کراچی۔کرک اگین رپورٹ۔رضوان نے سابق کپتانوں وکرکٹرزکی تنقید کا فوری جواب دے دیا۔کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے میچ ہارنے کے بعد اپنے انٹرویو میں سابق کرکٹرز کی تنقید کا فوری جواب دے دیا ہے۔
انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وکٹ مشکل لگ رہی تھی اور یہ پچھلی پچ سے مختلف تھی اور آپ نے دیکھا کہ یہاں پر سکور کرنا مشکل تھا۔ ہمارا خیال یہ تھا ہم پہلے کھیلیں گے اور 280 تک سکور کریں گے۔ بعد میں اسے 260 تک کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ہو سکے۔ ہماری وکٹیں ابتدا میں گر گئیں۔ اس کے بعد میں نے اور سلمان علی آغا نے کافی حد تک سنبھال لیا۔ پھر ہم نے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کی اس چکر میں ہم آؤٹ ہو گئے اور 15 سے 20 رنز ابھی کم تھے ،اگر یہ ہوتے تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا۔ انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ پچ کو دیکھ کر ہوتا ہے، مختلف کنڈیشنز ہوتی ہیں، اس کو دیکھ کر یہ ایک اتفاقی فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کا میچ کے نتیجے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بہرحال اچھا کھیل پیش کیا اور وہ جیت گیا۔
ڈراپ کیچز،ناقص کپتانی،غلط حکمت عملی،پاکستان سہہ ملکی کپ ہارگیا،چیمپئنز ٹرافی خطرے میں
آج پاکستان کی ٹیم جب 242 رنز بنا کر اؤٹ ہوئی تو سابق کپتانوں جاوید میاں داد، ظہیر عباس، وقار یونس اور وسیم اکرم سمیت کئی سابق کرکٹرز نے تنقید کی اور کہا کہ پاکستان نے یہ غلط فیصلہ کیا ہے۔ اسے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنی چاہیئے تھی اور بعد میں ٹارگٹ چیز کرنا چاہیے تھا، جیسا کہ گزشتہ میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیا تھا۔ محمد رضوان نے لگتا ہے کہ اس تنقید کو سن لیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اس فیصلے کا دفاع کیا اور جواب بھی دیا۔
رضوان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہماری فیلڈنگ کمزور تھی ۔اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ خراب فیلڈنگ تینوں میچوں میں نظر آئی۔ دیکھتے ہیں مزید بہتری ہوگی