لاہور ۔کرک اگین رپورٹ ۔ رضوان کے ساتھ تحقیقاتی ادارے میں کیا بیتی،سنسنی خیز تفصیلات ۔
قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پیشی کے حوالے سے ایک بڑی کرکٹ بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس اہم معاملے میں کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر کی ایجنسی کے سامنے حاضری کی تمام اندرونی تفصیلات اور پوشیدہ پہلو اب منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
موبائل فون کی ضبطگی اور تفتیش
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان کو ان کا موبائل فون تاحال واپس نہیں کیا گیا ہے۔ دورانِ انکوائری ان سے خصوصی طور پر موبائل فون کے استعمال سے متعلق تفصیلی سوالات پوچھے گئے۔ اس موقع پر کرکٹر کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا کہ ان کا موبائل ڈیوائس فی الحال فرانزک معائنے کے لیے بھیجی گئی ہے۔
انتظار اور انکوائری کا دورانیہ
رپورٹ کے مطابق محمد رضوان اپنے مقررہ وقت پر ہی کے دفتر پہنچ گئے تھے۔ باقاعدہ انکوائری کا عمل شروع ہونے سے قبل انہیں وہاں کافی دیر تک طویل انتظار کرنا پڑا۔ اس طویل انتظار کے برعکس جب انکوائری شروع ہوئی تو رضوان سے ہونے والی اس پوچھ گچھ کا مجموعی دورانیہ انتہائی مختصر رہا۔
تحریری سوالات کے جوابات اور مستقبل کا امکان
تفتیش کے دوران محمد رضوان کی جانب سے خط کے ذریعے جو سوالات اٹھائے گئے تھے، ان کے باقاعدہ جوابات اس موقع پر نہیں دیے گئے۔ البتہ ایجنسی حکام کی طرف سے یہ یقین دہانی ضرور کرائی گئی ہے کہ ان کے سوالات کے جواب جلد ہی فراہم کر دیے جائیں گے۔ ذرائع نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو محمد رضوان کو دوبارہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
خوشگوار ماحول اور احترام کا برتاؤ
اس پوری کارروائی کے دوران سب سے مثبت پہلو یہ رہا کہ تفتیش کاروں کی جانب سے محمد رضوان کو کافی عزت و احترام دیا گیا۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پوری انکوائری انتہائی پرسکون اور خوشگوار ماحول میں مکمل کی گئی۔
