ملتان سے حافظ محمد عمران عثمانی
ٹاس جیتو، بیٹنگ کرو، میچ ہارو، چیمپئنز کپ کا نیا فارمولا۔ملتان میں پھر سنچری، سلو اوور ریٹ پر پی سی بی کی خاموشی برقرار۔کرکٹ بریکنگ نیوز اور تازہ ترین ارٹیکل یہ ہے کہ چیمپئنز کپ کے ابتدائی دو میچوں میں چاروں ٹیموں کی شرکت تو مکمل ہو گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی ملتان
کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک انوکھا فارمولا بھی سیٹ ہو گیا ہے کہ “ٹاس جیتو، پہلے بیٹنگ کرو اور میچ ہار جاؤ”۔ ٹورنامنٹ کے آغاز میں جہاں بلے بازوں کی طرف سے سنچری در سنچری کا سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہیں دوسری طرف مقررہ وقت پر اوورز پورے نہ کرنے کا سنگین مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔ورلڈ کپ 2027ء کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری اس ٹورنامنٹ کے دوسرے میچ میں بھی یہی روایت برقرار رہی، جہاں پاکستان بلیوز نے پاکستان گولڈ کو چھ وکٹوں کی بھاری شکست سے دوچار کر دیا۔ میچ میں پاکستان گولڈ نے ٹاس جیتا اور پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، بالکل ویسا ہی جیسا گزشتہ میچ میں ہوا تھا۔ مگر یہ فیصلہ ان کے حق میں بہتر ثابت نہ ہوا اور پوری ٹیم 46ویں اوور میں محض 212 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ اوپنر شامل حسین نے 50 رنز کی اننگز کھیل کر اچھا آغاز فراہم کیا، جبکہ مڈل آرڈر میں کامران غلام نے 63 رنز کی ایک ذمہ دارانہ باری کھیلی مگر وہ اسے ایک بڑی اننگز میں تبدیل نہ کر سکے۔ حیدر علی نے بھی 44 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن سعد خان صرف 9 رنز ہی بنا سکے۔ مڈل آرڈر کی اس تھوڑی بہت مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹر وکٹ پر ٹک نہ سکا، اور سب سے تشویشناک بات یہ رہی کہ پاکستان گولڈ کی آخری چھ وکٹیں اسکور بورڈ میں صرف 48 رنز کا اضافہ کر پائیں۔دوسری جانب پاکستان بلیوز کے بولرز نے نپی تلی بولنگ سے حریف بیٹرز کو جکڑے رکھا۔ فاسٹ بولر حسن علی نے ساڑھے آٹھ اوورز میں 32 رنز دے کر چار اہم وکٹیں اڑائیں۔ میچ کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے حسن علی کو کچھ دیر کے لیے میدان سے باہر بھی جانا پڑا، لیکن بعد میں وہ تازہ دم ہو کر واپس آئے اور شاندار بولنگ کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔ ان کا ساتھ اسپنر سفیان مقیم نے بخوبی نبھایا، جنہوں نے اپنے 10 اوورز کے کوٹے میں صرف 37 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو چلتا کیا۔ محمد منہاس نے بھی 10 اوورز میں 36 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عاقف جاوید نے سات اوورز میں 48 رنز دیے مگر کوئی وکٹ ان کے حصے میں نہ آ سکی۔212 رنز کے تعاقب میں پاکستان بلیوز نے چھوٹے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ اوپنر معاذ صداقت صرف 9 رنز بنا کر جلدی آؤٹ ہو گئے اور ان کے بعد آنے والے محمد فائق بھی 30 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے، لیکن دوسرے اینڈ پر اوپنر صاحبزادہ فرحان نے وکٹ سنبھالے رکھی۔ انہوں نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 101 گیندوں پر 102 رنز کی بہترین سنچری داغ دی، جس نے میچ کا رخ یکطرفہ کر دیا۔ مڈل آرڈر میں طیب طاہر نے 35 رنز بنا کر ان کا اچھا ساتھ دیا، جبکہ روہیل نظیر 21 اور عرفان خان 6 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے اور ٹیم کو جیت کی دہلیز پار کروائی۔ پاکستان بلیوز نے یہ ہدف 41.4 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنا کر حاصل کر لیا۔ دوسری طرف پاکستان گولڈ کے بولرز بالکل بے اثر دکھائی دیے۔ اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے 7 اوورز میں 29 رنز دیے مگر کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ محمد نواز بھی 10 اوورز میں 44 رنز دے کر کوئی کامیابی حاصل نہ کر پائے۔ صرف محمد عمران رندھاوا نے کچھ بہتر بولنگ کی اور 5.4 اوورز میں 30 رنز کے عوض دو وکٹیں لیں، جبکہ اسپنر فیصل اکرم نے 10 اوورز میں 51 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔اس میچ کا سب سے بڑا مثبت پہلو صاحبزادہ فرحان کی یہ سنچری رہی۔ گزشتہ روز فخر زمان نے بھی سنچری اسکور کی تھی اور اب دوسرے ہی میچ میں ایک اور اوپنر صاحبزادہ فرحان نے سینچری جڑ کر فخر زمان کے ساتھ اوپننگ کی دعویداری کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔ چونکہ یہ چیمپئنز کپ 2027ء کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا خاص حصہ ہے، اس لیے دونوں اوپنرز کی یہ شاندار فارم دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کی اوپننگ جوڑی کا دیرینہ مسئلہ اب حل ہونے کے قریب ہے۔ کھیل کے تکنیکی پہلوؤں سے ہٹ کر، ملتان کی شدید گرمی اس میچ کا ایک اور بڑا امتحانی عنصر رہی۔ تپتے ہوئے موسم اور حبس کی وجہ سے نہ صرف میدان میں موجود کھلاڑی سارا دن شدید پریشان نظر آئے، بلکہ اسٹینڈز میں بیٹھے تماشائی بھی نڈھال ہوئے اور کچھ تو بے ہوش تک ہو گئے۔مگر اس سارے کھیل میں جو سب سے تشویشناک اور غور طلب پہلو سامنے آیا ہے، وہ مقررہ وقت میں اوورز کا کوٹہ پورا نہ کرنا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کے قوانین کے مطابق ون ڈے میچ میں پچاس اوورز ایک طے شدہ وقت کے اندر ختم کرنا لازم ہوتے ہیں، لیکن یہاں ہماری ٹیمیں اور کپتان اس نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ اگر اس پورے معاملے کو گہرائی سے سمجھا جائے تو صورتحال کافی سنجیدہ ہے۔ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان گولڈ کی ٹیم 46ویں اوور میں ہی آل آؤٹ ہو گئی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت تک بھی مقررہ وقت سے 10 منٹ اوپر ہو چکے تھے۔ چونکہ ٹیم پہلے ہی آؤٹ ہو گئی، اس لیے اس تاخیر کو زیادہ محسوس نہیں کیا گیا۔دوسری اننگز کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا، جہاں پاکستان بلیوز نے 42ویں اوور میں ہدف تو حاصل کر لیا مگر اس وقت میچ کا باقاعدہ آفیشل ٹائم بالکل ختم ہو چکا تھا۔ حساب لگایا جائے تو اگر یہ میچ پورے 100 اوورز تک جاتا، تو دونوں اننگز ملا کر کم از کم ایک گھنٹے کی بھاری تاخیر ہونی تھی۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پچھلے میچ میں بھی بولرز کی سستی کی وجہ سے پہلی اننگز کو مکمل ہونے میں پورے چار گھنٹے اور 10 منٹ لگ گئے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ٹورنامنٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے رولز اور ضوابط کے بغیر کھیلا جا رہا ہے؟ آئی سی سی کے سخت قوانین کے برعکس یہاں کپتانوں اور ٹیموں کو مقررہ وقت پر اوورز ختم کرنے کا پابند کیوں نہیں کیا جا رہا؟ یہ ایک ایسا اہم سوال ہے جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری توجہ دینی چاہیے۔ اتنے بڑے اور اہم ایونٹ میں کھلاڑیوں کی اس غیر پیشہ ورانہ روش پر پی سی بی کی طرف سے فی الحال مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے اور اب تک سلو اوور ریٹ پر نہ تو کسی قسم کے جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی تادیبی کارروائی ہوئی ہے۔ اگر ڈومیسٹک لیول کے اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں ہی وقت کی پابندی کا یہ حال رہا، تو انٹرنیشنل اسٹیج پر جا کر ہماری ٹیم کے لیے پینلٹیز سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔
