہیں۔ہربھجن سنگھ کہتے ہیں کہ کاغذات میں بھارت فیورٹ ہے۔پاکستان کمزور ہے لیکن میچ کے روز اچھا کھیلنے والا جیتے گا۔محمد عامر نے کہا ہے کہ بھارت والے 2017 چیمپئنز ٹرافی فائنل سے قبل بھی یہی کہہ رہے تھے لیکن ہم جیت گئے تھے۔کوئی نہیں جانتا کہ میچ کے روز کون جیتے گا۔احمد شہزاد کہتے ہیں کہ مانتا ہوں کہ پاکستان کی ٹیم کمزور ہے لیکن جس نے اچھے پنچ لگادیئے،وہ جیت جائے گا۔راشد لطیف نے کہا ہے کہ مانتے ہین کہ بھارت مضبوط ہے،پاکستان کے پاس فخرزمان نہیں ہے۔کپتانی بھی دیکھنی ہوگی کہ کیا فیصلے کرتے ہیں۔سپن اٹیک کمزور ہے۔دبئی کی پچ سپن فرینڈلی ہوگی۔
آپ ان سمیت باقیوں کو بھی پڑھ اور سن رہے ہونگے۔پاکستان کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹیم سلیکشن سے لےکر تمام معاملات تک میں کمزوریاں دکھائی دے رہی ہیں تو ایسے میں پاکستان کو کون فیورٹ مانے گا۔پاکستان میزبان ہے لیکن اپنے میچز دبئی میں کھیل رہا ہے تو اسے میزبانی کے ایڈوانٹیج کے کھاتے میں بھی شمار کوئی نہیں کررہا ہے۔
ہم نے مانا
شارجہ میں پاکستان کے شاندار دنوں کے بعد اب لہر بدل گئی ہے ۔نئی صدی میں بھارت نے بڑے پیمانے پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کو ماضی کی نظروں سے دیکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شارجہ کے دنوں میں پاکستان کو زبردست برتری حاصل رہی، عمران خان، جاوید میانداد، سعید انور، عامر سہیل اور وسیم اکرم ، وقار یونس کی پسند پر فخر تھا اور نتیجہ ساتھ تھا۔اس کا موازنہ اگر موجودہ ٹیم کی حالت سے کریں جو وقتاً فوقتاً کچھ غیر معمولی نتائج کے ساتھ آتی ہے، مستقل مزاجی کے فقدان کے ساتھ،تو موازنہ بنتا نہیں ہے۔
دس دن پہلے، رضوان اور سلمان علی آغا کے شاندار 260 رنز کے اسٹینڈ نے پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں ریکارڈ 353 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے سہ فریقی سیریز کے فائنل میں جگہ بنوائی،لیکن صرف دو دن بعد وہ لڑکھڑا گئے، نیوزی لینڈ نے پانچ وکٹوں سے ٹرافی جیت لی اور چیمپئنز ٹرافی سے قبل اعتماد بڑھانے والے ٹائٹل سے محروم ہوئے۔پھر بدھ کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں انہیں 60 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم بتانے لگے ہیں
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان ایسے حالات میں ترقی کرتا ہے، عمران خان کے افسانوی شیروں کی 1992 کے ورلڈ کپ کی فاتحانہ مہم کی آواز سے گونجتا ہے۔چیمپئنز ٹرافی 2017 کی یادیں بھی ویسی ہیں۔پھر ہمارے پاس اب کھونے کو اور بچا ہی کیا ہے۔بابرا عظم 64 رنزبناکر بھی مطعون ہے۔رضوان کی کپتانی پر سوالات ہیں۔سلیکٹرز پر الزامات ہیں اور پیسرز ناکامی کی مجسم تصویر بنے چلے آرہے ہیں۔اب ہار گئے تو کہاں ہونگے۔اپنے گھر میں ہوکر بھی بے گھر۔3 ہفتوں کے میزبان 4 دن میں ایونٹ سے باہر ہونگے تو بے گھر ہی کہلائیں گے تو یہ سب کیویز سے شکست کے بعد سامنے لکھا تھا۔اتوار 23 فروری کو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا۔دبائو میچ کا بھی نہیں ہوگا۔بھارت کا بھی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ 4 دن میں ایونٹ سے باہر۔تو سوچ کیا ہوگی کہ ناکام ہوئے تو لوگ تو پہلے ہی توقع کررہے ہیں،کمزور کہہ رہے ہیں اور بھارت کو فیورٹ مان رہے ہیں تو کیوں نہ آزاد ہوکر کھیلیں اور تن من دھن سے جنگ لڑیں،ایسا سوچا تو نتیجہ حق میں ہوگا۔ٹاس پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ جی ہاں! مشکلات بھارت کے حق میں ہیں، متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر پاکستان کو کبھی کمزور نہیں لکھا جا سکتا۔ سب کے بعد، یہ ایک نیا دن ہے، ایک تازہ جنگ ہے، ایک بڑے کھیل میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان بمقابلہ بھارت،دبئی میں پاکستانی ٹریننگ سیشن وائرل،بھارتی میڈیا میں تذبذب
دبئی میں 266 رنز سے بڑا ہدف نہیں بنا۔ہاف سنچری سے بہت زیادہ کھیلے گئے میچز میں صرف 4 میں 300 اسکور بن سکے تو یہاں اگر کوئی بائولنگ لائن 280 سے 300 رنز بنواتی ہے تو گویا وہ گھر سے ہارنے کیلئے گئی ہوگی
فخرزمان نہیں ہیں تو سامنے جسپریت بمرا بھی نہیں ہیں۔بابر اعظم فارم میں نہیں ہیں تو ویرات کوہلی کون سا فارم میں ہیں۔محمد شامی کے تجربے کیلئے شاہین اور نسیم تو موجود ہیں۔سپن آل رائونڈرز بھی ہیں۔ہارنا،لڑکر ہارنا یا جیتنا فرق رکھتا ہے۔یہ ضرور ہوگا۔عثمان خان نے کھیلنا ہوتا تو امام الحق کیوں آتے،اچانک آگئے تو تقدیر کا سنہری پیج بھی لکھ سکتے ہیں۔
پاکستان بمقابلہ بھارت،سنیل گاوسکر اور ہربھجن سنگھ کی اہم باتیں،بابر اعظم کیلئے اہم ریمارکس