ڈھاکا۔کرک اگین رپورٹ۔سلمان علی آغا رن آئوٹ،رمیز راجہ کو عمران خان یاد آگئے،ان کی 2 اہم ہدایات کا انکشاف۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ سلمان علی آگا کا رن آئوٹ قانون کے مطابق تو ٹھیک تھا لیکن سپرٹ آف کرکٹ کے خلاف تھا۔پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اور بنگلہ دیش ایسے واقعات میں ملوث رہا ہے۔
رمیز راجہ نے کہا ہے کہ میں جس سکول آف کرکٹ ٹھاٹھ سے آیا ہوں ،جہاں پر اس کو ایک بری چیز سمجھا جاتا ہے اور خاص طور پہ کوئی اچھائی کرنے کے چکر میں سلمان علی آغا اپنی وکٹ گنوا گئے تو ان کے لیے بھی میسج ہے کہ یہ اچھائی کا زمانہ نہیں ہے۔ اپنے دھیان کریں۔ ان فیکٹ میں آپ کو دو چیزیں بتانے لگا ہوں۔ کیسے میں عمران خان کی مثال کوٹ کروں گا۔ کیونکہ ہم نے اپنی بیسٹ کرکٹ ان کے نیچے کھیلی تھی، جب ہم بیٹنگ کرتے تھے یا بولنگ بھی کر رہے تھے تو ان کی کلیئر ہدایت ہوتی کہ آپ نے بال جو ہے اگر روکا ہے اور شاٹ لیگ پر کھیلا تو فیلڈرز ہیں تو بیٹ سے بال ان کی طرف مت ڈالیں۔ یا ان کی طرف بلے کے ساتھ بال مت دھکیلیں۔یا ان کی ہیلپ نے کریں یا بال اٹھاکر مت دیں۔ان کو تھکنے دیں۔ یہ نو سے پانچ بجے جو ہے نا یہ ایک چیلنج ہے ہمارے لیے تو اس چیلنج میں آپ اپوزیشن کی کیوں ہیلپ کریں گے۔ ان کو بال اٹھانے دیں۔
دوسرا یہ کہ اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے اس طرح کا تو پھر وہاں پر آپ نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا ہے۔ وہ سری کانت کا واقعہ یاد ہوگا وہ تو یوٹیوب پہ ہے۔ 89 کی سیریز میں لاہور میں ان کو آؤٹ دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا میں نے ن
بال کو بلے کے ساتھ نہیں چھوا اور عمران خان نے ان کو واپس بلا لیا۔ سو یہ چیزیں ہوتی ہیں کہ جس سے کہ آپ اپنی کرکٹ کو ڈیفائن کرتے ہیں اور دنیا میں پھر آپ کی عزت بھی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ کوئی اتنا بڑا تو خیر میچ نہیں تھا شاید بنگلہ دیش کے لیے تھا کیونکہ سیریز جیتنا چاہ رہے تھے اور وہیں سے پاکستان کا ڈاؤن فال ان فیکٹ شروع ہوا۔
سلمان علی آغا پر بھاری جرمانے کا امکان،سپورٹس مین سپرٹ نہیں،قانون پکڑیں
