لاہور۔ کرک اگین رپورٹ۔
قذافی اسٹیڈیم میں معجزہ۔ شاداب خان کا تاریخی شو، پاکستان نے ہارا ہوا میچ انگلینڈ سے چھین لیا۔کرکٹ بریکنگ یوز یہ ہے کہ ریکارڈ بک ہل گئی اور پاکستان تین ملکی کپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا ناقابل یقین مقابلہ دیکھنے کو ملا جس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک روزہ میچوں کی سہ فریقی سیریز کے چوتھے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 1 وکٹ سے عبرتناک شکست دے کر فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے، جبکہ انگلینڈ اس ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ کینسر سے آگاہی کی مہم کے سلسلے میں یہ میچ گلابی رنگ کی مناسبت سے کھیلا گیا۔
ٹاس اور انگلینڈ کی بیٹنگ کا احوال
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں شاداب خان کو واپس شامل کیا جبکہ نوجوان کھلاڑی رضا اللہ کو اپنا پہلا بین الاقوامی میچ (ڈیبیو) کھیلنے کا موقع دیا۔
پاکستانی باؤلرز کی بہترین کارکردگی کی بدولت انگلینڈ کی پوری ٹیم 241 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کی طرف سے بین ڈکٹ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 105 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی دوسرا بلے باز زیادہ دیر پچ پر نہ ٹک سکا۔ پاکستان کی طرف سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے تباہ کن باؤلنگ کی اور 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اپنا پہلا میچ کھیلنے والے رضا اللہ نے بھی بہترین آغاز کرتے ہوئے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کا تباہ کن آغاز اور بیٹنگ لائن کا ملبہ
242 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن تھا۔ انگلینڈ کے باؤلرز نے پاکستانی بلے بازوں کو بے بس کر دیا اور ایک کے بعد ایک وکٹ گرتی چلی گئی۔ پاکستان کی وکٹیں اس طرح گریں۔5 کھلاڑی 102 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔6 کھلاڑی 103 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ 7 کھلاڑی 122 رنز پر ہمت ہار گئے۔ 8 کھلاڑی 131 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ 9 کھلاڑی صرف 154 رنز پر پویلین واپس جا چکے تھے۔
فخر زمان 10، صائم ایوب 6 اور کپتان بابر اعظم صرف 10 رنز بنا کر جلدی آؤٹ ہو گئے۔ مڈل آرڈر میں سعد بیگ نے 32 اور سلمان علی آغا نے 26 رنز بنا کر تھوڑی مزاحمت کی، لیکن ان کے بعد حسن نواز 15 اور عرفات منہاس صرف 1 رن بنا سکے۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی بھی 4 رنز بنا کر چلتے بنے اور رضا اللہ صرف 8 رنز ہی جوڑ سکے۔ انگلینڈ کی طرف سے جیمی اوورٹن نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 43 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جب نویں وکٹ گری تو اسٹیڈیم میں موجود آدھے سے زیادہ شائقین مایوس ہو کر گھروں کو جا چکے تھے کیونکہ انگلینڈ کی جیت 94 فیصد یقینی ہو چکی تھی۔
آخری وکٹ پر عالمی ریکارڈ اور شاداب خان کا تاریخی شو
جب میچ پوری طرح پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا، تب نمبر 8 پر موجود شاداب خان اور آخری بلے باز حارث رؤف نے مل کر وہ تاریخ رقم کر دی جو کرکٹ کی دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔ دونوں نے آخری وکٹ پر 89 رنز کی ناقابل شکست تاریخی شراکت قائم کی اور پاکستان کو یقینی شکست سے بچا لیا۔
اس شراکت داری کے دوران ون ڈے کرکٹ کے یہ بڑے ریکارڈز بنے
تاریخ کا سب سے بڑا رن چیز: ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے آخری وکٹ پر میچ جیتنے کے لیے یہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹنرشپ بن گئی ہے۔ 51 سالہ پرانا ریکارڈ پاش پاش۔ اس جوڑی نے 1975 کے ورلڈ کپ کا ویسٹ انڈیز کا وہ تاریخی ریکارڈ توڑ دیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان ہی کے خلاف آخری وکٹ پر 64 رنز بنا کر میچ جیتا تھا۔نمبر 8 پر پہلی سنچری۔شاداب خان نے دباؤ کے وقت اپنی زندگی کی سب سے بہترین اننگز کھیلی اور 96 گیندوں پر 113 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ انہوں نے 13 چوکے اور 5 شاندار چھکے لگائے۔ اس سے پہلے ان کا سب سے زیادہ اسکور 86 رنز تھا، یوں انہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی یادگار سنچری بھی اسکور کی اور ون ڈے تاریخ کے تیسرے بلے باز بنے جنہوں نے اس نمبر پر آ کر سنچری بنائی۔
حارث رؤف کا وننگ چوکا اور سنسنی خیز فتح
میچ کا آخری اوور انتہائی سنسنی خیز تھا جب پاکستان کو جیت کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔ حارث رؤف نے انگلینڈ کے نئے باؤلر ہنری کرومبے کو شاندار چوکا مار کر پاکستان کو 47.1 اوورز میں 9 وکٹوں پر 243 رنز تک پہنچایا اور 1 وکٹ سے معجزاتی فتح دلا دی۔ حارث رؤف 7 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور میچ ختم ہوتے ہی دونوں کھلاڑیوں نے گراؤنڈ کے بیچوں بیچ گلے مل کر اس یادگار فتح کا بھرپور جشن منایا۔
