کینٹ ۔کرک اگین خصوصی رپورٹ۔پاکستان کی انگلینڈ پریکٹس میچ میں حیران کن فتح،سنچری بنانے والے سعود شکیل کا بڑا دعویٰ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم نے ہیڈنگلے لیڈز میں 19 اگست سے شروع ہونے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ سے ذرا قبل میزبان ٹیم کے لیے خطرے کا بڑا الارم بجا دیا ہے۔ کینٹ کاؤنٹی میں کھیلے گئے تین روزہ پریکٹس میچ میں پاکستان نے حیرت انگیز طور پر شاندار کم بیک کرتے ہوئے پروفیشنل کاؤنٹی کلب سلیکٹ الیون کے خلاف 7 وکٹوں سے ایک یادگار فتح اپنے نام کر لی ہے۔
کل تک پاکستان ٹیم کے حالات انتہائی خراب دکھائی دے رہے تھے اور پہلی اننگز کے خسارے کے بعد میچ ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، لیکن آج دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹرز نے چیلنج کو قبول کیا۔ بڑے عرصے بعد ٹیم نے چوتھی اننگز میں ہدف کا کامیابی سے تعاقب کر کے نہ صرف اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا بلکہ کرکٹ فینز کی امیدوں کو بھی دوبارہ روشن کر دیا ہے۔ پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 264 رنز کا ایک مشکل ہدف ملا تھا، جسے مہمان ٹیم نے صرف 57.1 اوورز کی بیٹنگ میں محض 3 وکٹیں گنوا کر باآسانی حاصل کر لیا۔
سعود شکیل کی ناقابلِ شکست سنچری اور امام الحق کی فارم میں واپسی
اس شاندار فتح کے اصل ہیرو مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل رہے، جنہوں نے برطانوی کنڈیشنز کے سامنے کمال پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 147 گیندوں پر 100 رنز کی شاندار اور ناقابلِ شکست سنچری اننگز کھیلی اور ٹیم کو منزل پر پہنچا کر ہی دم لیا۔ ان کے ساتھ ساتھ، اوپنر امام الحق بھی ایک طویل عرصے بعد بہترین فارم میں نظر آئے۔ انہوں نے 88 گیندوں پر 80 رنز کی انتہائی برق رفتار اننگز کھیلی، تاہم وہ معمولی انجری کے باعث ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر گراؤنڈ سے باہر منتقل ہو گئے۔ یاد رہے کہ ان سے قبل کپتان بابر اعظم بھی پہلی اننگز میں ہاتھ پر گیند لگنے سے زخمی ہو چکے ہیں۔ دیگر بلے بازوں میں وکٹ کیپر محمد رضوان 33 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ اویس ظفر 30 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور سعود شکیل کا بھرپور ساتھ دیا۔
علی عثمان کی تباہ کن باؤلنگ اور میچ کا پسِ منظر
اس سے قبل، میچ کے آخری دن میزبان کاؤنٹی سلیکٹ الیون اپنی دوسری اننگز میں پاکستانی باؤلرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور محض 194 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے اسپنر علی عثمان نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور صرف 42 رنز دے کر 5 اہم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جس کا پاکستان کو بھرپور فائدہ ملا۔ اگر میچ کے مجموعی احوال پر نظر ڈالی جائے تو میزبان کاؤنٹی الیون نے ٹاس جیت کر پہلی اننگز میں 305 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز شدید مشکلات کا شکار ہو کر 238 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ تاہم، باؤلرز کی شاندار واپسی اور بیٹرز کی دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے 264 رنز کا ہدف صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
انگلینڈ والے جیسی مرضی پچز بنائیں، ہم مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔سعود شکیل
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سنچری میکر اور ٹیم کی فتح کے ہیرو سعود شکیل نے اس شاندار کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی سے ہمیں دورہ انگلینڈ میں بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور ٹیم کا مورال بلند ہوگا۔ پچ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شروع میں وکٹ بیٹنگ کے لیے بہت مشکل تھی، خاص طور پر ابتدائی دنوں میں یہاں بلے بازی کرنا ایک چیلنج تھا کیونکہ اسپنرز کو پچ سے بڑی مدد مل رہی تھی، لیکن جوں جوں گیند اور پچ پرانی ہوتی گئی، یہاں بیٹنگ کرنا آسان ہوتا چلا گیا۔
پاکستان بیٹنگ لائن پریکٹس میچ میں ناکام،238 پر ڈھیر،بابر اعظم انجری اپ ڈیٹ آگئی
سعود شکیل نے کمال دیانتداری سے تسلیم کیا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ملکی سرزمین سے باہر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہم ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکے تھے، لیکن وہاں آخری میچ میں کامیابی حاصل کر کے ہم نے سیریز ایک ایک سے برابر کی تھی، اور اس کم بیک کا نفسیاتی فائدہ ہمیں اب انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ضرور ملے گا۔ انہوں نے میزبان ٹیم کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ والے اب ہمارے خلاف جیسی مرضی پچز تیار کریں، ہم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم اور ساتھی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بھی اسی فتح کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔
