اسلام آباد، دبئی: کرک اگین رپورٹ۔ رمیز راجہ کا نیا ٹھکانہ، رضوان بند گلی میں سفر اور کپتان کی بے بسی: سنسنی خیز انکشافات
اگر آپ کرکٹ کی تازہ ترین خبریں اور کرکٹ بریکنگ نیوز کے ذریعے پی سی بی کی اندرونی سیاست سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو یہ رپورٹ آپ کے لیے اہم ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے کمنٹری پینل اور ٹیم کا جو اعلان کیا گیا ہے، اس کے پیچھے کئی ایسے راز چھپے ہیں جو عام شائقین کی نظروں سے اوجھل ہیں لیکن بورڈ کے فیصلوں پر گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں۔
رمیز راجہ کا اخراج اور دبئی کا نیا محاذ
انگلینڈ کے خلاف گزری سیریز کے دوران سابق کپتان رمیز راجہ اسکائی اسپورٹس کے بجائے بی بی سی انگلش سروس (ٹیسٹ میچ اسپیشل) کے لیے تبصرے کر رہے تھے۔ اس کمنٹری کے دوران انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام انتہائی محتاط انداز میں دو سے چار بار ضرور لیا۔ اس کے برعکس، اسکائی اسپورٹس نیوز نے جب پاکستانی معاملات کو کور کیا تو انہوں نے عمران خان کے بیٹوں کا باقاعدہ انٹرویو چلایا اور مائیکل ایتھرٹن جیسے نامور کمنٹیٹر نے بھی اس پر بات کی۔
رمیز راجہ کی اس محتاط گفتگو کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کی ہوم سیریز کے لیے پی سی بی نے جو آفیشل کمنٹری پینل جاری کیا، اس میں عامر سہیل، سلمان بٹ اور بازید خان تو شامل ہیں لیکن رمیز راجہ کا نام سرے سے غائب ہے۔ تاہم، رمیز راجہ شاید اس صورتحال سے پہلے ہی واقف تھے، اسی لیے انہوں نے پہلے سے ہی ایک الگ معاہدہ کر رکھا تھا۔ وہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں جہاں وہ نو اکتوبر کی صبح سے شروع ہونے والے افغانستان اور بنگلہ دیش کے واحد ٹیسٹ میچ میں کمنٹری کے فرائض انجام دیں گے۔
رضوان پر غیر اعلانیہ پابندی اور امام الحق کا کیس
دوسری جانب، پاکستان کے اسٹار وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے حوالے سے سنگین اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ وہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے آن لائن بیٹنگ اور دیگر الزامات کی تحقیقات کے باعث ایک قسم کی غیر اعلانیہ پابندی کا شکار ہو چکے ہیں اور فی الحال ان کی واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے برعکس، امام الحق (جن پر ماضی میں جعلی انجری کا الزام لگایا گیا تھا) کا کیس اب بیک برنر پر جاتا دکھائی دے رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا معاملہ اب ختم یا کلوز کر دیا گیا ہے۔
صاحبزادہ فرحان،کانٹوں کی سیج پر نیا کپتان
اس تمام سیاسی ہلچل کے بیچ، نئے ٹی 20 کپتان صاحبزادہ فرحان اپنے پیشرو کپتانوں (بابر اعظم، شاہین آفریدی اور سلمان علی آغا) کے انجام سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے میڈیا کے سامنے انتہائی نپے تلے انداز میں کہا ہے کہ وہ اس کپتانی کو انجوائے کر رہے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہ عہدہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے اور یہ ایک کانٹوں کی سیج ہے۔ فرحان کا پورا فوکس اس وقت صرف اپنی پرفارمنس پر ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پی سی بی میں کسی بھی وقت کچھ بھی بدل سکتا ہے۔
کرکٹ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی عام ہیں کہ پاکستان کرکٹ کے سلیکٹرز مکمل طور پر آزاد نہیں ہیں۔ کپتان کو اکثر یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ٹیم کون بنا رہا ہے، کہاں بن رہی ہے اور کن بنیادوں پر کھلاڑیوں کو منتخب یا ڈراپ کیا جا رہا ہے۔
