آئی سی سی کا 14ویں عالمی کپ کو گاندھی ڈے سے شروع کرنے کا مینوئل پلان۔کرکٹ سیاست اور برادری کاممکنہ ردِعمل، تجزیہ،تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک
حافظ محمد عمران عثمانی
عالمی کرکٹ کے مروجہ حلقوں سے اس وقت ایک بہت بڑی اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ کرکٹ کی معتبر بین الاقوامی ویب سائٹ ‘کرک بز’ کی لائیو بریکنگ رپورٹ کے مطابق، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اس وقت ایک ایسی انوکھی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جس کے تحت اگلے سال جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے عالمی کپ کا باقاعدہ آغاز اپنے اصل شیڈول سے ایک ہفتہ پہلے، یعنی دو اکتوبر کو مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش کے عالمی دن کی مناسبت سے کیا جائے۔ اگرچہ آئی سی سی نے ابھی تک اس پلان کا کوئی حتمی دفتری اعلان یا منظوری نہیں دی ہے، لیکن کرک بز کی اس خبر کے سامنے آتے ہی عالمی کرکٹ ڈپلومیسی اور لابیوں کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہیں سے میرا کرکٹ تبصرہ اور اہم سوالات شروع ہوتے ہیں۔اگر ہم کرکٹ کی تاریخ کا باریکی سے جائزہ لیں، تو 1975 سے لے کر اب تک کل 13 عالمی کپ کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں اور 2027 کا یہ ایونٹ کرکٹ تاریخ کا 14واں معرکہ ہوگا۔ لیکن کرکٹ کی اس 50 سالہ طویل تاریخ میں آئی سی سی یا کسی بھی میزبان ملک نے کبھی ایسی مثال قائم نہیں کی کہ کسی عالمی کپ کا آفیشل کلاک کسی سیاسی یا قومی رہنما کے یادگار دن کی مناسبت سے آن ہوا ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی کو اس 14 ویں ایڈیشن میں یہ انوکھا تجربہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ سچ یہ ہے کہ اس وقت کی مشکل اور منقسم دنیا میں آئی سی سی امن اور عدم تشدد کے اس پیغام کو کھیل کی بقا اور اپنے تشخص کے لیے ایک مثبت ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، جہاں بھارتی لابی کا سفارتی وزن اور جنوبی افریقہ کی تاریخ دونوں مل کر ایک نئی عالمی مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر ہم اس تجویز کو دنیا کے موجودہ کشیدہ اور پولرائزڈ حالات کے تناظر میں دیکھیں، تو یہ عالمی برادری کے لیے امن اور محبت کا ایک انتہائی مثبت اور جاندار پیغام ثابت ہو سکتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی کے 21 سال جنوبی افریقہ کی دھرتی پر گزارے اور وہ وہاں کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ رہے، اس لیے آئی سی سی کا اس دن کی مناسبت سے ایونٹ کا آغاز کرنا کھیل کو محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ عالمی یکجہتی کا ایک بڑا ذریعہ بنا دے گا۔ اس کڑوے دور میں جہاں دنیا تقسیم کا شکار ہے، کرکٹ کے ذریعے امن کا یہ درس ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور اس کے مثبت اثرات دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔لیکن اس کا دوسرا تیکھا رخ یہ ہے کہ اگر آئی سی سی اس تجویز کو حتمی طور پر منظور کر لیتی ہے، تو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پاکستانی عوام اس ممکنہ تبدیلی کو کس نظر سے دیکھیں گے اور اس کے کیا منفی اثرات ہوں گے؟ اگر ہم روایتی جذباتیت کو سائیڈ پر رکھ کر مکمل غیر جانبداری سے اس کا جائزہ لیں، تو جنوبی افریقہ اور بھارت کا یہ تاریخی رشتہ سچا ہے اور تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن چونکہ یہ پلیٹ فارم کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ آئی سی سی کا ایک عالمی ایونٹ ہے، اس لیے یہاں سوالات اور تحفظات کا اٹھنا بھی فطری عمل ہے۔ پاکستان میں عام شائقین اور پی سی بی کی نظر میں اس بات کو آئی سی سی پر بھارتی لابی کے بڑھتے ہوئے غیر معمولی اثر و رسوخ کے طور پر دیکھا جائے گا، جس کا ایک واضح منفی نفسیاتی اثر پڑ سکتا ہے۔ایسی صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ممکنہ ردِعمل کیا ہو سکتا ہے؟ پی سی بی آئی سی سی کے اندر اپنے سخت تحفظات کا مینوئل دفتری ریکارڈ جمع کروا سکتا ہے اور یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ عالمی پلیٹ فارم پر کسی ایک ملک کی سیاسی یا قومی علامتوں کو شامل کرنے سے کھیل کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر زور دے سکتا ہے کہ شیڈول کی تبدیلیاں صرف اور صرف کھیل کے قواعد، موسم اور لاجسٹکس کے مروجہ اصولوں کے تحت ہونی چاہئیں، نہ کہ کسی سیاسی لابی کے دباؤ کے تحت۔ تاہم، ایک سینیئر جرنلسٹ کے طور پر میرا ماننا ہے کہ کھیل کو ہمیشہ سیاست اور لابیوں سے بالاتر ہو کر عالمی امن کے فروغ کا ہتھیار بننا چاہیے۔ آئی سی سی کے فائنل فیصلے تک یہ بات کرکٹ برادری کے لیے ایک دلچسپ گورکھ دھندا بنی رہے گی۔
