ملتان انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم سے حافط محمد عمران عثمانی
نیشنل چیمپئنز کپ، پاکستان گولڈ کی معجزاتی فتح اور فائنل میں رسائی۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ وہ ہوگیا جو بہت کم ہوا کرتا ہے۔پاکستان گولڈ نے اپنے آخری میچ میں 5 وکٹ کی جیت اور رن ریٹ کے فارمولے کے تحت فائنل کا ٹکٹ کٹا لیا، حیدر علی اور سعد خان مرد بحران رہے، جبکہ میدان میں موجود پاکستا وائٹ کی ٹیم اس حیران کن الٹ پھیر پر دنگ رہ گئی۔اب ٹورنامنٹ کا فائنل میچ منگل 18 اگست 2026 کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان گولڈ کا ٹاکرا مضبوط پاکستان گرینز سے ہوگا۔
پاکستان گولڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا،جو بعد میں ان کے بولرز نے بالکل درست ثابت کر دکھایا۔ پاکستان وائٹ کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔صرف 45 رنز کے مجموعی اسکور پر ان کے 4 مہرے پویلین لوٹ چکے تھے، جبکہ 65 رنز تک پہنچتے پہنچتے آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔اوپنر شاہ زیب خان 2 اور حسیب اللہ خان محض 3 رنز بنا کر سستے میں فارغ ہوئے۔ کپتان صائم ایوب نے اگرچہ 39 گیندوں پر 30 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی لیکن وہ بھی دباؤ کا شکار ہو کر آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی بنے۔ ان کے علاوہ عثمان خان 3 اور خوش دل شاہ صرف 12 رنز ہی بنا سکے۔
حسن نواز کی ففٹی اور لوئر آرڈر کی مزاحمت ۔ایک وقت پر ایسا لگتا تھا کہ پاکستان وائٹ کی ٹیم 100 رنز بھی پار نہیں کر پائے گی، لیکن حسن نواز نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 55 رنز کی پراعتماد اننگز کھیلی۔ انہوں نے پہلے سعد مسعود (20 رنز) کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ کے لیے 55 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم کی، اور پھر محمد وسیم جونیئر (18 رنز) کے ساتھ مل کر 7ویں وکٹ پر مزید 38 رنز جوڑے۔ سعد مسعود نے بھی 20 رنز کا حصہ ڈالا۔ ان پارٹنرشپس کی بدولت پاکستان وائٹ کی ٹیم پورے اوورز تو نہ کھیل سکی لیکن 41.4 اوورز میں 172 رنز کا مجموعہ بورڈ پر سجانے میں کامیاب رہی۔
پاکستان گولڈ کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنے 8 اوورز میں صرف 26 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا بھرپور ساتھ اسپنر مبشر خان نے دیا جنہوں نے لائن اور لینتھ پر مکمل کنٹرول رکھتے ہوئے 10 اوورز میں محض 29 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ چائنا مین بولر فیصل اکرم نے بھی نپی تلی بولنگ کی اور 9.4 اوورز میں 48 رنز دے کر 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔
ہدف کا تعاقب اور نیٹ رن ریٹ کا سنسنی خیز چیلنج
پاکستان گولڈ کے سامنے اب 173 رنز کا معمولی ہدف تھا، لیکن اصل چیلنج نیٹ رن ریٹ کا تھا۔ فائنل میں پہنچنے اور دیگر دو ٹیموں (پاکستان وائٹ اور پاکستان بلیوز) کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کے لیے گولڈ کو یہ ہدف ہر صورت 32.2 اوورز میں حاصل کرنا تھا۔173 رنز کے تعاقب میں پاکستان گولڈ کا آغاز اچھا نہ رہا جب ان کے ان فارم اوپنر شامل حسین صرف 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کے بعد ون ڈاؤن پوزیشن پر آنے والے مڈل آرڈر بیٹر کامران غلام نے انتہائی پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا۔ ان کی دلکش بیٹنگ دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اکیلے ہی میچ جتوا دیں گے، جس کی وجہ سے پاکستان وائٹ کی ٹیم شدید دباؤ میں نظر آئی۔تاہم، دوسرے اوپنر محمد اخلاق 15 اور پھر کامران غلام کے 30 پر آؤٹ ہونے سے میچ کی صورتحال بدل گئی۔ تین وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان گولڈ پر دباؤ بڑھ گیا ۔اس وقت سکور 61 تھا۔ اس نازک موڑ پر مڈل آرڈر کے جارح مزاج بیٹر حیدر علی وکٹ پر آئے۔ ان سے قبل سعد خان ا چکے تھے دونوں نے تیزی کے ساتھ اسکور کو اگے بڑھانا شروع کیا۔دونوں نہایت ذمہ دارانہ انداز میں ہدف کی جانب بڑھتے گئے۔
پاکستان گولڈ نے ہمت نہیں ہاری اور اس کے کھلاڑیوں سعد خان اور حیدر علی نے چوتھی وکٹ پر جاندار، فتح گر مزاحمت کی۔دونوں سکور کو 25 ویں اوور میں 147 رنز تک لے گئے یہاں پر سعد خان 33 رنز بنا کر اؤٹ ہوئے انہوں نے 55 گیندوں کا سامنا کیا۔دونوں کے درمیان 86 رنز کی شاندار اور میچ وننگ پارٹنرشپ قائم ہوئی۔اس سے قبل حیدر علی نے 39 گیندوں پر اپنی ہاف سنچری مکمل کر لی تھی۔ اگلے اوور میں نئے کھلاڑی عبدالصمد شاہ زیب کی گیند پر علی رضا کے ہاتھوں صفر پر کیچ ہوگئے ۔حیدر علی موجود تھے۔ ان کا اعتماد کم نہیں ہوا۔انہوں نے 28اوورز میں اپنی ٹیم پاکستان گولڈ کو 5 وکٹ کی جیت دلوا دی اور ٹیم کو فائنل پہنچا دیا ۔حیدر علی جنہوں نے 39 بالز پر ہاف سنچری مکمل کی تھی،وہ 47 گیندوں پر 69 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے،مبشر نے 10 ناٹ آؤٹ کئے۔شاہنواز دھانی ، صائم ایوب اور علی رضا نے ایک ایک اور محمد وسیم نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
چیمپئنز کپ 2026 فائنل۔پاکستان گرینز بمقابلہ پاکستان گولڈ۔18 اگست 2026۔ملتان انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم ملتان
پاکستان گرینز 6 پوائنٹس
پاکستان گولڈ 2 پوائنٹس
پاکستان بلیوز 2 پوائنٹس
پاکستان وائٹس 2 پوائنٹس
