!
لاہور۔لندن۔کرک اگین رپورٹ ۔
بریکنگ نیوز۔پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا سہ ملکی سیریز کے ٹی وی رائٹس کا بڑا معمہ حل، سکائی سپورٹس کی واپسی
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی ہوم سیریز اور تاریخی سہ ملکی ون ڈے کپ کے نشریاتی حقوق کے حوالے سے کرکٹ شائقین کے لیے ایک بڑی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ طویل انتظار اور کئی اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر برطانیہ میں ٹی وی بلیک آؤٹ کا خطرہ ٹل گیا ہے اور برطانوی میڈیا جائنٹ سکائی سپورٹس ایک بار پھر پاکستان کی سرزمین سے لائیو ایکشن دکھانے کے لیے میدان میں آ رہا ہے۔
انگلینڈ، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آئندہ شیڈول میچز کی لائیو کوریج کے حوالے سے پسِ پردہ کیا کھچڑی پک رہی ہے، آئیے آپ کو اس تازہ ترین خبریں فراہم کرنے والی خصوصی رپورٹ میں بتاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ نے آنے والے ہوم سیزن کے تمام ٹی وی رائٹس لاہور کی ایک معروف کمپنی کو فروخت کر دیے ہیں۔ اس سیزن میں سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز، انتہائی اہم سہ ملکی ون ڈے کپ اور دو ٹیسٹ میچز شامل ہیں۔ لاہور کی اس فرم نے یہ حقوق اس لیے خریدے تاکہ وہ انہیں آگے برطانوی مارکیٹ میں ری سیل کر سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی میڈیا ہاؤس پہلے اس سیریز کو لائیو دکھانے میں قطعی دلچسپی نہیں لے رہا تھا، تاہم آخری لمحات میں معاملات نے یوٹرن لیا اور اب وہ باقاعدہ معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ صرف حتمی دستخط ہونا باقی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سہ ملکی سیریز کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہونے والے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ میچز بھی لائیو براڈکاسٹ کرے گا۔
پی سی بی اور برطانوی براڈکاسٹر کے درمیان ماضی کی تلخی
سفارتی اور میڈیا حلقوں میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور برطانوی نیٹ ورک کے درمیان براہ راست تعلقات مثالی نہیں رہے۔ ماضی میں انگلینڈ کے دورے کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے بیٹوں کے انٹرویو نشر کیے جانے پر پی سی بی شدید ناراض تھا، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ ختم ہو گئی تھی۔
چونکہ دونوں اداروں کے درمیان اب کوئی براہ راست ڈیل نہیں ہے، اس لیے لاہور کی مڈل مین کمپنی نے اس ڈیڈ لاک کو توڑا اور درمیان میں آ کر اس رکاوٹ کو دور کر دیا۔
اب سب کی نظریں اس سوال پر ہیں۔کیا تاریخ خود کو دہرائے گی
اب جبکہ یہ اسپورٹس نیٹ ورک دوبارہ پاکستان آ رہا ہے، تو کرکٹ اور سیاسی حلقوں میں ایک بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان کی سرزمین پر آ کر کوریج کرتے وقت وہ دوبارہ وہی جارحانہ اور متنازع صحافتی انداز اپنائے گا؟ کیا ماضی کے انٹرویوز جیسا عمل ایک بار پھر دہرایا جائے گا؟
فی الحال اس تھرڈ پارٹی معاہدے نے شائقینِ کرکٹ کو تو بڑی خوشخبری دے دی ہے، لیکن پی سی بی اور براڈکاسٹر کے درمیان یہ سرد جنگ آنے والے دنوں میں کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ دیکھنا واقعی دلچسپ ہوگا۔
