راولپنڈی۔کرک اگین رپورٹ۔ورلڈکپ 2027 مہم،پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا،پہلا ون ڈے ہفتہ کو،3 بڑی اپ ڈیٹس۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان کہاں تھا اور کہاں ہے۔اگر آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں آج اگر خطرے سے باہر ہے تو اس کا سہرا ٹیم سے ڈراپ ہونے والے کپتان محمد رضوان کے سر بھی ہے کہ جنہوں نے آسٹریلیا میں پاکستان کو ون ڈے سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔کیا پاکستان ان حالات میں براہ راست ون ڈے ورلڈکپ 2027 کھیلنے کا اہل پے یا اسے بھی ویسٹ انڈیز جیسے نام کی طرح آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ کوالیفائر کھیلنا چاہئے اور یہاں تک کہ ویسٹ انڈیز کی طرح ورلڈکپ سے باہر ہوجانا چاہئے۔اس کا جواب آنے کو ہے۔ادھر آسٹریلیا ورلڈ کپ دفاعی چیمپئن ہے۔ٹاپ کھلاڑیوں سے محروم ٹیم کی دفاعی مہم کی جانب برصغیر میں پاکستان کے خلاف تین ون ڈے میچوں سے اس کا سفر شروع ہوگا۔معروف کرکٹ شائق چچا کرکٹ کی بطور پاکستانی سپورٹر ہوم میدانوں میں یہ آخری سیریز ہوگی۔بیرونی سفر وہ پاکستان کے دورہ انگلینڈ 2026 کے موقع پر کرکے ریٹائرڈ ہونگے۔
آسٹریلوی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر جوش انگلیس کریں گے، جب کہ نوجوان اولیور پیک اور آل راؤنڈر لیام سکاٹ بین الاقوامی سطح پر ڈیبیو کرنے کے لیے تیار ہیں۔قومی کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے تصدیق کی ہے کہ آل راؤنڈر کیمرون گرین کو دورہ پاکستان کے دوران متعدد پوزیشنوں پر ٹرائل کیا جائے گا کیونکہ آسٹریلیا ورلڈ کپ سے قبل اپنے مڈل آرڈر میں تبدیلی لاتا ہے۔ون ڈے ورلڈ کپ افق پر نظر آنا شروع ہو رہا ہے ، اس میں ابھی 16 ماہ باقی ہیں، دونوں ٹیموں کے پاس اب اور اس کے بعد کے درمیان ون ڈے مواقع کی تعداد تیزی سے کم ہو جائے گی۔
آسٹریلیا کے پاس اس سال کے بقیہ حصے میں 15 ون ڈے شیڈول ہیں جن میں سے چھ اگلے دو ہفتوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں کھیلے جائیں گے۔ اگرچہ برصغیر کے حالات میں ان میچز کی جنوبی افریقہ سے زیادہ مطابقت نہیں ہوگی، خاص طور پر سال کے اس وقت پاکستان گرمی کو دبانے پر ہے۔
مارچ میں بنگلہ دیش میں تین میچوں کی سیریز ہارنے کے بعد پاکستان نے بہت سی تبدیلیاں کی ہیں۔بابر اعظم، نسیم شاہ اور شاداب خان کی واپسی، ایک نے تو 2023 ورلڈ کپ کے بعد سے کوئی ون ڈے نہیں کھیلا۔ وکٹ کیپر بلے باز روحیل نذیر، بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس اور فاسٹ بولر احمد دانیال کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔محمد رضوان ایک حیرت انگیز بھول ہے، جس کی کپتانی میں پاکستان نے آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز جیتی۔آخری بار یہ ٹیمیں صرف 18 ماہ قبل ملی تھیں۔ بنگلہ دیش میں ہارنے والی ٹیم سے فیصل اکرم، فہیم اشرف، حسین طلعت، محمد وسیم جونیئر اور سعد مسعود کو بھی باہر کیا گیا ہے جبکہ صائم ایوب، فخر زمان اور عثمان خان انجری اور بیماری کے باعث دستیاب نہیں ہیں۔
پاکستان کی پہلے میچ کیلئے ممکنہ الیون۔1 صاحبزادہ فرحان، 2 معاذ صداقت، 3 بابر اعظم، 4 سلمان علی آغا، 5 عبدالصمد، 6 غازی غوری، 7 شاداب خان، 8 شاہین آفریدی (کپتان)، 9 نسیم شاہ، 10 حارث رؤف، 11 ابرار احمد۔
آسٹریلیا کی ممکنہ الیون: 1 میٹ شارٹ، 2 ایلکس کیری، 3 مارنس لیبوشگن، 4 جوش انگلیس (کپتان،وکٹ کیپر)، 5 میٹ رینشا/اولی پیک، 6 کیمرون گرین، 7 لیام سکاٹ، 8 ناتھن ایلس، 9 ریلی میریڈیتھ، 10 ایڈم زامپے، 10 بلے کوہنیمن/تنویر سنگھا۔
راولپنڈی میں اس ہفتے ہونے والی جابرانہ گرمی کے مقابلے میں ہفتے کے روز موسم ٹھنڈا ہونے کا امکان ہے اور اس علاقے میں گرج چمک کے ساتھ طوفان کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف آخری دو ون ڈے سیریز جیتی ہے۔ مہمان ٹیم نے 1998 سے پاکستان میں کوئی ون ڈے سیریز نہیں جیتی۔بابر اعظم کو پاکستان کے لیے سعید انور کو پیچھے چھوڑنے کے لیے ایک ون ڈے سنچری کی ضرورت ہے۔
اگر اولی پیک اس ہفتے پاکستان میں ڈیبیو کرتے ہیں تو وہ مردوں کے ون ڈے میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے سب سے کم عمر اسپیشلسٹ بلے باز بن جائیں گے، جب کہ صرف چھ دیگر کرکٹرز اپنی 20ویں سالگرہ سے قبل یہ کارنامہ انجام دے پائے ہیں۔
پہلا میچ کس کا اور سیریز کس کی
پاکستان کرکٹ ٹیم شاہین شاہ کی قیادت میں کھیل رہی ہے۔ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاسکی تو جیت ممکن ہوگی۔اہلیت اور صلاحیت کی بات یہ ہے کہ سامنے آسٹریلیا کی سی درجہ کی ٹیم ہے اور دم خم رکھتی ہے۔
مئی 30، پہلا ون ڈے: راولپنڈی اسٹیڈیم، شام ساڑھے 4 بجے
جون2، دوسرا ون ڈے: لاہور قذافی اسٹیڈیم، شام ساڑھے 4 بجے
جون4، تیسرا ون ڈے: لاہور قذافی اسٹیڈیم، شام ساڑھے 4 بجے
