کریک اگین خصوصی رپورٹ۔ کیا محمد رضوان کو آئی سی سی جانا چاہیے تھا؟ ماہرِ قانون نے ممکنہ جواب اور بڑی بات کہہ دی۔
کرکٹ کی بریکنگ نیوز اب صرف کھیل کے میدان سے نہیں، بلکہ قانون کے بند کمروں سے آ رہی ہے اور اس وقت ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر محمد رضوان کا معاملہ کیا ہے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے، ان کی یہ گہری خاموشی شائقین کے دلوں میں کئی شکوک و شببات پیدا کر رہی ہے۔ ادھر یہ اسٹار کرکٹر راتوں کی نیندیں گنوا چکا ہے، اسے کھیل سے زیادہ اب اپنی اس ساکھ کی فکر کھائے جا رہی ہے جسے کمانے میں اس نے زندگی لگا دی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نوٹس بھیجنے کے بعد سے تحقیقاتی ادارہ بھی یوں چپ بیٹھ گیا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، کوئی نیا سوال نہ کوئی جواب۔ رضوان نے گرتے کو تنکے کا ڈھونڈتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن وہاں سے بھی وہ امید بر نہ آئی جس کی وہ آس لگائے بیٹھے تھے۔ تھک ہار کر انہوں نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو خط لکھا، مگر وہاں سے بھی فی الحال صرف بظاہر ایک سرد خاموشی ملی ہے۔
کھیل کے حلقوں میں ابھرتی کرکٹ کی تازہ ترین خبریں اشارہ کر رہی ہیں کہ اس سارے منظر نامے میں اب ایک ایسی شخصیت کا دھماکے دار بیان سامنے آیا ہے، جس نے 2010 کے لارڈز ٹیسٹ کے اس بدنامِ زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پی سی بی کی قانونی مدد کی تھی۔ اس ماہرِ قانون کی انٹری نے اس پورے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔یہ موجودہ تنازعہ بظاہر دیکھنے میں 2010 کے اسی بھیانک خواب کی یاد دلاتا ہے اور دونوں میں ایک عجیب سی مماثلت نظر آتی ہے۔ وہی لارڈز کا تاریخی میدان، وہی پاکستان اور انگلینڈ کا آمنا سامنا اور وہی سنگین الزامات کی گونج۔ بس فرق اتنا ہے کہ اس بار پسِ پردہ کوئی خفیہ اسٹنگ آپریشن نہیں ہوا۔
پاکستان کے مایہ ناز قانونی دماغ، تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ ابھی سے اس معاملے کو 2010 کی تکرار قرار دینا تھوڑا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ جب تک انکوائری اپنی آخری حد کو نہیں چھو لیتی، تب تک اصل سچائی کے چہرے سے نقاب نہیں اٹھے گا۔رضوی کا ماننا ہے کہ رضوان کو آئی سی سی کا رخ کر کے شاید جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جب ان سے اس بارے میں تفصیلی بات کی گئی تو انہوں نے بڑا سیدھا سا نکتہ سمجھایا کہ آئی سی سی خود بھی یہی چاہتی ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی پہلے اپنے ملک کے آئین اور قانون کا احترام کرے۔ آئی سی سی کے اپنے اینٹی کرپشن کوڈ کا آرٹیکل 1.11 یہ صاف کہتا ہے کہ ان کے قوانین کا مقصد کسی ملک کے مقامی اور مجرمانہ قوانین کو بائی پاس کرنا یا انہیں نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا کوئی عمل قانون کی زد میں آتا ہے، تو ملکی عدالتیں اور قوانین ہر وقت آپ پر لاگو رہیں گے اور آپ کو اسی نظام کے تحت خود کو سچا ثابت کرنا ہوگا۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تفضل رضوی نے گفتگو میں ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض ایک نوٹس جاری ہو جانے یا کسی تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اس شخص نے کوئی گناہ کر دیا ہے یا اس پر جرم ثابت ہو گیا ہے۔ یہ تو بس معلومات اکٹھی کرنے کا ایک قانونی طریقہ کار ہے۔ اس نازک موڑ پر رضوان کے بارے میں کوئی بھی منفی رائے قائم کرنا یا ان کی سالہا سال کی کمائی ہوئی ساکھ اور ایمانداری پر انگلی اٹھانا سراسر ناانصافی ہوگی۔
رضوی نے اس معاملے کی اصل جڑ واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق آن لائن سٹے بازی اور جوئے کی ہر شکل ایک سنگین جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پاس یہ پورا قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے پاکستانی شہری، یا ملک کے اندر موجود کسی بھی شخص کو نوٹس بھیج سکے۔ اگر ایجنسی کو لگتا ہے کہ کسی کے پاس معاملے سے جڑی کوئی بھی اہم معلومات یا مواد موجود ہے، تو وہ اسے پوچھ گچھ یا انٹرویو کے لیے طلب کر سکتی ہے۔ یہ قانون کا ایک عام طریقہ کار ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔
