شکست کے بعد سلمان علی آغا نے بابر اعظم کو کپتانی واپس دینے پر کیا کہا۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
لیڈز ۔کرک اگین رپورٹ
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا لیڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں ایک اننگز اور 103 رنز کی شکست کے بعد پریس کانفرنس میں آئے تو ان کی باڈی لینگویج ایک ایسے کپتان کی تھی جس کی ٹیم ابھی ابھی بری طرح ہاری تھی۔ سوال بھی اسی پس منظر میں ہوا کہ اگر اگلے ہفتے بابر اعظم واپس آجاتے ہیں اور کپتانی سنبھالتے ہیں تو کیا سلمان علی آغا انہیں کپتانی دیتے ہوئے خوشی محسوس کریں گے؟
سلمان علی آغا نے سوال سنتے ہی فوری جواب دیا، کیوں نہیں۔ انہوں نے بابر اعظم کو پاکستان کا لیڈنگ اسکورر قرار دیا اور ان کی واپسی کی خواہش ظاہر کی۔
یعنی سلمان علی آغا نے اپنی پہلی ٹیسٹ کپتانی کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی کہ وہ مستقل کپتان بننے کے خواہش مند ہیں۔ بلکہ بابر اعظم کی واپسی کی صورت میں کپتانی انہیں واپس دینے پر آمادگی ظاہر کردی۔
لیڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 409 رنز بنائے جبکہ پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 171 اور دوسری اننگز میں صرف 135 رنز بناسکی۔
شکست کے بعد سلمان علی آغا نے کارکردگی میں تسلسل کی کمی کو بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تسلسل کے ساتھ اچھی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ انگلینڈ نے اس میچ میں تینوں دن اچھی کرکٹ کھیلی جبکہ پاکستان ایسا نہیں کرسکا۔
سلمان آغا نے کہا کہ یہ کرکٹ ہے، جس دن ایک ٹیم اچھا کھیلتی ہے وہ میچ پر حاوی ہوجاتی ہے۔ پاکستان کی ٹیم میں صلاحیت موجود ہے، کوئی گارنٹی نہیں ہوتی لیکن ٹیم بیٹھے گی، سوچے گی اور کم بیک کرے گی۔
انگلینڈ کے دورے کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں کنڈیشنز مختلف ہوتی ہیں اور پاکستان کو انگلینڈ پہنچے صرف ایک ہفتہ ہوا تھا، جو کنڈیشنز کو سمجھنے کے لیے کافی وقت نہیں تھا۔
پاکستانی کپتان نے بولنگ اٹیک کے تجربے کی کمی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق محمد عباس کے پاس تجربہ ہے جبکہ باقی بولرز زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت موجود ہے اور اگر ٹیم کنڈیشنز کے مطابق کھیلے تو جیت سکتی ہے۔
پاکستان کی بیٹنگ کی ناکامی بھی شکست کی بڑی وجہ بنی۔ 171 اور 135 رنز کی اننگز اس بات کا ثبوت تھیں کہ پاکستانی بیٹرز انگلش بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے۔ سلمان علی آغا نے بھی تسلیم کیا کہ کارکردگی میں تسلسل نہیں تھا۔
سینئر کھلاڑیوں کے مسلسل اسکور نہ کرنے کے سوال پر سلمان آغا نے کہا کہ دو تین سیریز سے کچھ سینئر کھلاڑی مسلسل اسکور نہیں کر رہے، لیکن ماضی میں انہی کھلاڑیوں نے کئی پارٹنرشپس بنا کر پاکستان کو میچ جتوائے اور مشکل حالات سے نکالا ہے۔
اور پھر بات بابر اعظم تک پہنچی۔
سلمان علی آغا سے پوچھا گیا کہ اگر بابر اعظم اگلے ہفتے واپس آتے ہیں اور کپتانی سنبھالتے ہیں تو کیا وہ انہیں کپتانی دیتے ہوئے خوشی محسوس کریں گے؟
سلمان آغا نے فوراً مثبت جواب دیا۔ انہوں نے بابر اعظم کو پاکستان کا لیڈنگ اسکورر قرار دیتے ہوئے ان کی واپسی کی خواہش ظاہر کی۔
یہ جواب اس لیے بھی اہم تھا کہ سوال اس وقت ہوا جب پاکستان لیڈز میں بھاری شکست کھا چکا تھا اور سلمان علی آغا ایک شکست خوردہ کپتان کی حیثیت سے پریس کانفرنس کررہے تھے۔ ایسے میں ان کا بابر اعظم کی واپسی اور کپتانی کے حوالے سے کھلے دل سے جواب دینا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ بابر اعظم کی جگہ مستقل کپتانی کا دعویٰ نہیں کررہے۔
ہیڈنگلے کی ذلالت اور مکافاتِ عمل،ہیروز کی توہین کا عبرت ناک انجام
بابر اعظم کی انجری کے باعث سلمان علی آغا کو قائم مقام کپتان بنایا گیا تھا۔ اب اگر بابر اعظم فٹ ہوکر واپس آتے ہیں تو سلمان آغا کے اپنے الفاظ کے مطابق وہ کپتانی واپس دینے میں خوش ہوں گے۔
لیڈز میں شکست کے بعد پاکستان کے لیے اگلا چیلنج سیریز میں واپسی کا ہے، لیکن اس کے لیے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں کو اپنی کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا۔
