کیپ ڈاؤن۔ کرک اگین رپورٹ۔
کیپ ٹاؤن ٹیسٹ۔ پہلا دن۔ ٹیم کی اٹھان، پھر جھکاؤ۔ پھر اٹھان اور پھر جھکاؤ۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ
ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا ایک غلط فیصلہ اور پھر میچ کے ابتدائی دو گھنٹوں میں انتہائی مایوس کن بولنگ۔ آسٹریلیا کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ لیکن پھر دوپہر کے سیشن میں آسٹریلوی ٹیم نے ٹیسٹ میچ میں ایسی شاندار واپسی کی جس کی امید بہت کم لوگوں کو تھی۔ اس واپسی میں جتنی داد آسٹریلوی بولرز کو جاتی ہے، اتنی ہی ملامت جنوبی افریقی بلے بازوں کو بھی جانی چاہیے، جنہوں نے غیر ذمہ دارانہ شاٹس کھیل کر 203 رن پر صرف 1 وکٹ والی مضبوط پوزیشن کو دیکھتے ہی دیکھتے 232 پر 6 وکٹوں میں بدل دیا۔
ایڈن مارکرم (78 رنز) اور ڈیوڈ بیڈنگھم (50 رنز) سیٹ ہونے کے بعد شارٹ پچ گیندوں پر وکٹیں گنوا بیٹھے، جبکہ ویان مولڈر بھی اسی چکر میں سستے میں پویلین لوٹ گئے۔ اپنے کیریئر کا صرف دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے اوپنر مارکیز ایکرمین 95 رنز کے انفرادی اسکور پر نیتھن لیون کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے اور اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری سے چوک گئے۔ اس کے فوراً بعد کپتان ٹیمبا باوما بھی نیتھن لیون کی ایک سیدھی گیند کو نہ سمجھ سکے اور ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ پچھلے ہفتے 179 رنذ کی شاندار اننگز کھیلنے والے باوما اب مسلسل تین اننگز میں آف اسپن کا شکار بنے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ وہ تینوں بار سنگل ڈیجٹ اسکور پر گئے۔
پہلے سیشن میں ساڑھے چار رنز فی اوور کی رفتار سے رنز لٹانے کے بعد آسٹریلیا نے دوسرے سیشن میں نپی تلی باؤلنگ کی لیکن اصل ڈراما دن کے آخری لمحات میں شروع ہوا جب مچل اسٹارک نے نئی گیند ہاتھ میں لی۔ ایک وقت پر جنوبی افریقہ 327 پر 6 وکٹیں کھو کر دن کا اچھا اختتام کرنے کی پوزیشن میں تھا،جو اس اہم سیریز کے فیصلہ کن میچ کے لحاظ سے ایک بہترین اسکور نظر آ رہا تھا۔
پھر اسٹارک نے صرف 6 گیندوں کے اندر 4 وکٹیں لے کر سارا نقشہ ہی بدل دیا۔ انہوں نے پہلے 42 رنز پر سیٹ ریان رکلٹن کو چلتا کیا اور اگلی ہی گیند پر مارکو جانسن (52 رنز) کو آؤٹ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جیرالڈ کوٹزی کے اسٹمپ اکھاڑے اور کاگیسو ربادا کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر کے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم کو 329 رنز پر سمیٹ دیا۔ دن بھر کی اتنی اٹھک بیٹھک کے بعد اب اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خوش ہوگی تو وہ یقیناً آسٹریلیا ہے۔
کمنز کا فیصلہ اور کمزور بیٹنگ کا خوف
وقت کے فرق کی وجہ سے آسٹریلیا میں بیٹھے بہت سے فینز شاید اس زبردست واپسی کو لائیو نہ دیکھ سکے ہوں۔ جب صبح کپتان پیٹ کمنز نے سکاٹ بولانڈ کو ٹیم سے باہر رکھ کر نیلے آسمان تلے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، تو جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے آسٹریلوی باؤلنگ پر دھاوا بول دیا۔ اسٹارک کو ایکرمین نے لگاتار چار چوکے مارے تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ دن کا اختتام ایسا ہوگا۔ آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ 21 سالوں میں (جب پونٹنگ نے انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ دی تھی) کسی ٹیم نے پہلے سیشن میں 100 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ نہیں کی تھی، لیکن کمنز کی الیون دباؤ میں بکھرنے کے بجائے ڈٹ جانا جانتی ہے۔
سچ یہ ہے کہ یہ آسٹریلوی ٹیم اب بھی مکمل نہیں ہے۔ ان کی بیٹنگ لائن اپ مسائل کا شکار ہے۔ اوپنر نک میڈنسن دو ٹیسٹ کے بعد ہی گھر لوٹ چکے ہیں، مارنس لیبوشین طویل عرصے سے کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسٹیو اسمتھ کا زخمی ہونا ٹیم کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔
آسٹریلیا کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ بالکل کنارے پر پہنچ کر واپسی کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ پچھلے سال ایشز کے دوران بھی جب عثمان خواجہ گالف کھیلتے ہوئے زخمی ہوئے تھے اور ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ پر سوال اٹھے تھے، تو انہوں نے دو دن میں ٹیسٹ جیت کر سیریز 4-1 سے اپنے نام کی تھی۔ افریقہ کی سرزمین پر یہ الٹ پھیر اس سے بھی زیادہ بڑا ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس فائنل نے یہ ثابت نہیں کیا کہ صبح کمنز کا پہلے بولنگ کا فیصلہ بالکل درست تھا، لیکن ان کی حکمت عملی اپنی کمزور بیٹنگ لائن اپ کو شروع میں بچانے کی لگتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آسٹریلوی بیٹرز اس موقع کا فائدہ اٹھا پائیں گے یا کہانی پھر بدل جائے گی۔
