کرک اگین رپورٹ
ایشیا میں روایتی حریفوں کے درمیان کرکٹ کی جنگ اب صرف گراؤنڈ تک محدود نہیں رہی بلکہ سفارتی اور انتظامی محاذوں پر بھی نت نئے موڑ لے رہی ہے، جہاں ہر لمحہ سامنے آنے والی کرکٹ بریکنگ نیوز شائقین اور مبصرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
موجودہ منظرنامے میں سب سے بڑی بحث ایشین کرکٹ کونسل کے فیصلوں اور اس کے مستقبل کے سربراہ کے گرد گھوم رہی ہے، جس کے باعث عالمی میڈیا پر کرکٹ کی تازہ ترین خبریں ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے سربراہ اور اے سی سی کے موجودہ صدر محسن نقوی کے لیے آنے والے مہینے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور اسی تناظر میں ہم نے آج کا تازہ ترین کرکٹ آرٹیکل ترتیب دیا ہے تاکہ اس اہم انتظامی اور کھیل کے میدان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کے مطابق محسن نقوی کے سامنے بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں ٹرافیاں گنوانے کی ایک انوکھی ‘ہیٹ ٹرک’ ہونے کا امکان واضح نظر آ رہا ہے۔ اس سال دسمبر میں اے سی سی ویمنز انڈر 19 ایشیا کپ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جہاں بھارتی ٹیم کو روایتی طور پر سب سے مضبوط اور فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ محسن نقوی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر ہیں، اس لیے پروٹوکول کے مطابق فائنل کے بعد انعامات اور ٹرافی دینے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔ اس سے قبل مردوں کے ایشیا کپ اور خواتین کے ایشیا کپ کے مواقع پر مسلسل دو سال بھارت نے ٹرافی اپنے نام کی اور اب انڈر 19 ایونٹ میں بھی یہی تاریخ دہرانے کے قوی امکانات ہیں۔ اگر اس بار بھی بھارتی ٹیم فائنل جیت کر ٹرافی حاصل کرنے میں ناکام رہی تو محسن نقوی کے دورِ صدارت میں ان کے سامنے بھارتی ٹیم کی جیت اور ہاتھ سے ٹرافی نکل جانے کی باقاعدہ ہیٹ ٹرک مکمل ہو جائے گی۔
دوسری جانب اگر انتظامی محاذ پر نظر ڈالی جائے تو محسن نقوی کی بطور اے سی سی صدر دو سالہ مدتِ صدارت اپریل 2027 میں اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ اگرچہ کونسل کے قوانین میں ایک مدہم سی گنجائش موجود ہے کہ اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو، جیسے کہ جنرل میٹنگ کے انعقاد میں تاخیر، اور ایشیا کے پانچ بڑے کرکٹ ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان) متفق ہوں تو صدر کی مدت میں چند ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی اور کرکٹ سفارت کاری کو دیکھتے ہوئے محسن نقوی کے معاملے میں ایسی کسی بھی توسیع کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
غیر ملکی اسپورٹس ویب سائٹس نے اپنے تجزیوں میں دعویٰ کیا ہے کہ اگلی باری بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی ہے، اور بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر تمیم اقبال نے اے سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
بنگلہ دیش کی اس آمادگی کے بعد اب کونسل میں محسن نقوی کے حق میں کسی بھی قسم کا اتفاقِ رائے پیدا ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ سامنے بھارت اور اس کے ہم نوا ممالک کا بلاک موجود ہے جو کسی بھی صورت پاکستانی عہدیدار کی مدت میں توسیع کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اپریل 2027 میں محسن نقوی کو اپنی دو سالہ مدت مکمل ہونے پر ایشین کرکٹ کونسل کے صدر کا عہدہ چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لیکن اس الوداعی وقت سے پہلے، رواں سال دسمبر کا مہینہ ان کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا جہاں بھارتی ٹیم کی ممکنہ فتح اور ٹرافی کا دھماکہ ایک بار پھر کرکٹ کی سیاست میں ہلچل مچا سکتا ہے۔
